مودی پاکستان کیخلاف کوئی بھی مہم جوئی کرسکتا ہے

44

موجودہ حالات میں مودی سرکار کیلئے مقبوضہ کشمیر میں حالات پر قابو پانا ممکن نہیں رہا ۔ بھارت کے اندر بھی بغاوت بڑھتی جارہی ہے اور آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم کی پردہ پوشی میں کامیاب ہے مگر بھارت کے اندر ریاستی دہشت گردی پوری دنیا پر عیاں ہورہی ہے ۔ مودی سرکار عوام کی توجہ حقائق سے ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف کوئی بھی مہم جوئی کرسکتی ہے جس کیلئے پاکستان کے گھوڑے ہمہ وقت تیار ہیں ۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر مخدوش صورتحال سے آگاہ ہے ۔ مگر افسوس اسکی طرف سے بھارتی حکومت کے رویوں پر صرف تشویش کا اظہار اور مذمت کی جارہی ہے ۔ عملی طور پر بھارتی مظالم کے آ گے بند باندھنے کی جرات کوئی نہیں کررہا ۔ ضرورت مودی سرکار کے جنونی اقدام کو لگام دینے کی ہے‘ اسکی خاطر اب عملیت کی طرف آنا ہوگا ورنہ بھارت جس راستے پر چل نکلا ہے‘ وہ سراسر تباہی کی طرف جاتا ہے ۔ آج بھارت میں بغاوت کی سی کیفیت ہے ۔ کشمیر کی طرح بھارت میں بھی مظاہروں میں تیزی آرہی ہے ۔ بھارت کی بد فطرت سب کے سامنے ہے لیکن ہر کوئی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے وہ خود سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پھر سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے جس میں اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے لیکن پھر بھی وہ بعض نہیں آتا وہ نت نئے حربے استعمال کرتا رہتا ہے ۔ گزشتہ 6 ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اس کو دنیا کی سب سے بڑی جیل قرار دیا جارہا ہے ۔ اہل کشمیر کی زندگی اجیرن ہے عورتیں اور بچے بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں یہاں تک کہ انٹرنیٹ سروس بھی منقطع ہے جس کے باعث ان کا دنیا سے کوئی رابطہ نہیں اور کاروباری زندگی بھی مفلو ج ہے ۔ اب ایک ہفتہ قبل بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو ایک ہفتے کے اندر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا یہ ایک اہم اقدام ہے ۔ کورٹ نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ سروس بند کرنا آزادی اظہار رائے کے منافی ہے اور کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ کسی بھی جمہوریت کے دعویدار سیکولر ملک میں اس سے زیادہ بدتر صورتحال اور کیا ہوگی بھارتی حکومت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ترمیمی شہریت بل بھی پاس کر دیا یہ بل اب قانون بن کر دس جنوری سے بھارت میں نافذ ہو چکا ہے اس قانون کی رو سے مسلمانوں کے سوا دوسری تمام اقلیتوں کو شہریت حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کیخلاف مظاہرے جاری ہیں جن میں مزید تین نوجوانوں نثار احمد راتھر ، مبارک احمد ڈار اور فہیم احمدصوفی کوکالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ۔ نثار احمد راتھر کوجموں کی کوٹ بھلوال جیل جبکہ مبارک ڈار اور فہیم صوری کو ضلع اسلام آباد کی سب جیل مٹن منتقل کر دیا گیا ۔ 5اگست کو بھارت کی طرف سے مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد اور مسلسل فوجی محاصرے کے دوران اب تک 750سے زائد کشمیری نظربندوں پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیاگیا ہے جن میں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں عبدالقیوم ، امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا مشتاق احمد ویری اور حریت رہنما مسرت عالم بٹ ،آسیہ اندرابی ، غلام احمد گلزار ، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، قاضی یاسر احمد ، مولانا سرجان برکاتی ، یاسین عطائی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے انڈین ایڈمینسٹریٹو سروس کے سابق افسر شاہ فیصل پر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کردیا ہے ۔ شاہ فیصل جنہوں نے گذشتہ سال سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا کو بھارتی پولیس نے گزشتہ سال اگست میں نئی دلی کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی ۔ لہٰذاقابض انتظامیہ نے ان پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر کے انہیں حراستی مرکز سے دیگر مقام پر منتقل کردیا ہے ۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے فرکان کیرن کے رہائشی پرویز جیلانی اور ضلع بڈگام کے علاقے بیروہ کے تاشوق احمد باندے کو گزشتہ برس اگست میں گرفتار کیا گیا تھا ۔

متعلقہ خبریں

جے آئی ٹی بنانے کا مقصد وزیراعظم کو صفائی کا موقع دینا تھا…

کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو لاحق خطرات

(باقی;58;سامنے والے صفحہ پر)