Home » کالم » مکافاتِ عمل
asgher ali shad

مکافاتِ عمل

asgher ali shad

سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں برطانوی پارلیمانی نظام رائج ہے، یقیناًاس نظام میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں مگر غالباً اس کی بنیادی خامی یہ ہے کہ الیکشن سے محض دو ماہ پہلے انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوتا ہے یوں کہا جا سکتا ہے کہ 5 سال کے عرصہ میں سے باقی کے 4 سال 10 ماہ میں اس امر کی کھلی آزادی ہوتی ہے کہ جس کے جو جی میں وہ کہتا اور کرتا پھرے۔ اسی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے 26 مئی 2014 کو اپنے منتخب ہونے کے بعد سے وطن عزیز کی بابت تسلسل کے ساتھ جو زہر افشانی کی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ اس تناظر میں سنجیدہ مبصرین نے کہا ہے کہ مودی اور RSS کو برسر اقتدار آنے کے فوراً بعد سے ہی اندازہ تھا کہ وہ اقتصادی محاذ پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں کر پائیں گے لہٰذا انھوں نے اپنی ساری توانائیاں پاکستان اور اس کے قومی سلامتی کے اداروں خصوصی طور پر آئی ایس آئی کو نشانہ بنانے میں صرف کیں جس کا انھیں بھارتی داخلی سیاست میں فائدہ بھی ہوا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ دوسری جانب وطن عزیز میں بھی کئی حوالوں سے صورتحال زیادہ مختلف نہیں رہی اور عمران خان کی زیر قیادت معاشی اور اقتصادی محاذ پر ابھی تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تاحال ہم ترقی کی جانب اپنی سمت متعین نہیں کر پائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ایسے میں پاک بھارت عوام بجا طور پر پریشان ہیں کہ ’’ اچھے دنوں‘‘ اور ’’ تبدیلی‘‘ کے نام پر انھوں نے ووٹ تو دیئے مگر تاحال اچھے دن اور تبدیلی دور بین لگانے سے بھی نظر نہیں آ رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوک سبھا چناؤ کے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں BJP ایک بار پھر ’’ناممکن کو ممکن ‘‘ بنانے میں جٹ گئی ہے ۔ایک زمانہ ایسا تھا جب مودی کا نعرہ ’’ اچھے دن ‘‘ تھے‘وہ چونکہ نہیں آ سکے اس لیے اب انھیں ’ناممکن اب ممکن ہے‘ کا نعرہ لگانا پڑا۔ چند روز قبل BJP نے اپنے امید واران کی فہرست جاری کی تو اس میں ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کا نام تک شامل نہیں۔ اڈوانی جی نے زندگی بھر ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ کر رتھ یاترا کی لیکن اپنی منزل مقصود سے محروم رہے جبکہ مودی کے چائے پلاتے پلاتے ’’اچھے دن ‘‘آ گئے ۔ شاید قدرت کو یہی منظور تھا۔
بھارتی عوام کو یہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ ان کے اچھے دن آنے والے ہیں لیکن اس خوش فہمی کو دور ہونے میں تقریباً چارسال لگ گئے۔ پہلے تو مودی نے دنیا بھر کی سیر کی اور اس دوران مالیا، چوکسی اور نیرو مودی جیسے لوگوں نے بھارتی بنکوں کو خوب جی بھر کے لوٹا۔ مودی لوٹ کر آئے تو یہ سب ایک ایک کر کے رفو چکر ہو گئے۔ پہلے جیسے نریندر مودی یورپ کی فضاوں میں تیرتے پھرتے تھے اسی طرح آج کل لندن میں وجئے مالیا اور نیرو مودی آتے جاتے ہیں۔ فی الحال مودی پر انتخابات کا دباو اتنا زیادہ ہے کہ وہ غیر ملکی دورے تک بھول چکے ہیں۔
2016 ؁ میں مودی نے ہندوستانی عوام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے بجلی کا پہلا جھٹکا دیا اور اس کا نام نوٹ بندی رکھا۔ 2017 ؁ میں دوسرا جھٹکا جی ایس ٹی تھا۔ اس سے درمیانی درجہ کا اعلیٰ اور نچلا طبقہ ہل کر رہ گیا۔ نیوٹن کے تیسرے اصول کے مطابق ہر عمل کا یکساں اور مخالف ردعمل اترپردیش میں نہ سہی تو گجرات اور پنجاب میں ہوگیا۔ 2017 نے جاتے جاتے مودی جی کو دو جھٹکے دیئے۔ ایک تو گجرات جیسے مودی کے گڑھ میں انتہائی مشکل جیت اور دوسرے بھارتی پنجاب کی صاف سیدھی شکست۔
2018 ؁ مودی پر گویا ایک قہر بن کر نازل ہوا۔ کرناٹک میں لکشمی دیوی (دولت)بھی حکومت نہیں بنواسکی اور دیکھتے دیکھتے راجستھان سے لے کر چھتیس گڑھ تک تینوں صوبے کانگریس کی جھولی میں چلے گئے، یہ کوئی انہونی نہیں تھی۔ اس کے پیچھے بیروزگاری کی شرح میں 52 سالوں کا ٹوٹنے والا ریکارڈ کارفرما تھا۔ اس کیلئے پٹرول کے نرخ کی آگ اور مہنگائی کے آسمان کو چھونے والے شعلے ذمہ دار تھے۔بھارتی کسانوں کی خودکشی میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا تھا۔ رافیل کی بدعنوانی نے ’’چوکیدار ‘‘کو ’’چور ‘‘بنادیا تھا۔ پرینکا گاندھی آندھی اور طوفان بن کر نمودار ہوئی ۔ یوپی میں مایا اور اکھلیش ساتھ ہوگئے ۔ ایسے میں بی جے پی کو نیا نعرہ ایجاد کرنا پڑا۔ ’‘ ناممکن اب ممکن ہے‘‘۔ اس نعرے میں یہ اعتراف توتھا کہ اب انتخابات میں کامیابی نا ممکن ہے لیکن وہ ممکن میں کیسے ہوگی ؟ اس کی وضاحت نہیں تھی۔
اس دوران پلوامہ واقعہ ہوگیا۔ ہمدردی کی زبردست لہر اٹھی اور ایک لمحہ کیلئے ایسا لگنے لگا کہ ہاں ’ناممکن اب ممکن ہے‘ لیکن یہ کیفیت دیرپا نہیں رہی۔ جب پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا تو بھارت میں سوال ہونے لگے کہ حملے کے وقت مودی کہاں تھے؟ کیا کررہے تھے؟ اور ردعمل میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ تو جواب ملا فلمی شوٹنگ میں مصروف تھے، یہ جان کر پورا بھارت سناٹے میں آگیا ۔ ناممکن پھر سے ممکن بنانے کے لیے بھارت نے دوسری ایئر سٹرائیک کی جسارت کی ، بھارت میں عوام کا دھیان اس طرف ہوا کہ شاید ناممکن پھر ممکن ہوگیا۔ لیکن تاریخ کا حصہ ہے کہ جب جئے للیتا نے اٹل سرکار کو تیرہ ماہ بعد گرادیا تھا تو پوکھرن میں ایٹمی دھماکہ کیا گیا جس کا کوڈ تھا ’smiling budha‘ لیکن جواب میں پاکستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کردیئے۔ اسی طرح بھارت میں سرجیکل اسٹرائیک کاجشن ابھی جاری تھا کہ دو بھارتی جہاز گرانے کے بعد پاک افواج نے انڈین ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتارکر لیا ۔ ممکن پھر سے ناممکنات کی گرفت میں قید ہوگیا لیکن اس پر بھی BJP نے پاکستان کے خلاف نفرت وغصہ پیدا کرکے بھارتی طبقات کے زخموں پر مرہم رکھنے کی سعی کی۔اس کو ناکام کرنے کیلئے عمران خان نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرکے اوپن ہارٹ سرجری کردی۔ اٹل بہاری واجپائی نے دوسری بار انتخاب جیتنے کی خاطر کارگل کا سہارا لیاتھا ۔ بھارتی فوجوں کو سرحد پر بھیج کر واپس بلایا اور کامیاب ہوگئے۔ مودی اپنے تئیں ابھی نندن کی واپسی سے وہی حکمت عملی دوہرا رہے تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے اور اپنے ساتھ لوگوں کو گھماتا رہتا ہے۔ وہ بادشاہ اور رعایا کے درمیان تفریق نہیں کرتا۔ مکافاتِ عمل تقدیم و تاخیر سے مبراّ ہے۔ بہر کیف بھارتی حکمران تو اپنی دیرینہ روش پر قائم ہیں اور ان سے کسی بہتری کی توقع غالباً عبث ہو گی، البتہ ایک جانب یہ خیال رکھنا ہو گا کہ دہلی سرکار اپنی ناکامی کے زخم چاٹنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی مہم جوئی کی مرتکب ہو سکتی ہے، ضرورت وقت ہے کہ اس طرف سے ہوشیار رہا جائے اور وطن عزیز کی معیشت کے ضمن میں ’’ترقی معکوس ‘‘ کو روکنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative