میلادالنبی ﷺ کے روز دہشت گردی اور افغان سر زمینا

14

عیدمیلادالنبیﷺ کے عظیم دن کی الصبح پشاور میں زرعی ڈائریکٹریٹ پر دہشت گردوں کے وحشانہ حملے سے ثابت ہو گیا ہے کہ حملہ آوروں،ان کے سہولت کاروں،ان کے پشت پناہوں اور حمایتیوں کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھے بھیڑئیے ہیں ۔ چاروں حملہ آور جوابی کارروائی میں واصل جہنم ہوئے مگر نو گھرانوں میں صف ماتم بھی بچھا گئے۔اس وحشیانہ کارروائی کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے جو افغانستان سے آپریٹ ہو رہی ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہا کہ حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے۔پاکستان بار ہا ایسی کارروائیوں کا شکار چلا آ رہا ہے جن کے تانے بانے افغان سر زمین سے جڑے ملتے ہیں ۔ٹی ٹی پی کی دہشت گرد قیادت پاکستان کو مطلوب ہے جو افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے ۔پاکستان غنی حکومت سے حوالگی کا تقاضہ کرتا رہتا ہے ۔بھاری اور ٹھوس شواہد کیساتھ افغان حکومت کو یہ بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ کس طرح اس کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس بھارتی ایجنسی Raw کی آلہ کار بن کر پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے مگراس معاملے میں آج تک افغان سرکار نے پاکستان کوئی مثبت جواب نہیں دیا الٹا الزام تراشی سے کشیدگی کو ہوا دی ۔افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان دشمنی میں وہ تیزی کیساتھ بھارتی دلدل میں دھنسا جا رہا ہے۔سفارتی اور تجارتی مراسم کو مضبوط بنانے کیلئے تمام ملکی وقار بھی داؤ پر لگادیاہے۔ابھی گزشتہ ماہ کے اوائل میں بھارت سے گندم کی پہلی کھیپ براستہ چا بہار افغانستان پہنچی تو افغان حکومت پھولے نہیں سما رہی تھی ۔ گیارہ لاکھ ٹن گندم کی یہ کھیپ افغان صوبہ نمروزپہنچی، جہاں چابہار نمروز ٹریڈ روٹ کی افتتاحی تقریب میں صوبے کے گورنر اور افغانستان میں تعینات بھارتی سفیر بھی شریک ہوئے۔تقریب سے خطاب میں گورنرنمروز کا فخریہ لہجے میں کہنا تھا کہ چابہار پورٹ فعال ہونے سے افغانستان کا کراچی پورٹ پر انحصار ختم ہوجائیگا ۔تباہ حال اور مٹی کے ڈھیر افغانستان پر بیٹھے عاقبت نا اندیش افغان حکام کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ان کا پاکستان پر انحصار کم ہو رہا ہے ۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ کسی بھی ملک کا کسی دوسرے ملک پر انحصار نہ ہو بلکہ وہ اپنے وسائل سے اپنی عوام کا پیٹ پال سکے لیکن افغانستان جغرافیائی لحاظ سے اس قابل نہیں کہ وہ پاکستان کو بائی پاس کر کے زیادہ عرصہ تک ملکی معیشت کا سنبھال سکے ۔ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ ایسی کوئی راہ سمجھ نہیں آتی، جس سے یہ نظر آئے کہ افغان معیشت پاکستان سے رسائی کے بغیر ترقی کرے بلکہ زندہ بھی رہ سکے۔افغان حکام جانے کن خوابوں کی دنیاوں میں رہتے ہیں کہ اسلام آباد سے جان چھڑا کر دہلی کی جھولی میں گرنے کو خود انحصاری سے تعبیر کر رہے ہیں ۔یہ ایسے ہی ہے آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔بھارت کتنا قابل اعتبار ہے اس کی ایک جھلک اسی تجارتی بسم اللہ میں دیکھی گئی ہے ۔افغان عوام کیلئے بھارتی من و سلویٰ سمجھی جانے والی گندم کی پہلی کھیپ ہی وزن میں کم اور کوالٹی میں ناقص نکلی ۔اسکی بنیادی وجہ شاید بھارت کی شپنگ کا سسٹم ناقص ہے یا پھر گندم چوری ہوئی ہے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے وزن بڑھانے کے لیے گندم کی نمی کا تناسب زیادہ رکھا گیا ہو جو طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد جب افغانستان پہنچی تو اسمیں نمی کم ہو کر نارمل ہو گئی ہو ۔تاہم جو بھی ہے یہ کرپشن ہی ہے جس سے افغان قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچے گا ۔جبکہ افغانستان کو یہی گندم اگر چابہار کی بجائے، کراچی کے راستے یا واہگہ کے راستے جائے تو اس پر کہیں کم لاگت آئے گی۔چابہار کے راستے سے گندم کے مال برداری کے اخراجات گندم کی اصل قیمت سے بھی کئی گنا زیادہ پڑتے ہیں۔سخت ترین سرحدی صورتحال کے باوجود افغانستان کا عام تاجر آج بھی پاکستان سے تجارت کو ترجیحی دیتا ہے ۔طورخم ٹیکسی اسٹینڈ پر 3ہزار ٹیکسیاں یومیہ افغان باشندوں اور تاجروں کو لے کر پاکستان داخل ہو رہی ہیں ۔درست سفری دستاویزات کیساتھ پاکستان آمد کے بعد طورخم سرحد پر برآمدات اور درآمدات کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔مگر اس کا کیا کیجیے کہ غنی حکومت بھارت کے دام فریب سے نکلنے ہی نہیں پا رہی۔بھارت، ایران اور افغانستان کی جانب سے جون 2016 میں چابہار پورٹ کو متعارف کرایا گیا تھا جسکا بظاہر بڑا مقصد افغانی مصنوعات کو بھارتی مارکیٹ تک رسائی دلانا بتا گیا لیکن اسکے پیچھے اصل حقیقت سی پیک کی خلش ہے جو بھارتی سرکار کو بے چین کیے ہوئے ہے ۔بھارت کو یہ خدشہ ہے کہ سی پیک کے آگے بڑھنے سے افغانستان اور اسکی منڈی اسکے ہاتھ سے نکل جائے گی ۔اس لیے بھارت نے چابہار کے مردہ گھوڑے پر سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا جو کہ ہر لحاظ سے گھاٹے کا سودا ہے ۔ان دونوں ممالک کیلئے پاکستان کے علاوہ ہر راستہ اندھا کنواں ہے جبکہ پاکستان نے سازشوں اور دہشت گردی کے پیش نظر اپنے راستے بھارت کیلئے بند کر رکھے ہیں ۔ افغانستان کو اجازت ہے کہ وہ اپنا مال واہگہ کے راستے بھارت بھیج سکتا ہے مگر غنی حکومت بضد ہے کہ نہیں بھارت کو بھی اسی راستے اجازت دی جائے ۔بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ یہ شپمنٹ بھارت، افغانستان اور ایران کے درمیان خطے میں تجارت اور کاروبار کو وسعت دینے کا آغاز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ثقافت سے تجارت تک کے سفر کا نقطہ آغاز ہے جسمیں اقدارسے ٹیکنالوجی،سرمایہ کاری سے انفارمیشن ٹیکنالوجی ، خدمات سے حکمت عملی اور لوگوں سے سیاست تک کا سفر ہے ‘‘۔یہ تو بھارتی خواب ہے لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بھارت جو امریکہ کی کٹھ پتلی بن چکا ہے کو اس تجارتی راہداری میں ایران کا کردار بھی قبول ہے یا نہیں ۔امریکہ کیسے چاہے گا کہ اس سے ایرانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں ۔امریکی سیاسی و سفارتی ماہرین کے نزدیک یہ امریکی مفادات سے متصادم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام اس کے مفاد میں تو ہے لیکن امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔بلاشبہ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت افغانستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے لیکن دوسری طرف امریکہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ ایران خطے میں کسی تجارتی اہمیت کی حامل سرگرمی میں ملوث ہو۔یقیناًجب چابہار سے جوں جوں تجارت آگے بڑھے گی تو اس سے حاصل ہونے والے محصولات سے ایرانی معیشت پر اچھے اثرات ہی پڑیں گے۔اس ملین ڈالر سوال کا جواب تو آنے والے دنوں میں ملے گا تاہم یہ بات افغانی حکمرانوں اور عوام کو سوچنا ہو گی کہ بھارت صرف اپنے مفادات اور پاکستان کو زچ کرنے کیلئے افغانستان میں پیسے خرچ کر رہا ہے ورنہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہندو بنیا کسی مسلمان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔ بھارت کے اندر مسلمانوں کا کیا حال ہے افغان حکام کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے ۔کشمیر میں کیا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اس پر بھی کیا ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں تو پھر دعا خیر ہی کرنی چاہیے۔