مقبوضہ کشمیر میں انتہا پسند ہندووَ ں کی آبادکاری

21

مودی حکومت مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ جمانے اور ہندووَں کی آبادکاری کےلئے کوشاں ہے ۔ نہتے کشمیر یوں پر ظلم و ستم کر کے، کشمیریوں کو کشمیر سے بے دخل کر کے ، غرض ہر صورت میں وادی پر اپنا مکمل قبضہ چاہتی ہے ۔ گویا بی جے پی کی قیادت میں ہندتوا حکومت ، نازی نظریہ سے متاثر ہوکر مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بدلنے کےلئے ہر حد کو عبور کر چکی ہے ۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اعلان کے مطابق دہلی کی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندووَں کو الگ بستی فراہم کرے گی ۔ مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی طرف یہ پہلا قدم ہے ۔ اس سے قبل ہندوستان غیر کشمیری سرمایہ کاروں کےلئے 60000کنال اراضی پہلے ہی فراہم کرچکی ہے ۔ بھارتی سرکار کا منصوبہ یہ ہے کہ سرکاری فرنٹ مین وہ زمین خریدیں گے ۔ ایک ہندو مندر کو بھی 1000 کنال اراضی فراہم کی گئی ہے ۔ جموں میں مسلمانوں سے 4 ہزار کنال سے زائد اراضی ہتھیائی گئی ہے ۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’’ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ‘‘نے جھوٹے مقدمے میں نظر بند معروف کشمیری تاجر ظہور احمد وٹالی کی ضلع بڈگام میں چھ کروڑ روپے مالیت کی اراضی قبضے میں لے لی ۔ بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری برائے کشمیر رام مدھو نے کہاتھا کہ ان کی پارٹی دو سے تین لاکھ ہندوپنڈتوں کو کشمیر میں بسانے کے لئے پر عزم ہے ۔ اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں ہندووَں کو دوبارہ آباد کرنے کےلئے محفوظ کیمپوں کی تعمیر کے منصوبے کو بحال کریگی ۔ دنیا کا ہر ملک کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت پر نالاں ہے اورکثیرجہتی عالمی فورمز پر بھارتی سیکیورٹی فورسزکی بہیمانہ فوجی کارروائی کیخلاف کھل کر تنقید کرتا ہے، اس میں ایک تو بھارت کی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے بنیادی استصواب رائے کے حق کو تسلیم نہ کرنا اور دوسرے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد اب وادی کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں کرنے کی سر توڑ کوشش ہے ۔ بھارت اور اسرائیلی گٹھ جوڑ ایک عالمی حقیقت بن چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور لاک ڈاءون کے بعد بڑی تعداد میں اسرائیلی مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے ہیں ۔ علاقے میں دیکھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی سیاحوں کی کثیرتعداد اب لیہہ کے سارے علاقہ میں سڑکوں سے لے کر ہوٹلوں تک اور ریستورانوں سے بودھ راہبوں کی خانقاہوں تک ہر جگہ موجود ہیں ۔ لیہہ کے بازاروں اور عام مقامات پر جگہ جگہ لداخی اور عبری (اسرائیلی) زبانیں بولی اور سنی جارہی ہیں ۔ اکثر دکانوں کو بھی اسرائیلی سیاحوں اور گاہکوں کے مزاج کے مطابق ضروریات کے ساز و سامان سے آراستہ کیا گیا ہے ۔ مودی حکومت منظم اور مربوط طریقے سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کشمیر کی ڈیموگرافی کی تبدیلی پرکمربستہ ہے ۔ نیو یارک میں کشمیری پنڈتوں اور بھارتی باشندوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی قونصل جنرل نے اعتراف کیا کہ نریندر مودی انتظامیہ کشمیر میں ہندو آبادی کو نوآبادیاتی یقینی بنانے کےلئے اسرائیل کی طرز پر قائم کردہ قبضہ بستیوں کی تعمیرکرے گی ۔ اگراسرائیل فلسطینی علاقوں میں اپنے لوگوں کوآبادکرسکتا ہے تو ہم بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے کشمیر میں ہندووَں کو بسا سکتے ہیں ۔ اس اعتراف سے حریت قیادت کے موقف کی تصدیق ہوگئی کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب بگاڑنے اور کشمیریوں کو اپنے وطن میں بے گھرکرنے کےلئے اسرائیلی ہتھکنڈے آزما رہا ہے ۔ بھارت کشمیر کی تقسیم کے خنجر سے کشمیر کے قلب کوگھائل کر رہا ہے ۔ مودی حکومت کشمیرکے جغرافیہ کو بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ اسے کشمیرکی قانونی حیثیت کو بدلنے کا کوئی حق نہیں ۔ اس ناروا اقدام کو بدلنا ہوگا ۔ یہ صورتحال دیر تک جاری نہیں رہے گی ۔ کشمیر میں ایک سناٹا چھایا ہوا ہے ۔ لوگوں کی خاموشی معنی خیز اور اسٹرٹیجک ہے ۔ ان کی خاموشی بول رہی ہے جب کہ مودی حکومت سچ کو دبا رہی ہے ۔ جموں وکشمیر کے عوام تصادم، جنگ یا لا متناہی جھگڑا نہیں چاہتے بلکہ اپنا حق خودارادیت چاہتے ہیں جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے اور جس کا وعدہ عالمی برادری نے کشمیریوں سے کر رکھا ہے ۔ یوں تو مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو گزشتہ 72سال سے قتل، جبری گمشدگیوں ، آنکھوں کی بصارت سے محرومی اور جنسی تشدد جیسے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کا پورا علاقہ مسلسل محاصرے، لاک ڈاءون اور مواصلاتی ناکہ بندی کی زد میں ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی سرزمین اور وہاں کے باشندے دونوں عذاب سے دوچار ہیں ۔ وادی کشمیر کی مجموعی آبادی ستر لاکھ سے زائد ہے جن میں 97 فیصد مسلمان ہیں لیکن فی الوقت ان ستر لاکھ مسلمانوں کا بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح افواج نے محاصرہ کررکھا ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے جاری کشیدگی میں پچاس ہزار سے زائد کشمیری لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ اور دوسری طرف کشمیریوں کی شہادت اتنی زیادہ ہے کہ شہریوں اور فورسز کے درمیان تناسب ایک فوجی بمقابلہ چھ شہری سے تبدیل ہوکر ایک فوجی بمقابلہ ایک شہری ہو جائے گا ۔ بھارتی فورسز تلاشیوں کے بہانے مسلمانوں کے گھروں میں گھس جاتی ہیں اور پھر کوئی بہانہ بناکر گھروں کو بارودی مواد سے تباہ کردیتی ہیں ۔ یہ ایسی زیادتیاں ہیں جو عالمی دنیا کو نظر نہیں آتیں یا وہ قصداً ان کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ ماضی میں بھی بھارت نے مقبوضہ وادی میں ہندو پنڈتوں کی بستیاں بسانے کی کوشش کی تھی تاکہ کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو کم کیا جائے ۔ مردم شماری میں بھی کئی دفعہ غلط اعدادو شمار کے ذریعے ہندووَں کی اکثریت دکھانے کی کوشش کی مگرریاستی انتظامیہ کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں زور دار احتجاج شروع ہو گیا ۔ لوگ کرفیو کی پابندیاں توڑ کر سڑکوں پرنکل آئے لوگوں نے ایک بڑا جلوس نکالا جو آزادی کے حق میں نعرے لگا رہاتھا ۔ وہاں موجود ظالم پولیس نے جلوس پر لاٹھی چارج شروع کر دیا ۔ بڑے پیمانے پر نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ لوگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کشمیر میں ہندووَں کی بستیاں اور اور ان کی بڑھتی آبادی قبول نہیں ۔ بھارت کی جنتا پارٹی اور راشٹریا سوائم سیوک سنگھ کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اسرائیل کی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں نئی آبادیاں تعمیر کر کے مقبوضہ علاقے میں اپنا غیر قانونی قبضہ مستحکم کرے اور کشمیریوں کو ان کی اپنی زمین اور گھروں سے محروم کریں ۔ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور کشمیریوں کو مکمل تباہی و بربادی سے بچانے کےلئے ایک بین الاقوامی اتحاد بنایا جائے ۔