Site icon Daily Pakistan

مقبوضہ کشمیر میں عید کی نماز پر پابندی

غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی قابض انتظامیہ نے آج ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کو تاریخی جامع مسجد سرینگر اور عیدگاہ میں عید الاضحی کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نئی دلی کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت انتظامیہ نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پرسرینگر میں جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز عیدکے اجتماعات پرپابندی عائد کر دی۔اگست 2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے بھارتی قابض انتظامیہ نے جامعہ مسجد اور عیدگاہ میں نماز عید کے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ مسلسل آٹھواں سال ہے جب قابض انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کے دونوں تاریخی مذہبی مقامات پرنماز عید کے اجتماعات منعقد نہیں کرنے دیئے۔ادھر قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما، میر واعظ عمر فاروق کو نماز عید اداکرنے سے روکنے کیلئے گھر میں نظربند کردیا۔بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سالانہ ہندو امرناتھ یاترا کے لیے نام نہاد سیکیورٹی انتظامات کی آڑ میں 670 کمپنیوں پر مشتمل نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔بھارتی وزارتِ داخلہ کے حکام نے بتایا کہ سالانہ ہندو یاترا کیلئے مرکزی مسلح پولیس فورسز کی یہ تعیناتی اب تک کی سب سے بڑی سکیورٹی تعیناتی ہوگی۔57روزہ امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست تک جاری رہے گی۔بھارت نے کشمیر پر اپنا غیر قانونی تسلط قائم کرنے کیلئے پہلے ہی 10 لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کے سب سے زیادہ عسکری موجودگی والے علاقوںمیں شمار کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت امرناتھ یاترا کیلئے جس بڑے پیمانے پر انتظامات کرتی ہے وہ اس بات کا مکمل غماز ہے کہ وہ اسکی آڑ میں اکثریتی مسلم آبادی کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے کی ایک منصوبہ بند پالیسی پر عمل پیرا ہے۔یاترا میں شرکت کیلئے مختلف بھارتی ریاستوں سے ہربرس لاکھوں یاتری مقبوضہ وادی کشمیر آتے ہیں۔ بھارتی حکومت کی حفاظت کیلئے پیرا ملٹری کی اضافی کمپنیاں مقبوضہ وادی میں روانہ کردیتی ہے ، بھارتی وزارت داخلہ نے اس برس بھی پیرا ملٹری سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی 670اضافی کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ہندو یاتریوںکی مقبوضہ وادی میں آمد سے علاقے کے قدرتی ماحول پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔بھارتیہ جنتاپارٹی کی ہندو توا بھارتی حکومت ایک طرف ہندو یاتریوں کو تمام سہولیات فراہم کر رہی ہے ،جبکہ دوسری طرف اس نے مقبوضہ علاقے کے مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کیساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں۔ بھارتی انتظامیہ نے اس مرتبہ مسلسل آٹھویں برس کشمیری مسلمانوں کوسرینگرکی عید گاہ اور تاریخی جامع مسجد میں عید الاضحی کی نمازادا نہیں کرنے دی۔امرناتھ شرائن بورڈ اور انتظامیہ کی طرف سے یاترا کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے جاتے ہیں ، طبی کیمپ، اور لنگر لگائے جاتے ہیں۔ یاتریوں کے لیے خصوصی ہیلی کاپٹر خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔اسکے برعکس مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق سلب کیے جاتے ہیں۔عید الفطر، عید الاضحی اور جمعہ الوداع جیسے اہم ترین موقوع پر سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں نماز کی ادائیگی پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں۔علاقے میں محرم کے جلوس نکالنے اور دیگر مذہبی و ثقافتی تقریبات پر بھی سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر باقاعدہ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔بھارتی انتظامیہ کیطرف سے مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی نگرانی کی جاتی ہے، جو کشمیری مسلمانوں کے دینی معاملات میں صریخ مداخلت ہے۔یاترا کے دوران عام کشمیری شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت شدید متاثر ہوتی ہے، اور پورا خطہ ایک فوجی چھائونی میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے بنیادی انسانی حقوق بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 2026 کے پرامن اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) نے 670 کمپنیوں پر مشتمل سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ امرناتھ یاترا کی تاریخ میں نیم فوجی دستوں کی سب سے بڑی تعیناتی ہوگی، جس کا مقصد لاکھوں یاتریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہے۔ وزارت داخلہ اور جموں و کشمیر کی سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان کئی اعلیٰ سطحی میٹنگوں کے بعد سکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نیم فوجی دستوں کو انٹری پوائنٹ لکھن پور سے لے کر جنوبی کشمیر میں واقع امرناتھ گھپا تک مختلف حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔سکیورٹی فورسز کی تعیناتی بالتل اور پہلگام کے دونوں روایتی راستوں، ننون اور بالتل بیس کیمپوں، یاتری نواس جموں، جموں سرینگر قومی شاہراہ، پٹھانکوٹـجموں ہائی وے اور دیگر اہم مقامات پر کی جائے گی جہاں یاتریوں کی نقل و حرکت زیادہ رہتی ہے۔ اضافی نیم فوجی دستے جون کے پہلے ہفتے سے جموں و کشمیر پہنچنا شروع ہوجائیں گے جبکہ مکمل تعیناتی 25 جون تک مکمل کر لی جائے گی، تاکہ یاترا شروع ہونے سے قبل تمام حفاظتی انتظامات پوری طرح نافذ ہو سکیں۔بھارتی فوج بھی یاترا کے دوران اہم ذمہ داریاں انجام دے گی۔ فوج کی جانب سے امرناتھ گھپا اور یاترا راستوں کے اطراف واقع بلند پہاڑی علاقوں پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی، جبکہ جموں و کشمیر پولیس سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعہ یاترا کے دوران امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بالتل، چندن واڑی، ننون اور یاتری نواس جموں جیسے حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کئے جائیں گے۔شاہراہوں پر روڈ اوپننگ پارٹیز (آر او پیز )، ایریا ڈومینیشن پٹرولنگ اور نگرانی کے عمل میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ یاتریوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ جموں سرینگر ریلوے ٹریک، خاص طور پر وندے بھارت ایکسپریس ٹرین سروس کے تناظر میں، خصوصی نگرانی میں رہے گا۔ ادھم پور، کٹرہ، ریاسی، بانہال اور قاضی گنڈ ریلوے سیکشنز پر سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا جائے گا۔

Exit mobile version