مولانا کیخلاف رٹیکل 6کے مقدمے کا مطالبہ

34

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کےخلاف ;200;رٹیکل 6 کے مقدمے کی بات کر کے سیاست میں ایک ارتعاش پیدا کر دی ہے ۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے کہ جسے نظر انداز کر دیا جائے اور وہ بھی ایک حکومت کے سربراہ کے منہ سے نکلی ہوئی بات ۔ وزیراعظم عمران خان کا بیان میں کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے خود کہا ہے کہ وہ کسی ایجنڈے کے تحت حکومت گرانے ;200;ئے تھے اور انہیں جمہوری حکومت گرانے کا کہا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہونا چاہیے کہ فضل الرحمن کو ;200;خر کس نے یقین دہانی کرائی تھی ۔ مولانا فضل الرحمن کے بیان پر ;200;رٹیکل 6 کا مقدمہ ہونا چاہیے ۔ قبل ازیں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان سے مولانا فضل الرحمن کے اس بیان کےخلاف ;200;رٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس میں مولانا نے دھرنے میں تین استعفوں کی یقین دہانی کی بات کی تھی ۔ یاد رہے کہ کچھ دن قبل مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہوں نے اپنا ;200;زادی دھرنا اس لیے ختم کیا کیونکہ انہیں یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ عمران خان کا استعفیٰ ہوگا اور تین ماہ میں نئے انتخابات ہوں گے ۔ فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا بیان منتخب حکومت کے خلاف سازش کا اعتراف ہے،اس اعترافی بیان کی روشنی میں مکمل انکوائری ہونی چاہیئے ۔ مولانا نے خود تسلیم کیا ہے کہ دھرنا حکومت کے خلاف سازش تھی، یہ بیان کھلم کھلا بغاوت کے زمرے میں ;200;تا ہے ۔ گزشتہ برس ماہ اکتوبر میں مولانا فضل الرحمن ایک ;200;زادی مارچ سکھر سے لے کر اسلام ;200;باد کی جانب نکلے تھے ۔ وہ یکم نومبر کو اسلام ;200;باد پہنچے ۔ جہاں یکم سے13نومبر 2019تک اسلام ;200;باد کی اہم شاہراہ کشمیر ہائی وے پر 13 دن تک ;200;زادی دھرناجاری رہا جو بعد ازاں پلان بی کے اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ اس پلان میں ملک بھر کی شاہراہوں پر احتجاج کیا جائے گا ۔ فضل الرحمن کا مذکورہ دھرنا ختم کرانے میں چوہدری برادران کا کردار بہت اہم تھا ۔ وہ مسلسل کئی دن تک مولانا سے بات چیت میں مصروف رہے تب جا کر کہیں مولانا نے اپنے ورکرز کو پلان بی کا لالی پاپ دے کر گھروں کو واپس بھجوایا تھا ۔ اسے چوہدری برادران کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا مگر دو ماہ بعد اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن چوہدری پرویز الٰہی کے مابین بیان بازی شروع ہو گئی ہے ۔ حتیٰ کہ چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے مولانا کی امانت کو افشا کرنے کی دھمکی بھی سامنے ;200;ئی تو مولانا نے چوہدری برادران سے مطالبہ کیا ہے کہ انکے پاس میری جو امانت ہے افشا کر دیں ۔ تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیاسی رنجش پرانی ہے ۔ ایک دوسرے کےخلاف کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ مولانا کا دھرنا بھی اسی سیاسی رنجش کا نتیجہ تھا جسکا مقصد عمران خان حکومت کو دباوَ میں رکھنا تھا ۔ دھرنے میں مولانا فضل الرحمن کی حلیف جماعتوں میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ بھی شامل تھیں جن کی ہلہ شیری نے مولانا کو شیر بنائے رکھا جبکہ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن بری طرح استعمال ہوئے اور خالی ہاتھ کشمیر ہائی وے سے اٹھے ۔ مولانا فضل الرحمن کو یہ بات بہت بعد میں سمجھ میں ;200;ئی کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوا ہے ۔ چنانچہ اس سبکی کے ازالے کےلئے انہوں نے کسی گارنٹی وارنٹی کا بیان داغ دیا ۔ اس میں کہاں تک سچائی یا حقیقت ہے اس کی چھان پھٹک ہونی چاہئے ۔ اگر سچ ہے تو بھی تحقیقات ضروری ہیں اور اگر جھوٹ اور قیاس ;200;رائی ہے تب بھی مولانا صاحب کو جوابدہی کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ بظاہر مولانافضل الرحمن کے بیانات اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ حکومت گرانے کی سازش رچی گئی تھی جس کے پیچھے کچھ یقین دہانیاں بھی تھیں تو پھر اس سازش کی تہہ تک پہنچنا لازمی ہے کہ ;200;خر وہ کونسی قوتیں یا عناصر تھے جو بلاوجہ جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے تھے ۔ غداری کا مقدمہ بنے نہ بنے تاہم عوام کا یہ حق ہے کہ وہ حقیقت جان سکیں کہ مولانا کس کے اعشاروں پر صف ;200;را ہوئے، ایسے حالات میں جب وزیراعظم عمران خان کی سلامتی کونسل میں تقریر کی وجہ سے مودی حکومت شدید عالمی دباوَ میں ;200; چکی تھی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ;200;زادی مارچ اور دھرنے کے ہنگامے میں کشمیر ایشو پس پشت چلا گیا تھا ۔ اسی دھرنے کے ہنگامے میں ہی بھارت نے 31 اکتوبر 2019 کو ہی مقبوضہ کشمیر کو دو یونٹ میں تقسیم کا ;200;رڈر جاری کر دیا ۔ بھارت کی اس واردات پر پاکستانی حکومت اور میڈیا یقینی طور ;200;واز اٹھاتا اگر اس کی ساری توجہ اور توانائیاں ;200;زادی مارچ کی طرف مبذول نہ ہوتیں ۔ یوں اس دھرنے سے حکومت کا توکوئی نقصان ہوا یا نہیں ، کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچا ۔