Site icon Daily Pakistan

مقبوضہ کشمیر ۔ گمشدگیوں کا تسلسل اور عالمی خاموشی

یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی انسانی حقوق کے مباحث میں ایک اہم اور حساس موضوع کے طور پر زیر بحث رہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار نے اس مسئلے کو مزید سنگین اور تشویشناک بنا دیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سال دوہزارتئیس کے دوران بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں سات ہزارایک سواکاون افراد لاپتہ قرار دیے گئے۔ ان میں سے دوہزار نوسواکسٹھ افراد کو اسی سال کے اندر تلاش یا بازیاب کر لیا گیا جبکہ چارہزا ر ایک سونوے افراد سال کے اختتام تک بدستور لاپتہ رہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعداد و شمار محض قیاس آرائی یا سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ وہ حقائق ہیں جو خود بھارت کے سرکاری پارلیمانی ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔جان کاروں کے مطابق اگر گزشتہ چند برسوں کے رجحانات کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے۔ سال دوہزاربیس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانچ ہزار آٹھ سوچوبیس افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے تھے۔ دوہزاراکیس میں یہ تعداد بڑھ کر چھ ہزار چارسوچھیاسی تک پہنچ گئی، جبکہ دوہزاربائیس میں یہ مزید بڑھ کر چھ ہزار نوسوتراسی ہو گئی۔اسی طرح دوہزارتئیس میں یہ تعداد سات ہزار ایک سواکاون تک جا پہنچی۔ اس طرح چار برسوں کے دوران نہ صرف لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا بلکہ ان کیسز کی تعداد بھی بڑھی جو طویل عرصے تک حل طلب رہ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دوہزاربیس کے اختتام پر لاپتہ رہ جانے والے افراد کی تعداد تین ہزار آٹھ سو تیرہ تھی جو دوہزارتئیس کے اختتام تک بڑھ کر چارہزارایک سوانتیس ہو گئی۔ سفارتی ماہرین کے بقول یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ محض انفرادی واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل اور بڑھتے ہوئے رجحان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں عسکری موجودگی انتہائی زیادہ ہے۔ لاکھوں بھارتی فوجی اور نیم فوجی اہلکار اس علاقے میں تعینات ہیں۔ ایسے حالات میں جب سکیورٹی فورسز کی بھاری موجودگی کے باوجود ہر سال ہزاروں افراد لاپتہ ہو رہے ہوں تو اس صورتحال سے ادارہ جاتی ذمہ داری اور احتساب کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایسے واقعات کے بعد آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا آغاز ہونا چاہیے، تاہم مقبوضہ کشمیر میں ایسے واقعات کے بارے میں مؤثر اور غیر جانبدار تحقیقات کے شواہد بہت محدود نظر آتے ہیں۔اسی تناظر میں انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ گزشتہ کئی برسوں سے شدید ذہنی، سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔کیوں کہ ایک شخص کی گمشدگی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے خاندان کی پوری زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جو برسوں سے اپنے پیاروں کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں مگر انہیں واضح جواب نہیں مل پاتا۔ جان کاروں کے مطابق یہ صورتحال انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے کیونکہ ہر فرد کو قانون کے مطابق تحفظ اور شفاف عدالتی عمل تک رسائی کا حق حاصل ہے۔غیر جانبدار مبصرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک اہم پہلو احتساب کے مؤثر نظام کا فقدان بھی ہے۔ متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مختلف مواقع پر اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کے بغیر اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے حلقوں میں بارہا اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کے تمام کیسز کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سطح پر اس مسئلے کے حوالے سے ردعمل اکثر محدود اور محتاط دکھائی دیتا ہے۔ سفارتی ماہرین کے بقول بڑی عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا میں اپنے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ بھارت کے ساتھ تجارت، دفاعی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں انسانی حقوق کے خدشات کا ذکر تو بین الاقوامی رپورٹس اور بیانات میں کیا جاتا ہے، مگر انہیں عملی سفارتی دباؤ کی شکل کم ہی دی جاتی ہے۔اسی تناظر میں مبصرین کے مطابق عالمی برادری کے اس محتاط رویے نے ایک ایسا تاثر پیدا کیا ہے جس میں انسانی حقوق کے معاملات اکثر جغرافیائی سیاست کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ جب معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دی جائے اور انسانی حقوق کے مسائل کو ثانوی حیثیت حاصل ہو تو متاثرہ آبادیوں میں احساسِ محرومی اور عدم اعتماد بڑھنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام اور انسانی حقوق کے کارکنان مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ عالمی برادری اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کو یکساں طور پر نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ صرف اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی المیے کی ایک دردناک تصویر ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک خاندان، ایک کہانی اور ایک طویل انتظار موجود ہوتا ہے۔ مبصرین کے مطابق جب تک اس مسئلے کی شفاف تحقیقات، مؤثر احتساب اور بین الاقوامی توجہ کے ذریعے سنجیدہ حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک اہم سوال بنی رہے گی۔

Exit mobile version