Home » کالم » منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے خوش آئندحکومتی کوششیں
adaria

منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے خوش آئندحکومتی کوششیں

adaria

وزیراعظم عمران خان کیسربراہی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں ملک سے غیر قانونی رقوم کی ترسیل کی روک تھام کیلئے حکومت نے انسدادِ منی لانڈرنگ اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے قوانین میں انتہائی اہم ترامیم کرنے اور ان جرائم کے مرتکب مجرموں کو 10 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے منی لانڈرنگ کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی جس میں یہ تجویز دی گئی کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ اے ایم ایل اے 2010 کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اے ٹی اے 1997 میں ضم کردیا جائے۔ علاوہ ازیں فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ ایف ای آر اے 1947 میں ترامیم کر کے زیادہ سے زیادہ سزا کی مدت 2 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی جائے اور اس طرح کے تمام جرائم نان کگنیزابیل جرائم کی طرح سمجھا جائے جن میں پولیس بغیر وارنٹ گرفتاری کا حق رکھتی ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ادارے کی گزشتہ 4 ماہ کی کار کردگی پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ اور فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت کل 131 کیسز رجسٹرڈ کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 4 کروڑ 23 لاکھ 30 ہزار روپے برآمد کیے گئے، اس سلسلے میں 198 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔جبکہ 5 کروڑ 40 لاکھ روپے تک کی رقوم کی مشتبہ منتقلی کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں۔اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے دبئی میں موجود غیر دستاویزی جائیداد اور بے نامی اکانٹس کی تفصیلات پیش کرنے کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ غیر ملکی ترسیلات زر میں 12فیصد اضافہ ہوا ہے۔وزیرِ اعظم کو بتایا کیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے سخت اقدامات کے نتیجے میں حوالہ ہنڈی میں واضح کمی آئی ہے جولائی سے فروری کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 12فیصد بہتری آئی ہے ۔ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کے سلسلے کو روکنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے چنانچہ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کوششیں جاری ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ابھی مزید بہت کچھ کرنا ہے تاکہ اس ناسور کی مکمل جڑ کاٹی جا سکے۔منی لانڈرنگ کے جن کو بوتل میں بند کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ قبل ازیں پاکستان میں منی لانڈرنگ کے خلاف کوئی موثر قانون نہیں ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت کو بے تحاشا نقصان پہنچ رہا ہے۔اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے منی لانڈرنگ کو قومی معیشت کیلئے ناسور قرار دیتے ہوئے فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ ایف ایم یوکو مزید فعال اور مستحکم کرنے کی ہدایت کر رکھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔ ایسے عناصر کو بے نقاب کر کے ان کی اصلیت عوام کے سامنے لائی جائے۔اس امر سے ہر پاکستانی اچھی طرح آگاہ ہو چکا ہے کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے قومی معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہو چکے ہیں۔ ملکی معیشت جو آج تباہ حال نظر آتی ہے اگر کرپشن اور منی لانڈرنگ نہ ہوئی ہوتی تو یقیناًملکی معیشت کافی مستحکم ہوتی اور ملک ایک کھرب ڈالر کا مقروض نہ ہوا ہوتا ۔ ہمارے ہاں جس سطح پر اور مالیت کی کرپشن ہوتی ہے اسکی مثال شاید کسی اور ترقی پذیر ملک میں ملتی ہو۔ملک کو اس نہج تک پہنچانے میں صرف چند فرد ہی نہیں بعض مالیاتی ادارے بھی ملوث ہیں۔جعلی بنک اکاؤنٹس کیس اس مکروہ دھندے کے نیٹ ورک کی مکمل روداد ہے۔ موجودہ حکومت کی تھوڑی سی کوشش سے متعلقہ ادارے متحرک ہوئے تو بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔جعلی اکاؤنٹس کے ضمن میں اب تک چھ مختلف بنکوں کو 247ملین روپے جرمانہ جبکہ 109افسروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ کسٹم حکام کی جانب سے جولائی 2018 سے جنوری 2019 تک 439 ملین روپے مالیت کی کرنسی ضبط کی جا چکی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ رقم 131 ملین تھی، اس مد میں 235 فیصد اضافہ ہوا ہے۔یوں متعلقہ اداروں کی اس کارکردگی کو مناسب قرار دیا جا سکتا ہے۔اس لیے اگر حکومت مخلصانہ کوشش کرے تو سب ممکن ہے۔ کرپٹ اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ایسے عناصر کو جہاں بے نقاب کرنا ضروری ہے وہاں انہیں قانون کے شکنجے میں لا کر ان سے پائی پائی وصول بھی وقت کا تقاضہ ہے۔

بھارتی کوششوں کوایک اوردھچکا
چین نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر پر پابندی کی قراردادرکوا دی ہے بھارتی میڈیا کے مطابق چین نے قرار داد کو ویٹو کر دیا جس میں مسعود اظہر پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا قرار داد فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے پیش کی تھی قرار داد کو روکا جانا بھارت کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ چوتھی بار ہے کہ چین نے اظہر مسعود کو عالمی دہشت گر قرار دینے کیلئے بھارت کا راستہ روکا ہے بھارت نے اس پر اپنا شدیدردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اقدام سے سخت مایوسی ہوئی بھارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس اقدام سے 14 فروری کو پلوامہ کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنیوالی تنظیم جیش محمد کے سربراہ کو نامزد کرنے سے عالمی برادری کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ یاد رہے بھارت مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کیلئے عالمی رہنماؤں سے رابطوں میں تھا۔ دریں ا ثنا چینی وزرائے خارجہ مسعود اظہر کیخلاف سلامتی کونسل کی قرار داد پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ قرار داد پر فریقین سے رابطے میں رہے ہیں ہمیشہ مناسب موقف اپنایا ہے اس مسئلے پر متعلقہ اداروں کو قوانین، طریقہ کار کی پیروی کرنی ہوگی تمام فریقین کیلئے قابل قبول حل مسئلے کا مناسب حل ہوگا۔ سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کیخلاف قرار داد پر اعتراض کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کا گزشتہ روز آخری دن تھا۔فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرارداد پیش کی۔
ایس کے نیازی کی پروگرام ’’سچی بات‘‘میں فکرانگیزگفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کا انتخاب خوش اسلوبی سے ہورہاہے،جس کے خلاف فیصلہ آتا ہے وہ خوش تو نہیں ہوتا اسلام آباد ہائیکورٹ اچھا کام کررہی ہے،مگرججزکی تعداد کم ہے،بلاول بھٹو زرداری جذباتی لگ رہے تھے،ججز کی تعداد کو بڑھا یاجائے اگرججز ایکسٹرا کام کریں توان کو سہولیات دینی چاہئیں،ماتحت عدلیہ بھی کام کررہی ہے،مگرسہولیات کی کمی ہے اورتعداد بھی کم ہے،بجلی ،گیس اورپانی کے بل بہت زیادہ آرہے ہیں، بنک آف چائنا کے کھلنے سے ہمیں بہت زیادہ فائدہ ہوگا، وزیراعظم اورآرمی چیف کی نیت بہت اچھی ہے،کام بھی کررہے ہیں ،ہمیں ایکسپورٹ کو بڑھانا چاہیے،ایکسورٹ کے بڑھنے سے ملک ترقی کرے گا،صرف پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں نہیں دوسرے اداروں کی تنخواہیں بھی بڑھانا چاہئیں،آئی ایس پی آر بہت اچھا کام کررہی ہے، افواج پاکستان کامورال بلند ہونا چاہیے۔ ائیرمارشل(ر)شاہد لطیف نے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ الحمد اللہ ائیرفورس نے پوری قوم کا سرفخر سے بلند کردیا، ہمارے جوانوں کی65کی یاد تازہ کردی ہے،اس وقت بھی دشمن کی تعداد ہم سے زیادہ تھی،ہم نے بھارت کو جوسبق سکھایا ساری دنیا نے دیکھا۔ہمارا دنیا میں بہت اچھا تاثر گیا کہ بھارت جنگ اور پاکستان امن چاہتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative