Home » کالم » مودی کاجنگی جنون

مودی کاجنگی جنون

پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان کو بھارت کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں کے بعد خطے میں صورت حال کشیدہ ہو گئی جبکہ بھارتی حکمران طبقہ نے اس صورت حال پر قابو پانے کے بجائے جنگی جنون کو مزید ہوا دی ۔بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی اور بے جی پی کے لیڈر عوام میں جنگی جنون پیدا کرنے میں مصروف ہیں جبکہ بھارتی میڈیا اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہاہے۔پاکستان بھارت پر بار بار واضح کر چکا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو پھر وہ اس کا بھرپور جواب دے گا۔پاکستان بھارت کو پلوامہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کر چکا ہے مگر بھارت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا مثبت جواب دینے کے بجائے منفی رویہ اپناتے ہوئے دھمکیوں پر اتر آیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی عوام میں انتہا پسندانہ رویہ جنم لے رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں جہاں بھارت نے دس ہزار فوجیوں کو بھیجا ہے وہاں وادی میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے حریت رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنوں کو بھی گرفتار کیاگیا ۔دراصل بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور مودی سرکار اپنی الیکشن مہم میں ہر چیز جھونکنے پر بضد ہے اور جنگی جنون کو ہوا دے کر مودی کی شکل میں انتہا پسند اور مکار گروہ آنے والے الیکشن میں عوام کے جذبات سے کھیل کر اقتدار کا حصول چاہتا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی خطرناک صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالات کی سنگینی پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ ایشیاء کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان حالات بہت خراب اور انتہائی خطرناک ہیں۔راجھستان میں پاکستانی سرحد کے قریب وسیع پیمانے پر جنگی مشقوں نے حالات کی کشیدگی میں مزید اضافہ کیا ۔ بھارتی ائیر فورس کے جنگی طیاروں کے مظفر آباد سیکٹر میں آزاد کشمیر کی حدود کے اندر گھس آنے اور ہمہ وقت مستعد اور چوکس پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بروقت جوابی کاروائی پر بدحواسی میں بالا کوٹ کے قریب ہتھیاروں اور ایمونیشن پر مشتمل اپنا پے لوڈ پھینک کر واپس فرار ہونے سے پلوامہ میں رچائے جانے والے خود کش حملے کے بھونڈے ڈرامے کے وہ مکروہ پس پردہ بھارتی عزائم کھل کر سامنے آ گئے۔بھارتی وزارت خارجہ نے فضائی خلاف ورزی کے اس واقعے سے پہلے لاعلمی کا اظہار کیا لیکن بعد میں دعویٰ کیا کہ بالاکوٹ کے قریب دہشت گردوں کے مبینہ کیمپ کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔پاکستان نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا ۔بھارتی فوج نے سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بجوات سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی تھی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک جوان شہید اور ایک شہری زخمی ہو گیا ۔ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان نے بھارت کو سرپرائز اور بدلہ لینے کا کہا تھا۔ پاکستان نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے پاکستانی ائیر فورس نے صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔بھارتی طیاروں نے بارڈر کراس کیا تو دو بھارتی طیارے مار گرائے گئے ۔ایک طیارے کا ملبہ آزاد کشمیر دوسرے کا مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔دو بھارتی پائلٹس کو گرفتارکیاگیا ۔ڈی جی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔اس واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنی مختصر نشری تقریر میں اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ۔ہم ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔پلوامہ حملے میں آپ کو دکھ پہنچا ۔پاکستان کے مفاد میں قطعاً نہیں کہ ہماری سرزمین استعمال کی جائے ۔ بھارت سے کہتا ہوں کہ عقل مندی دکھانا ہو گی ۔جو ہتھیار ہم دونوں کے پاس ہیں ان کے ہوتے ہوئے غلط اندازے لگائے جا سکتے ہیں ۔بھارت سے مکمل تعاون کیلئے تیار تھے ۔بھارت کو کہا ہمیں اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کرنا ہو گی ۔بھارتی طیاروں نے بارڈر کراس کیا تو انہیں شاؤٹ ڈاؤن کیا ۔معزز قارئین بھارتی حکومت کے ہیجان انگیز طرز عمل نے پورے بھارت میں ’’ بدلہ لو‘‘ کی لہر چلا دی ہے ۔پاکستان کا بھارت کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرنا مثبت انداز فکر کی غمازی کرتا ہے۔قبل ازیں لڑی گئی جنگوں کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوا تو کیا بہتر نہیں کہ یہ خونیں کھیل کھیلنے کی بجائے مذاکرات ہی کی راہ اپنائی جائے اگرچہ پاکستان موجودہ حالات میں کسی بھی طرح کی جنگ کا خطرہ مول لینے کا متحمل نہیں ۔ہم دہشت گردی کی جنگ میں باقاعدہ شریک ہیں ۔بھارت کی یہ روائت رہی ہے کہ جب حکومت داخلی مسائل کا شکار ہونے لگتی ہے تو پاکستان کے ساتھ جنگ کی سی صورت حال پیدا کر کے اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔یہ ایک حقیقی خدشہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ جنگ شروع ہوتی ہے تو اسے ایٹمی جنگ میں بدلنے سے روکنا مشکل ہو گا کیونکہ پاکستان بھارت کے ساتھ روایتی جنگ میں فتح یاب ہونے کی توقع نہیں کر سکتا اور نہ ہی جنگ کو طول دینے کی پوزیشن میں ہے ۔کھلی جنگ کی صورت میں یقینی دفاع کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال پاکستان کی مجبوری بن جائے گا امریکہ نے ایک بار پھرمشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت فوجی کاروائی سے گریز کریں ۔امریکہ کے محکمہ دفاع کی خفیہ ایجنسی نے پاک بھارت جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ایک رپورٹ تیار کی۔ رپورٹ کے مطابق پاک بھارت ایٹمی جنگ میں نوے لاکھ سے لیکر ایک کروڑ چالیس لاکھ تک لوگ ہلاک ہو جائیں گے جبکہ بڑی تعداد میں ان ہلاکتوں کو شامل نہیں کیا گیا جو ایٹمی جنگ کے بعد انتہائی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے جو پانی خوراک اور ہوا کی تابکاری سے آلودہ ہونے کے باعث ہوں گی ۔پاکستان اور ہندوستان کے پاس وافر مقدار میں یورینیم موجود ہے جو دونوں ممالک کے تمام بڑے شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے ۔دونوں ممالک کو ایٹم بم چلانے اور استعمال کرنے میں صرف دو سے تین منٹ درکار ہیں ۔میزائل کا جوابی میزائل حملہ اسی وقت ہو گا ، لوگ بے حس اور سکتے کی کیفیت میں ہو ں گے ۔ ہر بڑے شہر کی چھوٹی بڑی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن جائیں گی ۔حتیٰ کہ ہر جاندار ختم ہو جائے گا ۔طبی سہولتیں بالکل نہ ہو ں گی اور نہ کوئی طبی سہولت مہیا کرنے والا ہو گا ۔ایٹم بم چلنے کے تقریباًایک گھنٹے بعد جو لوگ بچے ہوں گے وہ تابکاری سے لگنے والی بیماریوں سے موت کے منہ میں جا پہنچیں گے ۔قحط اور فاقہ زدگی کا عالم ہو گا ۔خوراک کے ذخائر خاک کا ڈھیر بن جائیں گے ۔سخت قسم کا موسمیاتی خلل کئی سالوں تک موجود رہے گا ۔دھماکہ لاکھوں ٹن خطرناک گیسیں فضا میں چھوڑے گا جو کہ سورج کو ڈھانپ لے گا ۔سورج کئی ہفتوں تک آسمان پر نظر نہیں آئے گا ۔فتح کا جشن منانے کیلئے کوئی زندہ نہیں بچے گا ۔اب تک دنیا میں ایٹم بم پہلی اور آخری بار 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران استعمال کیا گیا ۔یہ دو ایٹم بم جو جاپان اور جرمنی کے شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے تھے ان سے اب ہزاروں گنا جدید اور بڑی قوت کے ایٹم بم موجود ہیں ۔اگر ایٹمی جنگ ہوتی ہے تو نہ صرف دونوں ممالک کا نقصان ہو گا بلکہ نزدیکی ہمسائیہ ممالک بھی متاثر ہوں گے۔ایٹم بم کا استعمال صرف اسی وقت کیا گیا جب دوسرے فریق کے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی ۔دو ایٹمی قوت کی حامل طاقتیں اس کا ا ستعمال نہیں کر سکتیں کیونکہ ایٹمی جنگ کا مطلب دو طرفہ تباہی ہے ۔ اس وقت دنیا میں جتنی بھی ایٹمی قوتیں موجود ہیں ان میں امریکہ دنیا کی سب سے بڑی ایٹمی قوت ہے اس نے بھی ویت نام کی طویل جنگ میں ایٹم بم استعمال نہ کیا ۔روس کو افغانستان میں بہت بڑی شکست وہزیمت اٹھانا پڑی لیکن ایٹم بم استعمال نہ کیا گیا ۔سوویت یونین اور امریکہ سیاسی چالوں سے ہی ایک دوسرے سے نمٹتے رہے جبکہ ایٹمی ہتھیار چلانے سے گریزاں ہی رہے ۔جاپان اور جرمن اقوام جو کبھی جنگجوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں اس وقت امن کی سفیر ہیں ،وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ایٹم بم سے ہونے والی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ۔دنیا کی با اثر قوتیں پاک بھارت ایٹمی جنگ کے حوالے سے اپنی تشویش تو ظاہر کرتی ہیں لیکن جنگ کے خطرے کی جڑ یعنی تنازعہ کشمیرکے حل میں کردار ادا کرنے سے گریزاں ہیں ۔بھارت اپنے ملک کے عوام میں جنگی جنون پیدا کر رہا ہے اور ہمیشہ اس ملک کے صاحبان اقتدار دھمکی کے لہجے میں بات کرتے ہیں ۔لہٰذا نریندر مودی سرکار اپنے سیاسی مفاد کو مدنظر رکھ کر بے گناہ عوام کو تباہی و بربادی کی بھٹی میں نہ جھونکے ۔دونوں ممالک کے مسائل کی فہرست بڑی طویل ہے اگر بھار ت کو جنگ کرنا ہی ہے تو اپنے ملک میں بے روزگای ،جہالت اور غربت کے خلاف کرے۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative