Home » کالم » میڈیا کورٹس۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا کا محسن کون؟

میڈیا کورٹس۔۔۔۔۔۔۔ میڈیا کا محسن کون؟

مقالہ خصوصی
ایس کے نیازی
صحافتی حلقوں میں یہ بحث بڑے زوروں پر ہے کہ میڈیا عدالتوں کے قیام کا فیصلہ ہو رہا ہے تو کیا یہ اچھا فیصلہ ہے اور اس پر اتفاق رائے ہے کہ یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے ۔ کل روز نیوز کے ایئر مارشل (ر)شاہد لطیف کے پروگرام ’’ کرنٹ افیئر ز ‘‘ میں یہی موضوع زیر بحث تھا،مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ سی پی این ای کے نائب صدر بھی ہیں تو آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے;238; میں نے ان سے کہا کہ آپ لکھ لیں ایسی کوئی عدالتیں نہیں بن رہیں ۔ حکومت میں سے کوئی اگر بلاوجہ کا ایک الجھاءو چاہتا بھی ہے تب بھی نہیں بن رہیں کیونکہ ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں جو معاملات کو سمجھتے ہیں ، جانتے ہیں ، بصیرت بھی رکھتے ہیں ،ایشو اور نان ایشو ز کی تفریق سے بھی کماحقہ آگاہ ہیں ۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں حکومتی وزراء اس فیصلے پر عمل کر لیں ۔ کرنے کے اور بہت سارے کام ہیں شگوفے چھوڑنے کی بجائے وہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ عدالتیں ہر گز نہیں بن پائیں گی ۔ وزیر اعظم کے بارے میں اب بھی میرا یہ ہی خیال ہے کہ وہ قائد اعظم ;231; کا وژن لے کر چلنا چاہتے ہیں تاہم انہیں اپنے ارد گرد ایسے لوگوں پر نظر رکھنا ہو گی جو اُن کی جدو جہد کے ثمرات ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں

مزید کریدا تو میں نے کہا ذرا معلوم تو کریں کس نے کہاں یہ درخواست کی ہے اور کس نے کسے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا تا کہ آپ صحافیوں کو بھی معلوم تو ہو کہ آپ کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا وہاں سے آیا ہے جن کو چلتے پھرتے کہنی مارنا اور جن سے گلے کرنا ہماری عادت ہے ۔ کیا پتہ وہی محسن میڈیا ہوں ۔ سوال جواب کافی ہو گئے تو میں نے کہا اچھا میں آپ کو بتا ہی دیتا ہوں کہ کہیں کوئی ڈنر تھا جہاں میں بھی تھا ، میرے ساتھ ڈان گروپ کے حمیدہارون ،دنیا گروپ کے میاں عامر محمود ، جنگ گروپ کے ابراہیم، ایکسپریس کے سلطان لاکھانی،ہم نیوز کے دریداور عبد الرحمان ،میاں حنیف، محسن نقوی،آفتاب اقبال ودیگر ہمارے دوست بھی موجود تھے ، وہاں میں نے کسی سے درخواست کی اور کہا کہ سی پی این ای کے اجلاس میں جو برادرم عارف نظامی کی سربراہی میں ہوا اس فیصلے پر بے چینی ہے اور کسی نے ہ میں یقین دلایا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ اسی کھانے پر میں نے میڈیا ٹربیونل بارے بات کی اور میزبان نے تسلی دی کہ نیازی صاحب ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا ۔ میٹنگ کے بعد ہیڈ ٹیبل پر جب بات ہوئی تو وہاں پر میرے دوست میاں عامر محمود ، حمید ہارون ،سلطان لاکھانی، ابراہیم، اور درید میرے ساتھ موجود تھے ، یہاں بھی میڈیا کورٹس کا موضوع ہی زیر بحث رہا ،اور میزبان نے یہاں بھی مجھے یقین دہانی کرائی کہ میڈیا کورٹس نہیں بنیں گی ،اب باقی کا کام میڈیا خود کر لے کہ معاملہ کیا ہے ;238;کس نے میڈیا ٹربیونل بارے بات کی اور کس نے میڈیا ٹربیونل نہ بننے کی یقین دہانی کرائی ،جس نے بچایا وہی محسن ہے ، ہو سکتا ہے کہ میڈیا اسی محسن کے بارے میں سب سے زیادہ اشارے کنایوں میں اور براہ راست گلے شکوے کرتا ہو ، اس واقعہ کے بعد میڈیا اور ہ میں پتہ چلنا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے اور پر سیپشن کیا ہے ، بعض اوقات ہم لوگ پرسیپشن پر جا رہے ہوتے ہیں حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ،میڈیا مالکان کو بھی محسوس ہو گیا ہو گا کہ پرسیپشن کچھ اور تھی اور حقیقت کچھ اور ہے ،حقیقت یہ ہی ہے جو ہم نے میٹنگ اور کھانا کھاتے ہوئے دیکھی اور سنی نیز فردوس عاشق اعوان جو بولنے پر مجبو ر ہوئیں ، پروگرام میں دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا میڈیا والے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ;238; اگر باقی سب کا احتساب ہو سکتا ہے تو آپ کا کیوں نہیں ہو سکتا;238;اس کے جواب میں ، میں نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن اس کے لیے نئے قانون یا نئی عدالتوں کی کیا ضرورت ۔ کیا پہلے کوئی قانون یا عدالت موجود نہیں جو میڈیا کا احتساب کر سکے;238; یہاں معمولی سی کوتاہی ہو جائے تو اس پر پیمرا کی طرف سے لاکھوں کے جرمانے عائد کر دیے جاتے ہیں گویا چینلز میں درختوں پر ہیرے جواہرات لگتے ہوں ۔ اور لاکھوں روپے تو کوئی بات ہی نہ ہو ۔ تعزیرات پاکستان کے تحت سنگین سے سنگین جرم میں اتنا جرمانہ شاید نہ ہو جتنا جرمانہ پیمرا کے ہمارے مہربان کسی کی شادی کی خبر چلانے پر کر دیتے ہیں ۔ بہت سارے قوانین پہلے ہی موجود ہیں اور عدالتیں بھی کام کر رہی ہیں ۔ نئی عدالتوں کا انتظامی بوجھ کس لیے پیدا کیا جا رہا ہے;238; ججز کی تعداد پہلے ہی کم ہے اور نئی عدالتیں بنا کر کیا مزید بحران پیدا کرنا ہے;238; ساتھ ہی ساتھ بہت سے اور تحفظات بھی موجود ہیں ۔ اس لیے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایسے شوشے تو چھوڑے جا سکتے ہین لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکتا ۔

پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میڈیا کے لیے کوئی قانون نہیں تو وہ غلط سمجھتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے قانون موجود ہیں ۔ پیمرا آرڈیننس 2002 ہے، پیمرا کے 2009 کے رولز ہیں ، پیمرا رولز 2010 کے تحت کونسل آف کمپلیٹس ہے ، 2008 کی پیمرا ریگولیشنز ہیں ، 2012 کی پیمرا کنٹینٹ ریگولیشنز ہیں ، 2012 کی براڈ کاسٹ سٹیشن آپریشن ریگولیشنز ہیں ، 2011 کی ڈسٹری بیوشن ریگولیشنز ہیں ، اور تعزیرات پاکستان کی جملہ دفعات بھی ساتھ ہی موجود ہیں ۔ جن کا میڈیا پر اسی طرح اطلاق ہوتا جیسے کسی اور پر ۔

اس کے ساتھ ساتھ ان ڈیسنٹ ایڈ وزٹز منٹ کی ممانعت کا 1963کا ایکٹ موجود ہے جو نا شائستہ اشتہارات اور کمرشلز کو بھی روکتا ہے اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوتی ہے ۔ پریس ، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسی رجسٹریشن ایکٹ 2002 موجود ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پریس ، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسی رجسٹریشن رولز 2009 موجود ہیں ، 2002 کا پریس کونسل آف پاکستان آرڈیننس موجود ہے، نیوز پرنٹ کنٹرول آرڈیننس ہے ، کنٹرول آف ایڈ ورٹزمنٹ ریگولیشنز موجود ہیں ، لاء رپورٹس ایکٹ ہے ، ہتک عزت کا قانون موجود ہے ، اس میں دیوانی اور فوجداری دونوں کارروائیوں کی گنجائش موجود ہے ، توہین عدالت کا قانون ہے ، سیکورٹی آف پاکستان ایکٹ ہے ، کاپی راءٹ آرڈیننس ، کاپی راءٹ رولز اور انٹر نیشنل کاپی راءٹ آرڈر موجود ہے، نیوزپیپرز ایمپلائز ایکٹ موجود ہے ، آئی ٹی این ای کے رولز موجود ہیں ، 1960کے ورکنگ جرنلسٹ رولز موجود ہیں ۔ ان سب کے علاوہ صوبائی سطح پر بھی قوانین موجود ہیں ۔

حکومتی مشینری اگر ان معاملات کو نہیں سمجھتی تو ریاست میں ایسے لوگ ہیں جو ان معاملات کو سمجھتے ہیں ۔ جب میں نے ان کے سامنے معاملہ رکھا تو وہ یہ سب جانتے تھے تبھی تو یقین دہانی دلا دی کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ ابھی میں اس شو میں رائے دے کر کمرے میں پہنچا ہوں تو ٹی وی پر چل رہا ہے فردوس عاشق اعوان صاحبہ کہہ رہی ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ وزیر صاحبہ درست کہہ رہی ہیں ۔ اچھی بات کر رہی ہیں لیکن شکریہ تو محسن ہی کا ادا کرنا چاہیے ۔ جس نے یہ کرایا ہے

About Admin

Google Analytics Alternative