Home » کالم » موسمی تبدیلیاں اور مولانا کا دھرنا

موسمی تبدیلیاں اور مولانا کا دھرنا

پو ری دنیا اسوقت مو سمی تبدیلیوں کا شکا رہے ۔ صنعتی اور ایٹمی یونٹوں سے نکلنے والی گیسز اور دیگر وجوہا ت کی بنا پر کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے سورج کی تما زت کو کنٹرول کر نے والے روزن میں شگاف بڑھنے سے درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس کے نتیجے میں مو سمی تغیروتبدل انسانوں پر اثر انداز ہو رہا ہے ایک ڈیڑھ دہائی پہلے تک وطن عزیز میں ستمبر موسم سرما کا آغاز سمجھا جاتا تھا لیکن اب اکتوبر کا نصف گزرنے کے باوجود معمولی سے سرد ی صبح اور رات کو محسوس ہو تی ہے لیکن پھر بھی اس تھوڑے سے بدلتے موسم میں بھی گرمی اور لوڈشیڈنگ سے ستائے ہو ئے لوگ کچھ راحت محسوس کر رہے ہیں ۔ البتہ اکتوبر کے آخر تک مو سم مزید خوشگوار ہو جائیگا ۔ لیکن اس موسمی تبدیلی کیساتھ ہی مو لانا فضل الرحمان کی طرف سے وفا قی دارلحکومت اسلام آباد میں دھر نے اور آزادی مارچ کے اعلان نے حکومت تو حکومت جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں رہنے والے اور خاص طور پر ملازمت پیشہ افراد کیلئے خدشات اور وسوسات پیدا کردئے ہیں کہ پتہ نہیں یہ دھرنایہ مارچ کب تک چلے گا کس طرح چلے گا اور کیا صورت اختیار کرے گا ۔ بہر حال یہ سب سوچتے ہیں ہو تا کیا ہے اپوزیشن پلس مو لانا کیا طریقہ استعمال کر تے ہیں اور حکومت کی حکمت عملی کیا ہو گی یہ سب آنے والے دنوں میں واضح ہو جائیگا ۔ کو ئی شک نہیں کہ دو دہائیوں کے بعد پہلی مر تبہ مو لانا فضل الرحمان حکومت اور پارلیمنٹ سے باہر ہیں نہ وہ بائیس نمبر بنگلہ ہیں نہ جھنڈے والی کا ر ہے نہ پروٹوکول ہے نہ ہی کھابے ہیں ۔ مو لانا کو یہ بات پہلے دن سے ہی ہضم نہیں ہو رہی تھی انہوں نے اس صورتحال سے نپٹنے کیلئے تیاریاں تو شروع کر رکھی تھیں لیکن عمران خان کا طلسم عوام کے دل دماغ پرچھا یا ہوا تھا وہ سمجھتے تھے کہ خان نے تبدیلی کے جو نعرے لگائے ہیں غربت بے روزگاری جرائم میں کمی رشوت لوٹ مار کے خاتمے کا جو عزم کر رکھا ہے وہ اس پر پورا اتریں گے پہلے سو دنوں کا وعدہ تھا پھر وقت میں اضا فہ ہو تا گیا اور اب وہ تیرہ ماہ گزرنے کے بعد جب غربت ،مہنگائی ،بیکاری، بیروزگاری میں اضافہ بجلی گیس پٹرو ل کی قیمتوں میں اضا فہ در اضا فہ ہو نے لگا ۔ صنعتیں چھوٹے بڑے کارخانے فیکٹریاں آہستہ آہستہ سست ہونا شروع ہوئیں اور روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہو نے کی بجائے بنے بنائے روزگار ختم ہو نے لگے تو عوام میں بے چینی محسوس ہو نے لگی ۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود ایک حقیقت ایک طلسم جو قائم رہا وہ عمران خان کی ذات تھی جس میں ان تیرہ مہینوں کے دوران کسی بھی کر پشن ،بے ایمانی ، بددیانتی جیسی کو ئی چیز نظر نہ آئی اسطرح عمران خان کی عوامی مقبولیت میں اگر بہت زیادہ اضافہ نہیں ہو تا تو کمی بھی نہیں آئی اور عام پڑھے لکھے لو گ جو مختلف قسم کی جمہورتیوں اور آمرتیوں کو بھگت چکے ہیں اب بھی اس امید پر قائم کھڑے ہیں کہ عمران خان جو بہت کچھ کر نے کا عزم لیکر نکلا ہے وہ ضرور اسے پورا کر ے گابات آزادی مارچ یا متوقع دھرنے کی ہو رہی تھی مو لانا میدان سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں ۔ اسکے علا وہ مذہبی کارڈ بھی ان کے پا س مو جو د ہے انہوں نے جب دیکھا کہ دونوں بڑھی سیا سی جماعتوں نون اور پی پی کی بڑی لیڈر شپ جیل میں ہے اور جو باقی ہیں وہ بھی کر پشن لوٹ مار کے مقدمات میں جاتے نظر آرہے ہیں ۔ اور حکومت کچھ ڈلیور کر نے میں ناکام ہے تو مو لانا نے سیا سی حالا ت اور عوامی جذبات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے آزادی مارچ کا اعلان کر دیا ۔ حکومت میں بیٹھے بعض امپورٹڈ وزیروں مشیروں اور مانگے تانگے کے لوگوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مو لانا میں اتنی سیا سی طاقت نہیں کہ وہ حکومت کا کچھ بگاڑ سکیں اور ساتھ ہی بعض وزیروں کے لوز بال بیا نات اور حرکات نے سیا سی معا ملات کوسنوارنے کی بجائے بگارنا شروع کر دیا ۔ عمران خان کی خوش نصیبی ہے کہ اپوزیشن اپنے اندرونی اختلافات کی وجہ سے وہ موثر حکمت عملی نہ بنا سکی جو کو ئی نتیجہ دیتی لیکن اب آزادی مارچ اور دھرنے کو قیدی سا بقہ وزیراعظم نواز شریف کے ایک حالیہ بیان نے وہ تقویت دی ہے کہ سیا سی منظر پر پھیلی ہو ئی دھند میں سے کچھ کچھ نظر آنا شروع ہو گیا ہے ۔ جلسے جلوس ریلیاں مظا ہرے دھر نے جمہوریت کا حسن ہو تے ہیں لیکن ان احتجاجی کاموں کیلئے بھی جمہو ریت نے خو بصورت اصول و ضع کر رکھے ہیں جن میں ایک بات واضح ہے کہ لا قا نو نیت نہیں ہو گی ۔ ملک و قوم کو کو ئی نقصا ن نہیں ہو گا ۔ دلیل کے ساتھ بات ہو گی اور حکمران اسے پورا کریں گے لیکن مو جو دہ دھر نے اور مارچ سے پہلے سو شل میڈیا اور بعض ٹیلی ویژن پروگراموں میں جو ڈنڈا بردار وردی والے اور دیگر سب کچھ دیکھا رہے ہیں اور جو مزاج بنایا جا رہا ہے وہ کسی طور پر سیا سی نہیں جتھے بنانا ،فو رسز تشکیل دینا انہیں مسلح کر کے اجتماعات میں آنا کسی طور پر جمہو ری طریقہ انہیں عمران خان کے ایک سو بائیس دنوں کے دھر نے میں ایک گملہ بھی نہیں ٹو ٹا تھا کیا مو لانا ایسی سو چ اپنائیں گے یا کچھ اور ہو گا ۔ جہاں تک بات دھرنے یا آزادی ما رچ کا ہے دونوں بڑی جماعتیں جا نتی ہیں کہ انکی پارلیمنٹ میں واضح تعداد مو جو د ہے انکا ووٹ بینک بھی ہے کیا وہ منا سب سمجھیں گی کہ ہا رے ہو ئے سیا ستدانوں کو اپنی باگ ڈور پکڑاکر خو د کو سیا سی طور پر نا کام کر لیں اور میلہ مو لانا لوٹ لیں میرے خیال میں ایسا نہیں ہو گا بطا ہر نظر آنے والے واقعات آنے والے دنوں کے حالا ت کے نتاءج کو مختلف بھی دیکھا سکتے ہیں دو نوں بڑی جماعتیں یہ بھی سوچ رہی ہیں کہ اگر مو لانا کے مارچ دھرنے میں شریک ہو کر ناکام رہے تو اس سے مو لانا کو تو شاید کچھ فر ق پڑے یا نہ پڑے وہ نا قا بل تلافی سیاسی نقصان اُٹھا لے گے اور اگلی بات وطن عزیز کی سیا سی تاریخ بتا تی ہے کہ دھرنوں اور آزادی مارچوں سے حکومتیں نہیں گرتیں اگر ایسا ہو تا تو مو لا نا طاھر القا دری اور پھر عمران خان کا دھرنا حکومتیں گرا چکا ہو تا مو جو دہ حالا ت کے تنا ظر میں بھی ایسا کو ئی خطرہ نظر نہیں آرہا اور ویسے بھی مو لا نا نے اس دھر نے یا مارچ کیلئے کو ئی ایسے مطا لبا ت بھی سا منے نہیں رکھے کہ جن سے یہ اخذ ہو سکے کہ معا ملہ کیا ہے ہو سکتا ہے کہ با ت مذا کرات کے ذریعے طے ہوجا ئے حکو مت نے پرویز خٹک کی سر براہی میں مذاکراتی کمیٹی تو تشکیل دے دی ہے البتہ مو لانا کا لہجہ اچا نک سخت ہو گیا ہے وہ وزیراعظم کے استعفیٰ سے کم پر بات کر نے کو تیار نہیں اور یہ جمہو ری رویہ نہیں مو لانا کو بھی لچک پیدا کر نی چا ہیے اور حکو مت کو بھی ایک قدم اور آگے بڑھانا ہو گا ملکی حالات اور خاص طور پر کشمیر کی مو جو دہ صورتحال اس بات کی متقا ضی ہے کہ ملک میں امن و امان اور یکجہتی ہو اور تر قی و حو شحالی کیلئے کو ششیں تیز ہو نہ کہ دشمن ملک کا ایجنڈا مضبو ط کیا جائے آخری بات عمران حکومت کو اپوزیشن سے تو شاید اتنا خطرہ نہیں البتہ اپنے اردگرد بیٹھے بعض وزیروں مشیروں سے ہونے والے نقصانات زیادہ ہیں خان کو اس طرف زیادہ تو جہ دینا ہو گی اور میرا خیال ہے کہ دھرنے کے بعد شاید دو صوبوں اور وفاق میں کا فی تبدیلیاں ہو سکتیں ہیں ایک اور خبر کہ اکتوبر نومبر اور دسمبر میں تلخیاں بڑھیں گی البتہ جنوری یا زیا دہ سے زیا دہ فروری میں زبر دست مثبت ما حول ملے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative