Home » کالم » ملک مخالف انگریزی جریدے کی ۔ ’’کاسمیٹک رام لیلا‘‘

ملک مخالف انگریزی جریدے کی ۔ ’’کاسمیٹک رام لیلا‘‘

جولائی 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان کے نئے رجسٹرڈ ووٹروں کی نوجواں نسل نے لاہور ماڈل ٹاون کی رہائش پذیربدنام زمانہ تجارتی فیملی کا حکمرانی دھڑن تختہ کردیا 30;245;35 برسوں کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر جنہوں نے جمہوریت میں کرپشن کی سنگین مجرمانہ روایت کو پروان چڑھایا اور ملکی خزانہ کوبڑی بیدردی سے لوٹا لاہور کا یہ خاندان اور سندھ میں زرداری خاندان نے ;39;انت;39;مچارکھی تھی یہی تو نیا پاکستان ہے کہ جن بے انتہا مالدارسیاسی ;39;سیسیلین مافیا;39; کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا آج اْن کی ساری اکٹرفوں نکل گئی ماضی کے اْسی کرپٹ مافیا حکمران فیملی کے ;34;راءٹ اور لیفٹ;34; ساءڈ کی مجرمانہ سوچ رکھنے والے ان کے سبھی کے سبھی غلام زدہ طبقہ کے ;39;وفادار;39;ہکابکا سے رہ گئے اپنے ہاتھوں کو ملتے رہ گئے ہیں کیونکہ یہ سبھی بہت ادنیٰ سی اجرت اور معمولی سے عہدوں اوردیگر مالی مفادات کے اچانک چھن جانے پربڑے دل گرفتہ ہیں یہ مفاداتی گروہ اپنے ان ہی کرپٹ سرپرست حکمران فیملی کے افراد سے باہم پیوستہ ہوچکے تھے جن کا گزارا یوں کہیئے کہ روزہ مرہ کا گزارا ہونا اب بہت مشکل سے مشکل تر ہوتاچلارہا ہے اور یہ سب ہمارے آپ کے سامنے ہے کل جو صاحب اقتدار تھے اور اقتدار کے نشوں میں مست تھے آج اپنے مجرمانہ کرتوں کے باعث یاتووہ جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں یا عدالتوں میں اپنی چوری چکاریوں اور کرپشنز کی ہیراپھیریوں کے مقدمات کی تفتیشوں کو بھگت رہے ہیں اب وہ پکڑے گئے سب کچھ کررہے ہیں کچھ نہیں کررہے توماضی کے یہ سابقہ حکمران جنہیں مجرمان کہیں یا ملزمان;39; اندرون ملک اور بیرونی ملک کی جانے والی اپنی ;39;منی لانڈرنگ;39; کی قانونی ٹریل پیش کرنے سے تہی دست اور قاصردکھائی دیتے ہیں ماضی کے مجرمانہ ;39;نشان زدہ;39; حکمرانوں کو یقینا ہم بیس کروڑ پاکستانی ;39;تنہا;39; نہیں سمجھتے ان کے پیچھے انہیں بچانے کے لئے پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے چیلنج وہ طاقتور عالمی خفیہ ایجسنیاں گزشتہ ستربرسوں میں اتنی زیادہ متحرک نہیں ہوئی ہونگی جتنی آج وہ ایکا کیئے متحرک ہیں پاکستان کے پرائیوٹ میڈیا سیکٹر میں سوشل میڈیا سیکٹر میں دولت پانی کی طرح بہائی جارہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چاہے نون لیگ ہویا زرداری پارٹی ہو ڈی آئی خان کا مسترد شدہ مولوی گروہ ہو یا بلوچستان کا چادر پوش سیاسی لسانی تنظیم کا خاندان ہو ان سب کو پاکستان مخالف عالمی شیطانی طبقہ نے آگے لگایا ہوا ہے کہ کسی قیمت پر پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو بے بس کیا جائے ملکی دولت پر ان ہی مسترد شدہ سیاسی افراد کا کنٹرول ہے جوڈالروں کی سیاست کرتے ہیں ملکی مالیاتی اداروں کو اتھل پتھل کرنے میں اپنا شہرہ رکھتے ہیں جو کہ چاہتے ہیں کہ ملکی بیوروکریسی کوہمہ وقت خوفزدہ رکھا جائے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت سے اْنہیں مایوس کردیا جائے تو وفاقی انتظامی کارسرکار کا سسٹم ;39;جام;39; ہوجائے یہ کیونکر ہوگا اس کے لئے پاکستانی میڈیا بشمول الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کے مقامی آپریشنل سسٹم کو اْن کی ملک دشمن مخاصمانہ سوچوں سے زیادہ اْن کے منہ میں حرام سے کمائی گئی دولت دبادبا کر ٹھونس دی جائے ;34;گاڈ فادر اور سیسلین مافیا;34; کی تاریخ سے آگاہ باشعور پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں جیسا کہاجاتا ہے کہ ;34;دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کی کوئی قیمت نہ ہوبس وقت کا انتظار ضرور ہوتا ہے یہی انسانی کمزوری ہے جس سے ماضی سے لیکر آج تک ;3939;شیطان صفت حکمرانوں ;34; نے کمزوراور لاغرسوچ رکھنے والی قوموں کو کئی دہائیوں تک اپنا غلام بے دام بنائے رکھا تمہید ذرا طویل ہوگئی معذرت ۔ انگریزی زبان کے ایک ہفتہ روزہ جریدے میں شاءع ہونے والے بدنام زمانہ شہرت یافتہ ٹی وی اینکر اور صحافی کے اْس مضمون کے چند اقتباسات پر ہم نے یہاں اپنے قارئین سے بات کرنی ہے اپنے جس مضمون میں اسی مذکورہ بکاو ذہنیت نام نہاد صحافی نے پاکستانی سیاست میں گمراہی کا زہر پھیلانے کی اپنی سی بڑی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں موصوف پاکستان مخالف اپنے انگریز ی مضمون میں فتنہ پرور ہرزہ سرائی کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں اْن کا ہفت روزہ جریدہ پڑھنے والوں کی پاکستان میں کتنی تعداد ہوگئی یعنی ہمارا مطلب یہ کہ ماضی کے کرپٹ حکمران ٹولے کو عالمی خفیہ ایجسنیوں کی مکمل مصدقہ پشت پناہی ملی ہوئی ہے اور یہی موصوف ان جیسے مثلا ایچ حقانی، ڈاکٹرعائشہ صدیقی ٹاءپ کے پاکستانی سلامتی کے بدترین مخالف کردارمغربی دنیا میں پاکستان کے قومی کلچر کی غلط اور گمراہ کن تصویر پیش کرنے میں یوں جانیئے ;39;جتے;39;ہوئے ہیں امریکا ،برطانیہ اور مغرب میں موجودہ پاکستان مخالف عالمی طبقہ ظاہر ہے انگریزی سمجھتا ہے اور یہ سب پہلے انگریزی زبان میں زہر اگلتے ہیں مثال کے طور پر پی سی بی کے برطرف شدہ چیئرمین نما صحافی اپنے من گھڑت مفروضوں کے اختراع کے سہارے عالمی حلقوں کو مطمئن کرنے کے لئے اس قسم کی ;34;رام لیلا;34; شاءع کرکے اپنا خطیر ;34;حق زحمت;34; فورا وصول کرلیتے ہیں اس مرتبہ 28 جون تا 4 جولائی2019 کے اپنے ہفت روزہ شمارے میں ;39;چڑیانما;39; ذہنیت کی سوچ رکھنے والے اس صحافی نے ;34;ملٹی;34; اسٹبلیشمنٹ کی ایک اصطلاح گھڑی اس سے پہلے والے شمارے میں موصوف نے ;34;ملٹری ڈیکٹیٹڈ پولیٹیکل اکنومی آف پاکستان;34; جیسا خود ساختہ ایک انگریزی جملہ ایجادکیا تھا جس پر کالم لکھاجاچکا ہے اب براہ راست کھلا جملہ یعنی ;3939;ملٹری اسٹیبلیشمنٹ;34; لکھنے کی بجائے گمراہی کی ایک نئی راہ اپنائی گئی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک مضبوط ومستحکم اور ڈسپلن فوج اور فوج سے وابستہ قومی سلامتی کے ادارے جنہیں پاکستان کے عوام میں روزبروز پذیرائی کا گراف بڑھتا چلا جارہا ہے پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ عوامی طبقات میں مکمل قلبی اور ذہنی وابستگی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے پاکستان مخالف مغربی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کو اپنے مکروہ اور منتشرالخیال ڑولیدہ فکری سے مغلوب کرکے ;34;لیبیا وغیرہ;34; بنانا چاہتے ہیں ان کا مدعا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے بقول مسٹر نجم سیٹھی کےپاکستان کو مثلا اگر نیپال، بھوٹان یا پھر مالدیپ کی شکل دیدی جائے تو توتب ہی کہیں جاکر امریکا یا اس کے عالمی مغربی اتحادی بھارت کو اس خطے میں چین اور روس کے مقابلے میں کھڑا کیا جاسکتا ہے;238; لیکن یہ درمیان میں پاکستان کا ;39;مکو;39; وہ کیسے ٹھپیں ;238; اس ملک کے ;34;جوہری اثاثہ;34; پر عالمی ڈکیتی کی واردات کیسے ڈالی جائے;238;یہ ایک اہم مدعا ہے جسے مکمل ہوتا ہوا دیکھنے کے لئے پاکستانی نجی میڈیا کو برابر نیا سے نیا چارہ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ملکی عوام میں فوج اور پاکستانی عدلیہ کو اس حد تک متنازعہ بناکر اس قدر بے بس اورزچ کردیا جائے کہ عوام کی واضح اکثریت فوج پراعتماد اور بھروسہ کرنے اْن کے گن گانا چھوڑدے عوام کوازبس یقین ہوجائے کہ پاکستان کی اعلیِٰ عدلیہ اپنا عدالتی قومی وقارتک کھوچکی ہے;238; ذرا نظارہ کرلیں ناگزشتہ دس پندرہ دنوں سے ملک میں ازخود;34;معزز گری;34; نے کیسا مضحکہ خیز تماشا لگایا ہوا ہے سوچیں قوم کہاں ہے;238; پاکستان کہاں پہنچ گیا ہے;238; پی ٹی آئی کی حکومت کو امتحانات پر امتحانات دینے پڑرہے ہیں کہا جارہا تھا کہ بجٹ پاس ہونے نہیں دیا جائے گا پھر قوم نے دیکھا بجٹ پاس ہوگیا اور اب کسی سیاسی وجہ کی بنا سنیٹ کے چیئرمین کے خلاف ملی بھگت کرکے حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے عدم اعتماد کی قرارداد سینٹ میں پیش کردی گئی ہے قومی خزانے کے ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھانے کے حکومتی اقدامات پر عوام کے خون پسینے کی کمائی پر آئے روز خصوصی طور پر رمضان المبارک میں پھلوں سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردنوش کی قیمتوں پر ہوش ربا گرانی کرنے والے تاجروں کی ہڑتال کے دوران نعرے لگائے گئے جن میں مہنگائی کا رونا رویا گیا حکومت نے تاجروں سے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ اپنا ہراسٹاک اپنے قومی شناختی کارڈ پر خریدیں گے اور اپنے تجارتی معاملات کو مصدقہ دستاویزی صورت میں متشکل کریں گے یہاں مہنگائی کہاں آگئی;238; کبھی تھوک اور پرچون کے کاروبار کرنے والے تجارت پیشہ طبقہ نے عام عوام جوکہ خریدار ہوتے ہیں اْن کے حق میں اپنے کاروبارکو بند کیا ہے;238; تاجروں کے آخر مسائل کیا ہیں ;238; انہیں کھلی لاقانونیت کے انداز میں چھوٹ دیدی جائے دنیا بھر کی مہذب جمہوری اقوام میں کاروبار کرنے والے روزبروز کی آمدنی پر ٹیکس دیتے ہیں پاکستان میں جاری جمہوریت کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں پاکستان میں انتشار واضطراب اور انارکی پھیلانے کے یہی بنیادی اسباب ہیں جو ہمارے ازلی وابدی دشمنوں کی ’’ٹپس‘‘ پر اْن کے جسموں میں رواں خون کی مانند گردش کررہے ہیں اور پاکستان کا بکاونجی میڈیا ملک دشمن عناصر کے مقاصد کی بجا آوری میں ان سبھوں کا آلہ کار بناہوا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative