Site icon Daily Pakistan

مقبوضہ وادی میں بھارتی ظالمانہ پالیسیاں

کشمیر میڈیا سروس نے آج ایک رپورٹ میں کہا کہ اگست 2019 سے اب تک مقبوضہ وادی میں 1050 کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A کی غیر قانونی منسوخی کے بعد بھارتی ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید نے کہا کہ شہادتوں ، ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریوں، تشدد اور املاک کی تباہی میں یہ اضافہ بھارت کی غیر قانونی اور ظالمانہ پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے آج سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا مقصد بھارت میں کشمیریوں پر جاری حملوں کی مذمت کرنا تھا۔پارٹی کارکنوں نے مظاہرے کے حصے کے طور پر مین روڈ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے باہر سے گیٹ بند کر کے انہیں روک دیا۔ پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیریوں کو علاقے میں محصورکر دیا جاتا ہے اور روزی روٹی کمانے یا تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کے دوران باہر "مارا پیٹا” جاتا ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں قابض فوجیوں نے ضلع کشتواڑ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔قابض فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران جھڑپ کے بعد ڈرون ، سراغ رساں کتے اور ہیلی کاپٹر تعینات کیے ہیں۔بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی میں آج ضلع کشتواڑ میں3نوجوان شہید کردیے ۔ فوجیوں نے کارروائی کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے چھاترو کے جنگلات میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا۔فوجیوں کی طرف سے کیمیائی مواد کے استعمال کی وجہ سے شہید نوجوانوں کی لاشیں ناقابل شناخت ہوگئیں ۔ بڑے پیمانے پرجاری بھارتی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے علاقے کے لوگ شدید مشکلات اور خوف و ہراس کا شکار ہیں۔مقامی لوگوں نے نوجوان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری ظلم وجبر کی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تسلسل قراردیا۔عالمی تاریخ کا سب سے طویل فوجی محاصرہ جھیلنے والی مظلوم کشمیری قوم آج بھی بدستوراسیری کی زندگی جینے پرمجبور ہیں۔ بظاہر تو دنیا کیلئے یہ بات صرف ایک خبر معلوم ہوتی تھی تاہم جب کورونا وباء نے عالمی سطح پر تباہی مچائی تو کئی ممالک کو چند دنوں یا ہفتوں کیلئے اپنے مختلف شہروں میں لاک ڈاؤن لگانا پڑ ا تھاجس کے نتیجے میں ان ممالک کی نہ صرف معاشی حالت دگرگوں ہوئی بلکہ کئی ممالک میں عوام لاک ڈاؤن سے تنگ آکر سڑکوں پر نکل آئے اور شدید مظاہرے کیے۔ احتیاط کی غرض سے چند دنوں کیلئے اپنے گھر تک محدود نہ رہ پانیوالی قومیں شاید ہی کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو سمجھ سکیں۔ یقینا جانی و مالی تحفظ اور سیاسی و معاشرتی آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے مگر مقبوضہ کشمیر میں محصور عوام کو گزشتہ چھ سال سے سخت لاک ڈاؤن کا سامنا ہے اور بھارت نے اس خطے میں بلیک آؤٹ کررکھا ہے جس کی وجہ سے دنیا مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے آگاہ نہیں ہوپارہی۔اس دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں سینکڑوں نوجوانوں کو شہید وہزاروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔معیشت کے جمود کے باعث بھوک اور فاقوں کے حالات پیدا ہوچکے ہیں۔ کشمیری انتہائی ہمت و استقامت سے بھارتی مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیںاور یہ سب کچھ برداشت کرتے ہوئے عالمی برادری کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارت کی جانب سے کشمیری اراضی پر قبضہ اور ہندتوا کے پیروکاروں کی کشمیری علاقوں میں منتقلی کیخلاف عوام بدستور مزاحمت کررہے ہیں۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے وہاں کی اقلیتیںہندتوا نظریے کے زیر عتاب رہی ہیں تاہم مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میںانسانیت سوز مظالم کی ایسی داستان خونچکاں لکھی ہے جسے شاید تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی اور آنیوالی نسلیں بھی بھارت کا تذکرہ کرکے منہ نفرت سے موڑ لیا کرینگی ۔ تاریخ میں 5اگست2019 وہ سیاہ ترین دن تھاجب بھارت نے آرٹیکل370 اور 35 اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا تھا جس کے تحت کشمیریوں کا اپنا علیحدہ آئین، علیحدہ پرچم اور تمام قانونی و آئینی معاملات میں علیحدہ نقطہ نظر رکھنے کی کم از کم آئینی طور پر ہی سہی، مکمل آزادی تھی۔ اس آرٹیکل کے خاتمے کے ساتھ کشمیریوں کے بنیادی حقوق جو بھارت ایک طویل عرصے سے سلب کیے ہوئے ہے ، قانونی و آئینی طور پر بھی ختم کردئے گئے تھے۔ اس عمل کے پیچھے ہندتوا کا انتہا پسندانہ نظریہ موجود تھاجس کے تحت ایک جانب تو بھارت کے اندر مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے بنیادی حقوق چھین لیے گئے اور پھر عالمی برادری نے دیکھا کہ اس انتہاپسندانہ نظریے کے منفی اثرات سے بین الاقوامی سرحدیں بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔اس کے علاوہ بھارتی افواج کی جانب سے کشمیری نوجوانوں پر پیلٹ گن کے استعمال کے ذریعے انھیں بینائی سے محروم کرنے کے مذموم منصوبے پر کام جاری رہا جس میں سینکڑوں نوجوان اور معصوم بچے بصارت سے محروم ہوگئے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 446 افراد کوپیلٹ گنز سے نشانہ بنا کر زخمی کیا گیا جن میں سے 144 افراد کی آنکھیں شدید زخمی ہوئیںجبکہ 53 افراد آنکھوں کی روشنی سے محروم ہوئے۔کشمیر ی خواتین اور بچے بھی قابض بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہوئے ہیں۔قابض بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری بنا خوف و خطر کی جاتی ہے۔کشمیری خواتین کی عزتوں سے کھلواڑ صرف ہوس کے مارے بھارتی فوجی اہلکاروں کا انفرادی جرم ہی نہیں بلکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کچلنے کیلئے ریاستی دہشتگردی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ـا ن کے شوہروں ، بھائیوں اور بیٹوں کو آنکھوں کے سامنے بیدردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مردوں کے سامنے ا ن کی عورتوں کی جبری عصمت دری کی جاتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی گھاؤ ہے جس کے ذریعے کشمیری مرد و خواتین کوشدید اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری خواتین اپنے وطن میں امن اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں۔ ظلم و ستم، کریک ڈاؤن، جعلی مقابلوں ، گمشدگیوں، بہیما نہ تشدد، اورقتل و غارت کے باوجود کشمیری خواتین پختہ عزم کے ساتھ کھڑی ہیں۔

Exit mobile version