Home » کالم » مقبوضہ کشمیر ۔ نسل کشی کے دہانے پر!

مقبوضہ کشمیر ۔ نسل کشی کے دہانے پر!

حرمت کا تحفظ،جان کی حفاظت ،ہرانسان کے جینے کا یکساں حق، خوف سے نجات،آزادی فکروخیال،سماجی،ثقافتی اورمعاشی آزادی،ظالم کی اطاعت سے انکارکا حق،سیاسی کارفرمائی میں شرکت کا حق،تحفظ ملکیت،عزت نفس،نجی زندگی کا حق،ضمیر واعتقاد کی آزادی،مذہبی دل آزاری کے تحفظ کا یقینی احساس اورآزادی اجتماع کاحق‘ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے جنیواکنونشن کے چارٹرز کے یہ اہم نکات ہیں انسانی حقوق کے اس عالمی دستاویزپر دنیا کے سبھی ممالک کی طرح بھارت نے بھی دستخط کیئے ہوئے ہیں اور امریکا نے بھی،دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس نے انسانی حقوق کے ان بنیادی جمہوری طے شدہ نکات کو تسلیم نہ کیا ہو، جنیواکنونشن کے اس عالمی انسانی حقوق کی ضمانت اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی اولین ذمہ داری ہے، ذرا ہم اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں کہ امریکا کی سرپرستی میں دنیا بھر میں کہاں کہاں انسانی حقوق کے بین السطور دئیے گئے نکات کو بالائے طاق رکھ کر انسانی حقوق کو کھلے عام کتنی بیدردی سے مجروح کیا جارہا ہے ان غیر انسانی امور کی پائمالیوں کی دھجیاں اڑانے والوں کو اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی حتمی شٹ اپ کال دی جارہی ہے نہ سلامتی کونسل کے مستقل پانچ ارکان کے علاوہ غیر مستقل ارکان اس جانب کوئی توجہ دے رہے ہیں ،اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی دیدنی بے بسی اور لاچاری سے یہ سیدھا سادھا مفہوم لیا جاسکتا ہے کہ انسانی حقوق کے یہ تمام عالمی ادارے جو براہ راست اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے طور پر مانے جاتے ہیں جنہیں اب خود مختار اور مقتدر مانا نہیں جاسکتا،بلکہ اگر یوں کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ خود اقوام متحدہ امریکا کا زیرنگیں ایک تنخواہ دارفورم ہے جس کی ڈوریاں پینٹاگان امریکی محکمہ دفاع کے ادارے سے ہلائی جاتی ہیں ،جس سے ظاہرہوتا ہے کہ’’اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی مقتدرانہ حیثیت‘‘ کے عالمی وقار اورعالمی دبدبے میں گزشتہ پچیس برسوں میں بہت تیزی سے تنزلی آئی ہے، گویا یوں کہاجائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کوامریکا سمیت دیگر مغربی خاص کراسرائیلی اور بھارتی حکومتیں ابتدا ہی سے اب تک منہ چڑاتی ہوئی نظرآئی ہیں مطلب یہ کہ دنیا کے کمزوراور پسماندہ اقوام اب یہ جان لیں کہ ’’اقوام متحدہ بے بس ہوچکا ہے‘‘چند مثالوں میں نمایاں فلسطین کی مثال ہے اورتازہ ترین مثال پانچ اگست کے بعد سے اب تک مقبوضہ کشمیر کی دنیا کے سامنے ہے جہاں انسانوں کی آہوں ،سسکیوں اور پکارتی فریادیں اب دم توڑتی ہوئی محسوس ہورہی ہیں دوسری جانب یہی حال بین الا اقوامی عدالت انصاف کا ہے مقبوضہ کشمیر میں لاگو کرفیو کو آج اڑتالیس دن گزرچکے جہاں نوے لاکھ سے زیادہ ایک کروڑ کے قریب انسانوں کے کالم کے ابتدا ء میں بیان کردہ وہ سارے انسانی حقوق نئی دہلی کی حکومت نے سلب کیئے ہوئے ہیں صدہا افسوس، بطور ’’لولی پاپ‘‘ امریکا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی زبانی کلامی بیان بازیاں چل رہی ہیں ، جنہیں نئی دہلی کی حکومت نے فٹ بال بناکر دنیا کو باور کرادیا ہے کہ نئی دہلی کی نظروں میں اقوام متحدہ اور اْس کے ذیلی اداروں کی کوئی وقعت واہمیت نہیں ‘ساتھ ہی دنیا کو یہ اور بتادیا کہ بھارت کا تعلق دنیا کی اْن ریاستوں جیسا ہے جو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے فیصلوں کا کھل کر انکار کریں تو کسی کی جرات نہیں کہ نئی دہلی کو اقوام متحدہ کے فیصلوں کا پابند کرے;238;دنیا بھر کے میڈیا برابر خبریں دے رہے ہیں برطانوی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹنگ میں کل ہی سنا گیا اور دیکھا گیاکہ مقبوضہ وادی کو کس بہیمانہ طور پر بھارتی فوج نے لاک ڈاوَن کیا ہوا ہے،پاکستان چونکہ مقبوضہ وادی کے اقوام متحدہ کی ستر سال قبل منظور کی ہوئی قرارداوں کا ایک ٹھوس اسٹیک ہولڈر ہے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں لڑی جا چکی ہیں پاکستان کو یکدم سے الگ کرکے مقبوضہ وادی کے بارے میں نئی دہلی خودسے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا،مقبوضہ کشمیر کے اصل کشمیریوں سے پوچھے بنا نئی دہلی حکومت اپنا خودساختہ کوئی فیصلہ کشمیر پر تھونپ نہیں سکتی، پھر یہ انتہائی گھمبیراور تشویش ناک صورتحال کیوں بنائی گئی;238; پانچ اگست سے تادم تحریر مقبوضہ کشمیرکے ایک کروڑ عوام کو اس قدر مجبور، بے بس، بے اختیاراورلاچار کردیا گیا، اْن سے زندہ رہنے کا حق چھین لیاگیا، جبکہ پاکستان نے عالمی ذمہ دار ملک ہونے کاثبوت دیا یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا جہاں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے کھلی جانبداری سے بھارت کے حق میں اپنا وزن ڈال دیا پاکستان اور کشمیریوں کا موقف سنے بغیر صرف ایک ’’ڈھیلے اورغیر موثر سے بیان ‘‘ پرعالمی ادارے نے اکتفا کرلیا;238; جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے،ہم بیس کروڑ پاکستانی عوام سمجھتے ہیں کہ کم ازکم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پریہ لازم تھا کہ بھارت کوجوابدہ بنایا جاتا لیکن یہ سب نہیں ہوا تو پھر یقین جانئے کہ آج بھارت جس مستی میں مستا رہا ہے وہ ہے امریکی سرپرستی،جو بھارت نے نائین الیون کے بعد سے امریکی ’’خرمستیوں ‘‘ سے شہ پاکر اپنالی ہے کم ازکم ہم پاکستانی عوام سمجھتے ہیں نئی دہلی نے مقبوضہ وادی کو آج جس بھیانک اور دہشت زدہ کرب واذیت کا نشانہ بنایا ہوا ہے اس کے پیچھے سوائے امریکا کے اور کوئی نہیں ہے،امریکا بھی اقوام متحدہ کی نہیں سنتا،امریکا بین الا اقوامی قوانین کی پاسداری بالکل نہیں کرتا، امریکا اپنے مخالفین کی تنقید برداشت نہیں کرتا، کیونکہ خود کو وہ یک قطبی سپرپاور سمجھتا ہے;238; بالکل ایسا ہی حال جنوبی ایشیا میں آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت نے اختیار کیا ہوا ہے، نئی دہلی کا عالمی قوانین سے مسلسل بے اعتنائی کا رویہ ہم پاکستانیوں اور مقبوضہ وادی کے محصور کشمیریوں کے نزدیک ایک اشارہ ہے کہ ’’اگر مودی اور ٹرمپ‘‘ انسانی حقوق کے کسی عالمی چارٹرزکو مسترد کردیں اور دنیا کی ایک واضح اکثریت کو موت کے منہ میں دھکیل دیں تو کوئی اْن کا بال تک بیکا نہیں کرسکتا;238; کیا ہم پاکستانی اور مقبوضہ وادی کے ایک کروڑ محصور قیدوبند کی شدید تکالیف جھیلنے والے قیدی مسلمان یہ صحیح مان لیں تو پھر دنیا بھی یہ مان لے کہ’’اقوام متحدہ کی عمارت اب ایک اجڑے ہوئے مزار کے سوا کچھ نہیں ہے اور اب بہت جلد نہ شرق کی بات ہوگی نہ غرب کی بات ہوگی مطلب یہ ہے کہ ’’غیروابستہ ممالک کی تنظیم‘‘ کے اجرا کو امریکا نے دوبارہ زندہ کرنے کے اسباب خود پیدا کردئیے ہیں ،اب بھارت اور امریکا جیسی استعماری طاقتوں کے خلاف ہر صورت میں ایک بہت طاقتور موثر اور فیصلہ کن علاقائی محاذ وقت کی آواز سمجھی جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative