1

میاں نوازشریف کی علاج کیلئے بیرون ملک روانگی کا تنازعہ

میاں نوازشریف کی بیماری پیچیدگی اور پلیٹس لیٹس میں کمی کے باعث ڈاکٹرز نے بیرون ملک علاج کا مشورہ دیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبعی بنیادوں پر میاں نوازشریف کی ضمانت کی درخواست پر 8ہفتوں کیلئے ضمانت منظور ہوئی تو بیرون ملک جانے کیلئے ایگزسٹ کنٹرول لسٹ سے نام کا اخراج ضروری تھا اس پر مسلم لیگ ’’ن‘‘کے صدر میاں شہباز شریف کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک درخواست دی گئی جس میں میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی استدعاکی گئی ، سیکرٹری داخلہ کے نام دی گئی درخواست پر وزارت داخلہ نے قانونی پہلوءوں کا جائزہ لیا اور درخواست قومی احتساب بیورو کو ریفر کی ، اس کے فوری بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا اور فیصلہ ہوا کہ میاں نوازشریف کا نام مشروط طور پر ای سی ایل سے نکال دیا جائے ۔ میاں نوازشریف کو روانگی سے قبل ایڈیمنٹی بانڈز جمع کرانے کی شرط عائد کی گئی مگر مسلم لیگ ’’ن‘‘کی جانب سے طویل مشاورت کے بعد 7ارب روپے کے ایڈیمنٹی بانڈز دینے کیلئے شریف فیملی سمیت کوئی بھی لیگی راہنما دینے کو تیار نہیں تھا، اس پر مسلم لیگ ’’ن‘‘کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں ای سی ایل سے نام نکالنے کےلئے پٹیشن دائر کی گئی اور لاہور ہائی کورٹ نے میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا گیا اوریوں میاں برادران کی انڈرٹیکنگ پر چار ہفتوں کیلئے میاں نوازشریف کو علاج کیلئے بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی گئی ، وفاقی حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے، وفاقی وزراء میں بھی اس فیصلے پر تقسم نظر آئی ، فواد چوہدری اور دیگر کا خیال ہے کہ اس فیصلے کو وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں چیلنج کرے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کے روز اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد وفاقی کابینہ سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے یا نہیں تاہم اتوار کے دن وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انورمنصورخان نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو حکومتی موقف کی جیت قرار دیا ، وزیراعظم کے مشیراور اٹارنی جنرل نے پریس بریفنگ میں بتایاکہ عدالت نے میاں برادران سے حلفیہ بیانات اسٹامپ پیپرز پر اس لئے کہ دونوں برادران صادق اور امین نہیں اور ماضی میں وہ وعدہ خلافی کرچکے ہیں ، اب چونکہ عدالت نے بیان حلفی لے لئے ہیں اگر میاں برادران واپس نہیں آتے تو پھر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63کے تحت وہ نا اہل ہوسکتے ہیں ، میاں نوازشریف کو تو پہلے ہی سپریم نے انہی آرٹیکلز کے تحت نا اہل قراردے رکھا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ سے میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ آیا تو لیگی کارکنان اور رہنماءوں نے نہ صرف بھنگڑے ڈالے بلکہ مٹھائیاں بھی تقسیم کیں اور وفاقی حکومت پر شدید تنقید بھی کی ، گزشتہ تین دنوں سے سوشل میڈیا پر جس طرح لیگی کارکنان میاں نوازشریف کے حق میں آنے والے اس فیصلے پر وزیراعظم عمران خان کامذاق اڑایاجارہاہے اس سے یہ تاثر نمایاں ہو رہاہے کہ جیسے تنازع ریاست بمقابلہ نوازشریف نہیں بلکہ عمران خان بمقابلہ نوازشریف تھا ۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد میاں نوازشریف کو 7ارب روپے کے ایڈیمنٹی بانڈز جمع کرانے پر بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی تھی تاہم مسلم لیگ ’’ن‘‘کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا، یہاں ایک بات واضح ہورہی ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد خوشیاں منانے والوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان یہ پیسے اپنے اکاونٹ میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے طلب کررہاتھا اور یہ غریب عوام ہی کے خون پسینے کے ٹیکسز کے پیسے تھے جنھیں لوٹاگیا ، اب عوام کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جس شخص کو وہ مجاہد اعظم اور ہیروقرار دے رہے ہیں وہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے سزایافتہ مجرم ہے جس پر منی لانڈرنگ اور آف شورز کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے ، باشعور قو میں ہ میں ملک کو ترجیح دیتی ہےں ، یہ ملک ہے تو سیاستدان بھی ہیں اور عوام بھی ۔ لیگی کارکنان ورہنماءوں کی جانب سے جس طرح فیصلے پر خوشیاں منائی جارہی ہیں یہ عوام کی کامیابی نہیں بلکہ مافیاکی کامیابی ہے جس اس ملک کی دولت کو بیرون ملک منتقل کرکے اپنے اہل وعیال کےلئے جائیدادیں بنارہے ہیں لیکن عوام کیلئے اتنے برس اقتدار میں رہنے کے باوجود کچھ بھی نہ کرسکے ۔ آج تین بار کا وزیراعظم محض اس لئے بیرون ملک علاج کیلئے جارہا ہے کہ اس ملک میں علاج کی سہولت میسر نہیں ، باشعور قومی ہمیشہ ملک وقوم کے مخلص راہنماءوں کو اپنا قائد مانتی ہیں ، لیگی بھائیوں سے معذرت کے ساتھ سوال کرنا چاہوں گاکہ کیا تین بار کے وزیراعظم نے اس ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال بنایا جہاں ان کا علاج ہوسکے ;238; اگر میاں نوازشریف اپنا علاج برطانیہ اور امریکہ کے مہنگے ہسپتالوں میں کراسکتا ہے تو ایک غریب شخص کیا بیرون ملک علاج کیلئے جاسکتاہے ;238; جن سیاستدانوں نے ملکی دولت لوٹی ان کی اندھی تقلید کیوں ;238; کیا ان سیاست دانوں کا محاسبہ صرف قومی احتساب بیورو نے کرنا ہے ;238; کیا عوام ان کرپٹ سیاستدانوں کا محاسبہ نہیں کرسکتے ;238; کرپشن کے الزامات میں قید سیاستدان اپنے بے گناہی ثابت کرکے باعزت بری ہوجائیں تو پھر ان کے پیروکاروں کو بے شک پھولوں کے ہار پہناکر استقبال کرناچاہیے لیکن ہمارے ہاں المیہ ہے کہ سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو اس ملک کا ایک ایسابھی طبقہ ہے جو ان ملزموں اور مجرموں کا والہانہ استقبال کرتاہے ، ہ میں اپنی یہ روش بدلنی ہوگی ، ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب عوام میں شعور آئیگا اورعوام کو اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا احتساب کرنے اور عوام کیلئے مخلص حکمرانوں کی پہنچان ہوگی ۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں