Home » کالم » ملزمان کے بیانات اور انٹرویوز………وفاقی کابینہ کے تحفظات
adaria

ملزمان کے بیانات اور انٹرویوز………وفاقی کابینہ کے تحفظات

وزیراعظم عمران خان نے پروڈکشن آرڈر زکے بعد ملزمان کے بیانات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، بات تو بالکل درست ہے دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر ملزمان اورمجرمان باقاعدہ انٹرویوز دیتے ہیں ، اپنا نکتہ نظر بیان کرتے ہیں ، ان بیانات کے ذریعے ملک میں انارکی پھیلاتے ہیں ، مخالف پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور اس کے بعد سکون سے جیل میں چلے جاتے ہیں ، پھر نئی تاریخ پر آنے کے بعد ایک نیا جھگڑا کھڑا کردیتے ہیں اور ملک میں ایک نئی بحث چل نکلتی ہے ۔ وفاقی کابینہ نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ہونا بھی چاہیے کسی ملزم یا مجرم کے بیان دینے پر قطعی طورپر پابندی ہونی چاہیے ۔ نیز انٹرویوز کرنے والے کے حوالے سے بھی ایوان میں باقاعدہ قانون سازی ہو تاکہ انٹرویو دینے اور لینے والا دونوں ہی سزا کے مستحق ہوں تب ہی یہ سلسلہ رک سکتا ہے ۔ گزشتہ روزوفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ وفاقی کابینہ نے سزا یافتہ افراد کے ٹی وی انٹرویوز پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ان انٹرویوز کو نشر کرنے کے خلاف پیمرا سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں سزایافتہ مجرمان یا زیر تفتیش ملزمان کو اپنے ذاتی مقاصد کی تشہیر یا قومی اداروں کو دباءو میں لانے کے مقصد کےلئے میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاتی ،میڈیامجرموں کے بیان روکے، کابینہ نے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی اقامہ کمپنی کی تفتیش ایف آئی اے سے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ نے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں اداروں کی اصلاحات کےلئے کام کرنے والی کمیٹی کی تجاویز اور سفارشات پر غور اور ان پر عمل درآمد کےلئے کمیٹی بھی تشکیل دی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے مخصوص افراد کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے اشتہارات پر ناراضی کا اظہارکرتے ہوئے مستحق افراد اور خواتین کو سرکاری ملازمتوں میں سہولت دینے کی ہدایت کی، عمران خان نے مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹا، گھی اور دال جیسی ضروری اشیائے استعمال کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھا جائے تاکہ کم آمدنی والے اور غریب افراد پر اس ضمن میں کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے ،کابینہ کو بتایا گیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے سال 2008-2013کے دوران کل 134 دورے کئے جن کا دورانیہ 257 دن بنتا ہے ۔ ان دوروں میں وفود کی کل تعداد 3227 افراد بنتی ہے جبکہ ان دوروں پر کل 142 کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے جبکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے دور حکومت 2013-17 میں کل 92 بیرون ملک دورے کئے جن کا دورانیہ 262 دن بنتا ہے، ان میں وفود کی تعداد 2352 افراد جبکہ ان پر 183 کروڑ 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے ،شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت میں 19 بیرون ملک دورے کئے جن کا دورانیہ 50 دن، وفد کی تعداد 214 افراد جبکہ دوروں پرتقریبا 26کروڑروپے کے اخراجات ہوئے ، کابینہ نے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضاگیلانی کے دوروں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا کہناتھاکہ سابق حکمران قومی خزانے سے پرتعیش دورے کرتے رہے ملک اور قوم کو ان غیر ملکی دوروں سے کیا حاصل ہوا،دوروں پر خرچ کئے گئے ایک ایک پیسے کا حساب لیں گے ،اجلاس میں قطر کے شہریوں کو ایئرپورٹ آمد پر ویزا دینے کی سہولت دینے، لوک ورثہ اور پی این سی اے کو کلچر اینڈ ہیریٹیج ڈویژن میں شامل کرنے، مختلف وزارتوں میں بورڈ آف گورنرز مقرر کرنے، یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف گورنرز میں مختلف لوگوں کو شامل کرنے، وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانے کےلئے ملحقہ 50 ایکڑ زمین کی حیثیت تبدیل کرنے، پورٹ قاسم کے نئے چیئرمین کی تعیناتی اور ای سی سی کے فیصلوں کی منظوری دیتے ہوئے ملک میں گندم کے ذخائر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات ;224224;اعلامیہ جاری

طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بہت سارے مذاکرات طے پا گئے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ آگے تک کتنے عمل پیرا ہوتے ہیں اس سے قبل بھی مذاکرات ہوئے اور اس کے بعد نئی احتراعات نکلتی رہیں اور مذاکرات تہہ وبالا ہوتے رہے اس مرتبہ امید کی جارہی ہے کہ جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس پر عمل کیا جائے گا کیونکہ اگر اس پر عمل نہ کیا گیا تو امریکہ کا افغانستان سے نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا ۔ طالبان اور افغان وفد کے درمیان افغانستان میں امن کیلئے روڈ میپ پر اتفاق ہوگیا ۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطری حکومت اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ افغانستان کے حل کےلئے مذاکرات ہوئے جن میں طالبان اور افغان وفود نے شرکت کی ۔ بات چیت میں افغان حکومت نے شرکت نہیں کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے ۔ مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغانستان میں اسلامی اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات نہ دینے، سرکاری اداروں پر حملے نہ کرنے، پرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ فریقین نے عالمی برادری اور علاقائی و مقامی عناصر پر افغان اقدار کا احترام کرنے کے لئے زور دیا ۔ بوڑھے، بیمار اور معذور قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے گا، سرکاری اداروں اور عوامی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، تعلیمی اداروں اور رہائشی علاقوں کا احترام کیا جائے گا اور عام شہریوں کے جانی نقصان کو ختم کیا جائے گا، اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں گے ۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان جاری علیحدہ مذاکرات میں 4 میں سے تین نکات پر اتفاق ہوگیا جن میں جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات، افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کا انخلا اور افغان سرزمین کی امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہیں ۔ زلمے نے حساس موضوع قرار دے کر چوتھے نکات کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا جس پر اتفاق نہیں ہوسکا ۔

چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد۔۔۔ جمہوریت کا حسن

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہاہے کہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد پیش کر رہی ہے،ارکان کی تعداد سے لگتا ہے صادق سنجرانی گھر چلے جائیں گے،چیئرمین سینیٹ پی پی یا ن لیگ کا ہو تو دباوَ بڑھایا جا سکے گا،ایوان بالا میں بلوچستان سے چیئرمین ہونا اچھی بات تھی، پوری قوم کو افواج پاکستان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے،عمران خان کو دورہ امریکہ میں پی آئی اے ہوٹل یا سفارتخانے میں ہی رہنا چاہیے،مریم نواز کیخلاف پہلے سے کیس چل رہا تھا ،ان پر مزید کیس بھی بنیں گے،مریم نواز اور شہباز شریف بھی جیل جائیں تو پارٹی سنبھالنے والے نئے آ جائیں گے،کسی کا کیس کا ٹرائل ہو رہا ہے تو وہ بات کر سکتا ہے، سزا یافتہ کا انٹر ویو لینا زیادتی ہے،جرم ثابت ہو جائے تو سزا یافتہ شخص کبھی اچھی بات نہیں کر سکتا،میڈیا کو اپنے حدود میں رہتے ہوئے رائے کی آزادی حاصل ہے،موجودہ حکومت کی ایمنسٹی سکیم بہت کامیاب رہی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative