مہاتما گاندھی کی تذلیل ۔ ناتھورام گوڈسے کی ’’تعظیم

9

’’جنوری کی 5;241;تاریخ سال تھا 1929‘ مقام مدراس، جہاں ایک ہال میں ’مسلم ایسوسی ایشن لیکچرزتنظیم‘کے زیراہتمام’خطبات اقبال‘ کی اہم تقریب منعقد ہورہی تھی غیرمنقسم ہند کے نامی گرامی دانشور‘ماہرِین تعلیم‘سیاسی وسماجی ممتاز نامور شخصیات جن میں ہندومسلم سبھی ایک چھت کے تلے جمع تھے، اس تقریب کی صدارت صوبہ مدراس کے چیف منسٹر اور آزادی ہند کے صف اول کے رہنما شری ڈاکٹر پی سبرائن کررہے تھے جنہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں ہند کے دانشوروں اور رہنماوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا تھا‘‘ میں بارہا کہہ چکا ہوں اور یہ ہندوو ں کا فرض ہے کہ مسلم اقلیت کو وہ اطمینان دلائیں کہ وہ اس سرزمین میں بھائیوں کی طرح زندگیاں بسر کریں گے‘میرے لیے یہ باعثِ عزت ہے کہ میں اگرچہ ہندْوہوں لیکن اسلامی فلسفہ پر لیکچر کی صدارت کےلئے منتخب کیا گیا ہوں ، میں خوش ہوں کہ اِس صوبے کے مسلمانوں کا زاویہ نگاہ صحیح ہے اسلام نے مشرق کو بلکہ ساری دنیا کو اخوت کا سبق دیا ہے ہم ہندو ذات پات اور قومی امتیازات میں پھنسے ہوئے ہیں ہ میں ابھی اسلامی تہذیب اور اسلامی کلچر سے اخوت کا سبق سیکھنا ہے میں یہاں غیربرہمن کی حیثیت میں تقریر نہیں کر رہا نہ اس نقطہ خیال سے ذات پات کے خلاف ہوں ہندوو ں اور مسلمانوں کو یکجا کرنے اور تمام ہندوستانی اقوام میں اتفاق واتحاد پیدا کرنے کےلئے ہ میں اسلامی اخوت کو دلیلِ راہ بنانا ہے بنانا پڑے گا اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے‘تحریک ہند کے ممتاز رہنما اور مدراس کے چیف منسٹر شری ڈاکٹر پی سبرائن نے 1929 میں اپنے ان خیالات کو اْس وقت پیش کیا جب وہ اپنی بابصیرت دوربیں فکر سے یہ نتیجہ اخذ کرچکے تھے کیونکہ 6 برس قبل1923 میں مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے بھاگر گاءوں کے انتہائی دائیں بازو کے ایک شدید متعصب لیڈر’ونایک دامودر ساورکر’نے’’ ہندوستان صرف ہندووں کےلئے ہے‘‘کا زیریلا متعصب نعرہ دے کر’’ہندو مہاسبھا‘‘ نظرئیے کی بنیاد رکھ دی تھی، جنونی ہندووں کے دھڑے تیزی سے اْن کی طرف لپک رہے تھے،ایسے میں ہندوستان میں فرقہ ورانہ نفرتیں جنم لینے لگیں یہی وہ موقع تھا جب شاعر مشرق علامہ اقبال نے تہیہ کرلیا کہ اب ہندوستان کے مسلم ریاستوں پر مشتمل ایک نئی اسلامی ریاست کا بننا بہت ضروری ہوچکا ہے، ذرا سوچیں اورغورفرمائیں 1929 جنوری کی 5 تاریخ کو آزادی ہند کے صف اول کا ممتاز ہندو لیڈر شری ڈاکٹر پی سبرائن جن کی اعتدال پسند، روشن خیالی اور وسیع الفکر دور بین نگاہوں نے ایسا کیا نظارہ کیا تھا کہ اْنہیں ہندووں کو برسوں قبل یہ مشورہ دینا پڑا کہ اگر وہ ہندوستان کے مسلمانوں کے ملی جذبات واحساسات کی قدر کرنے میں ناکام ہوگئے تو پھراس خطہ کی سماجی وثقافتی انارکی اس خطہ کو کتنا زیادہ نقصان پہنچاسکتی ہے اس کا اندازہ اْنہیں جیسوں کو تھا اْس وقت ہندوستان کے روشن خیال‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ بابصیرت طبقات میں تصوراتی خطرہ پایا جاتا تھا جواکہتربرس کے بعد بھارت سے ’’سیکولرازم‘‘کی باقاعدہ رخصتی کے بعد پورے بھارت میں ہرجگہ ہرمقام پرآج محسوس ہی نہیں کیا جارہا بلکہ اس کے عملی پْرتشدد مظاہر جابجا بخوبی دیکھے جارہے ہیں ’’ہندوتوا‘‘ کا نظریہ ہندو قوم پر ستی میں اپنی انتہا کی حد کو چھو چکا ہے’’ہندومہاسبھا قوم پرستی کاجن‘‘مکمل طور پر بے قابو ہوچکا ہے جس کی نشاندہی برسوں قبل سیکولر ہندولیڈروں نے برابر کی ہے جن کی قیادت ممتاز قائد گاندھی جی کررہے تھے، لیکن متشدد ہندووں قائدین نے اس کے بالکل برعکس اپنی علیحدہ متعصبانہ سوچ رکھی اور دلفریب نعروں سے اْسے پروان چڑھایا ہے آج کا بھارت سیکولر ریاست نہیں رہا بلکہ اقلیتوں کےلئے کھولتے ہوئے جہنم کی شکل اختیار کرچکا ہے عقل اور دلیل جس دیش میں شجر ممنوعہ قرار دی جاچکی ہے یہ کیسا دیش بنتا جارہا ہے جہاں اپنی آزادی کے تسلیم شدہ قائدین مثلا ’’باپو گاندھی جی‘‘ کی بھی کھلے عام تضحیک وتذلیل کے تماشے لگائے جارہے ہیں ، گزشتہ برس دسمبر کی پندرہ تاریخ کو دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں آرایس ایس کے مسلح غنڈوں نے غنڈہ گردی کی حد کردی، یونیورسٹی کی دیواریں پھاند کر مسلح غنڈے یونیورسٹی کے ہوسٹل میں جاگھسے مسلمان طلبا وطالبات کو مارا پیٹا گیا، کھلے عام فائرنگ کی گئی، جس کی وجہ یہ بنی کہ جامعہ کے مسلمان طلبا وطالبات بدنام زمانہ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کی سڑکوں پر مودی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوتے ہیں یہی اْن کا ’’جرم‘‘ہے بھارتی آئین میں اس کی آزادی دی گئی ہے آرایس ایس والے بھارتی آئین کو نہیں مانتے توکیا اْنہیں ہرقسم کی غنڈہ گردی کی آزادی دی جاسکتی ہے;238; مطلب یہ ہے کہ آج کے بھارت میں ’’ہندومہاسبھا تنظیم کی قوم پرستی کا جنون‘‘اس قدر بے قابو ہے;238; خود دیش کے آزاد سوشل میڈیا گروپس غیر ملکی معتبر ذراءع کے مطابق ’’شہریت ترمیمی قانون‘‘ کے مظاہروں کے دوران دہلی جامعہ کے علاقے میں شدید جھڑپوں کے ایک روز بعد ’’ہندو مہاسبھا‘‘ کے ترجمان اشوک پانڈے نے مبینہ طور پریہ کہنے کی جرات کرلی کہ اْن کی متشدد تنظیم کے جس شخص نے دہلی جامعہ کے اندر فائرنگ کرنےوالے ہجوم کی قیادت کی ہے ہماری تنظیم ’’ہندومہاسبھا‘‘ نے اُس شخص کو ’سچے قوم پرست‘ کی حیثیت سے عزت دینے کا فیصلہ کیا ہے پانڈے نے مبینہ طور پریہ بھی کہا کہ ہماری تنظیم کو فخر ہے کہ اس لڑکے نے جامعہ کیمپس میں ’’ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث طلبا‘‘ کو موزوں جواب دیا ہے‘‘ کاش!آج وہ کانگریسی مسلمان قائدین زندہ ہوتے;238; جنہوں نے دہلی کی جامعہ مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر تقسیم ہند کے موقع پر آزاد اسلامی ریاست پاکستان ہجرت کرنےوالے مسلمانوں کے احسن فیصلہ کو اپنی سخت تندوتیز تنقید کا نشانہ بنایا تھا آج وہ اپنی آنکھوں سے یہ بھارتی تماشا دیکھتے کہ آج کے باقی ماندہ ہند میں رہنے بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیسا سخت پْرتشدد امتیازی رویہ برتا جار ہا ہے ’’ہندومہاسبھائی ریاست ‘‘ کی متعصبانہ جھلکیاں دنیا کے سامنے آرہی ہیں ، جو ’’ہندوتوا کا ایک حقیقی مظہرہیں ‘‘ جہاں گاندھی کو غدارکہا جاتا ہے گاندھی جی کے قاتل مجرم گوڈسے کو محب وطن;238; ایک بہت کڑے بنیاد پرست اور ایک کڑی نسل پرست بھارتی ریاست ہے کی باگ ڈور جب سے آرایس ایس کے بھگتوں کے ہاتھوں میں آئی ہے اورجیسے فیصلے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے آ رہے ہیں لگتا ہے کہ بھارت بھر سے ’’مہاتما گاندھی‘‘ کانام ونشان مٹادیا جائے گا اب دیش میں جگہ جگہ ’’ناتھورام گوڈسے‘‘ کی تصویریں لگی دکھائی دیں گی کچھ عجب نہیں کہ کل کلاں کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے یہ فیصلہ آجائے کہ’ملکی کرنسی پر گاندھی جی کی نہیں بلکہ گوڈسے کی تصویر چھاپی جائے گی‘ ہوسکتا ہے یہ فیصلہ ہوجائے کیونکہ پورا دیش’سنگھ پریوار‘والے ہی چلارہے ہیں ، جو ناتھو رام گوڈسے کے نظریے کو عام کرنا چاہتے ہیں ، جنگی جنون کو ملک میں بڑھانا چاہتے ہیں مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کے اس بیان پر مغربی میڈیا کے تبصرہ نگاروں نے سخت زبان میں تنقید کی ہے جس میں اْنہوں نے بھارتی سینا ’’فوج‘‘کا نام ’’مودی سینا‘‘ رکھنے کی تجویز دی تھی جبکہ دوسری جانب آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے’’ سنگھ پریوار کی فوج‘‘ کو دیش کی فوج پر فوقیت دیتے ہوئے کہا تھا کہ’ ان کی فوج‘ دیش کی فوج سے زیادہ مستعد اورچست ہے دیش کی فوج کو تیاری میں اگر تین ماہ لگیں گے تو آرایس ایس کی فوج کو تیاری میں صرف تین دن کا وقفہ چاہئے‘‘کوئی غور کرئے نہ کرئے لیکن وہ عالمی حلقے یقینا اسی فکر میں سوچ بچار کررہے ہونگے کہ بھارت نے اپنی یہی روشیں یونہی جاری رکھیں توعالمی سفارتی سطح پر بھارت کی جارحانہ حمایت کی پالیسیاں کیسے اور کیونکر جاری رکھی جاسکتی ہیں ;238; ۔