Home » کالم » میدانِ کربلا اور فلسفہ شہادت

میدانِ کربلا اور فلسفہ شہادت

آج ےوم عاشور ہے ۔ عاشور اسلامی سال کے پہلے عشرے کے آخری دن کو کہتے ہےں ۔ 10محرم 61ھ کو تارےخ اسلام کا وہ دردناک سانحہ برپا ہو گےا کہ جس نے پوری انسانےت کو لرزہ بر اندام کر دےا ۔ مصائب و آلام سے بھری اس دنےا مےں کوئی سانحہ اےسا رونما نہےں ہوا جس پر صدےوں تک آنسو بہائے جائےں ۔ کوئی بھی دلدوز منظر دےکھ اور سن کر رنجےدہ و غمگےن ہونا فطری امر ہے لےکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اثرات کی حدت وشدت کم ہوتی چلی جاتی ہے لےکن جو قربانی10محرم الحرام کو فرات کے کنارے حضرت امام حسےن;230; نے پےش کی اس کی شان ہی نرالی ہے ۔ تارےخ اسلام ہر سال کے آغاز پر اسی طرح دہراتی رہے گی اور جوان مردی پر صدق دل سے انہےں خراج تحسےن پےش کرتی رہے گی ۔ 61ھ سے پہلے کا منظر ہے،اےسا دلفرےب و پاکےزہ منظر، فضائےں معطر،ہوائےں آسمانی نغموں سے معمور،فرشتے خوشی ومسرت سے سرشار پروردگار عالم کی تقدےس کرتے ہوئے ادھر سے ادھر محو پرواز ہےں ،کائنات مسحور کن کےفےتوں کاشاہکار بنی آسمانی ضےاء پاشےوں سے جگمگا رہی ہے ۔ چاند اور تارے نئی چمک و دمک سے جھلملا رہے ہےں ،شہر کی روشنےاں نرالی آب و تاب سے مزےن ہےں ۔ رب کعبہ کا بندہ اعظم آنے والے بچے کے احترام مےں سر بسجود ہے،کےوں نہ ہوآج خدا کا حسےن ترےن شاہکار عالم وجود مےں آنے والا ہے،ےکاےک فاطمہ;230; کا حجرہ مبارک نور سے جگمگا اٹھا اور درو دےوار روشن ہو گئے ۔ رسول خدا ﷺ نے بچے کو زانو پر لٹا کر اس کے گلے کا بوسہ دےا اور فرماےا کہ مےرا ےہ بےٹا جس کے کارنامے کو دنےا ہمےشہ ےاد رکھے گی ۔ علی کرم ا;203; وجہہ تمہےں ےہ بےٹا مبارک ہو ۔ آپ;248; نے ےہ پشےن گوئی کر دی تھی کہ اےک وقت اےسا آئے گا کہ مےری ہی امت کے لوگ مےرے حسےن;230; کی گردن پر تلوار چلائےں گے ۔ آخر وہ وقت آگےا ۔ دشت کرب و بلا مےں وہ قافلہ لٹ گےا جو روئے زمےن پر سب سے مقدس قافلہ تھا،اےک پاکےزہ گھرانہ اجڑ گےا جس کے دم سے ےہ کائنات بس رہی ہے،وہ جوان شہےد کر دیے گئے جن کی شرافت کی قسم ملاءک کھاتے تھے،وہ معصوم بچے ذبح کر دیے گئے جنہےں حوران بہشتی لوری دےا کرتی تھےں ، وہ عفےفہ بےبےاں بے حجاب کر دی گئےں جن سے زمانے نے حےاء پائی ۔ رحمت دوعالم نے بچے کو زانو پر بٹھا کر جو فرما ےا تھا اور جو پشےن گوئی کی تھی وہ سچی ثابت ہوئی ۔ اےک آواز تھی جو کربلا کی صحراءوں کو چےرتی ہوئی ابھری،جس نے فضاءوں مےں ارتعاش پےدا کر دےا، پرندے ٹھہر گئے،ہوائےں ساکن ہو گئےں ، دھوپ کی رنگت زرد پڑ گئی ۔ ےہ امن کے شہزادے حسےن;230; ابن علی;230; کی آواز تھی جو کہہ رہی تھی’’ لوگو مےرا حسب نسب ےاد کرو،اپنے گرےبانوں مےں منہ ڈالو،اپنے ضمےر کا محاسبہ کرو،کےا تمہارے لئے مےرا قتل کرنا اور مےری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے ۔ ۔ ۔ ;238; کےا مےں تمہارے نبی;248; کی بےٹی کا بےٹا اور ان کے عم زاد کا بےٹا نہےں ہوں ;238; کےا سےد الشہداء حضرت حمزہ;230; مےرے چچا نہےں تھے;238; کےا تم نے رسول;248;کا وہ مشہور قول نہےں سنا کہ حسن;230; اور حسےن;230; جوانان جنت کے سردار ہےں ;238; لےکن اعدائے حسےن;230; کے کان سماعت سے محروم ہو چکے تھے ۔ نو اور دس کی درمےانی رات اپنی سےاہ زلفےں بکھےر چکی ہے صحرائے کربلا مےں دسوےں رات کے چاند کی اداس کرنےں کہہ رہی ہےں کہ اے کربلا کی سر زمےن تےری پشت پر اس قافلے کی ےہ آخری رات ہے کل ےہ پےاسا قافلہ لٹ جائے گا زہرائے ثانی زےنب;174; سےد سجاد کی تےمار داری مےں مصروف ہےں ۔ اچانک اس صابرہ کے ہاتھ سے دامن صبر جاتا رہا،ساتھ والے خےمے سے امام مظلوم کی آواز آرہی ہے ۔ ’’ اے زمانے تےرا برا ہو، تو کےا بے وفا دوست ہے صبح شام تےرے ہاتھ سے کتنے مارے جاتے ہےں ،تو کسی کی رعاءت نہےں کرتا،کسی سے عوض قبول نہےں کرتا اور سارا معاملہ ا;203; کے ہاتھ مےں ہے،ہر زندہ موت کی راہ پر چلا جا رہا ہے ۔ ‘‘امام عالی مقام;230; نے اپنے وفا شعار عزےزوں ،بھائےوں اور اعےان و انصار سے فرماےا کہ آج کسی شخص کے ساتھ اےسے وفا شعار اور نےکوکار نہےں ہےں جےسے مےرے ساتھی اور کسی کے اہلبےت مےری اہلبےت سے زےادہ ثابت قدم نظر آتے ہےں ۔ مےرے وفادار ساتھےو! مےری طرف سے آپ پر کوئی دباءو نہےں ،مےں جانتا ہوں کہ ےہ مےدان کارزار مےرا مقتل بننے والا ہے دشمن مےرا طلبگار ہے جب وہ مجھے پا لےں گے تو پھر وہ کسی سے تعرض نہ کرےں گے ۔ مےری طرف سے تم آزاد ہو اپنی اپنی آبادےوں اور شہروں مےں پھےل جاءو ۔ امام عالی مقام تقرےر فرما رہے ہےں اور حاضرےن کی آنکھوں مےں آنسو تےر رہے ۔ ہےں ان کے تمتماتے چہرے بتا رہے ہےں کہ ان کے سےنوں مےں اےک لاوا ہے جو ابھی پھٹ پڑے گا ۔ تقرےر کے خاتمہ پر سب بول اٹھے ہم آپ پر اپنی جان ومال،آل اولاد سب کچھ قربان کر دےں گے ۔ آپ کے بعد خدا ہمےں زندہ نہ رکھے ۔ آخر دسوےں محرم کا سورج طلوع ہوا جس نے اس سے قبل خطہ ارض پر اےسا ظلم نہ دےکھا تھا ،نبی;248; کا نواسہ جس کے گلے پر سرتاج انبےاء نے بوسے دیے تھے آج دشمن نے اس کی گردن کے خون سے اپنی تلوارےں سرخ کر لےں ۔ کربلا کی فضاءوں مےں وہ منظر آج بھی تابندہ ہے کہ کسی کی کمان مےں تےر تھا کسی کے ہاتھ مےں پتھر اور کسی کے ہاتھ مےں تلوار لشکر حسےن;230; پر پھےنکنے کےلئے ۔ کوئی اپنی جان کا نذرانہ لے کر دشمن کے لشکر سے بھاگا آ رہا تھا کہ قدموں مےں لوٹ کر سعادتوں سے جھولےاں بھرے ۔ حر;230; کے ےہ الفاظ جو اس نے اوس بن حاجر کے جواب مےں کہے تھے تارےخ کا درخشاں حصہ بن گئے کہ’’ مےں بخدا جنت ےا دوزخ سے اےک کا انتخاب کر رہا ہوں اور ا;203; کی قسم مےں نے اپنے لئے جنت کا انتخاب کر لےاہے اگرچہ مجھے اس کے عوض ٹکڑے ٹکڑ ے کر دےا جائے‘‘ ۔ حر جو ابھی تھوڑی دےر پہلے جہنم کے دہانے پر کھڑا تھا آن واحد مےں جنت کے سبزہ زاروں مےں پہنچ گےا ۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے ندامت کے آنسوءوں نے جہنم کے لپکتے بھڑکتے شعلوں کو سرد کر دےا ۔ حر کو تسکےن قلبی مل گئی ۔ کربلا کے صحرا مےں اےک طرف مادی وسائل کا مظاہرہ تھا تو دوسری طرف ارفع خصائل کی نمود ۔ آپ نے شبےہ رسول;248; کی نعش تپتی رےت پر تڑپتے دےکھی ۔ ننھے علی اصغر کو دم توڑتے دےکھا،بھائی کی امانت قاسم کے لاشے کو سمےٹ کر لائے،عباس علمدار جےسے بہادر کی مفارقت کی پروا نہ کی،اپنے فرض کو ادا کےا اور مستقبل کےلئے تلاش حق کی منزل مےں نشان راہ متعےن کر دےئے ۔ ان کی ےہی قربانی جادہ حق کے راہبروں کےلئے مےنارہ نور اور نشان منزل ہے ۔ آخرکار لشکر اعداء تنہا حسےن;230; پر ٹوٹ پڑا،تشنہ لب حسےن;174; اب بھی پہاڑ کی طرح ثابت قدم تھے مسلسل وار سہہ رہے تھے کہ تےر آےا اور آپ;174; کے حلق مےں پےوست ہو گےا ۔ تےر کھےنچا ہاتھ منہ کی طرف اٹھا تو چلو خون سے بھر گئے ۔ خون آسمان کی طرف اچھال دےا اور فرماےا’’ ا;203; تےرا شکر ہے،مےرا شکوہ تجھی سے ہے،دےکھ تےرے رسول;248; کے نواسے سے کےا ہو رہا ہے‘‘ ۔ ےہ تارےخ کے سےاہ ترےن اوراق ہےں اور ظلم کی بدترےن مثال کہ شہادت کے بعد آپ;248; کے نواسہ کو گھوڑوں تلے پامال کر دےا گےا اور سر اقدس کو نےزے کی نوک پر بلند کےا ۔ امام مظلوم نے نےزے کی نوک پر کتاب ا;203; کی تلاوت فرما کر شہےد کی حےات جاوداں کی تصدےق فرما دی ۔ آپ;248; کی شہادت پر حضرت زےد ;230;بن ارقم کے ےہ الفاظ کبھی فراموش نہےں کئے جا سکتے جو انہوں نے آپ;230; کا کٹا ہوا سر دےکھ کر ابن زےاد کے دربار مےں کہے تھے’’ اے عرب! آج سے تم غلام ہو تم نے ابن فاطمہ;230; کو قتل کےا ابن مرجانہ عبےدا;203; ابن زےاد کو حاکم بناےا وہ تمہارے نےک انسان قتل کرتا اور تمہارے شرےروں کو غلام بناتا ہے،ا;203; تمہےں تباہ کرے جو ذلت قبول کرتے ہےں ‘‘ ۔ امام عالی مقام نے اپنی اور ساتھےوں کی قربانےاں دے کر دنےا پر ےہ حقےقت آشکار کی کہ غصب و ناجائز طرےقے سے جو حکومت بھی قائم ہو ارباب عزےمت کا فرض ہے کہ اس سے اپنی بےزاری کا اظہار کرےں اور اس کے راستے مےں دےوار بن جائےں اس کےلئے خواہ کتنے ہی ظلم سہنے پڑےں ۔ حق وباطل مےں ازلی آوےزش کا ےہ آخری معرکہ درےائے فرات کے کنارے جس انداز مےں حسےن;230; ابن علی;230; نے لڑا دنےا کی تارےخ اس کا جواب پےش نہےں کر سکتی ۔ آپ;230; نے ظلم وجور اور فسق و فجور کے بڑھتے ہوئے طوفان کے آگے اپنے مقدس خون سے وہ سرخ لکےر کھےنچ دی جسے قےامت تک طاغوتی قوتےں نہ مٹا سکےں گی ۔ آ ج دنےا مےں جمہورےت اور اقتدار اعلیٰ تک پہنچنے کےلئے جو بھی اخلاقی، سماجی اور سےاسی اصول و ضوبط اور قوانےن موجود ہےں ان کی اساس در اصل وہی قربانی ہے جو کربلا کے مقام پر امام حسےن;230; اور ان کے ساتھےوں نے دی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative