اداریہ کالم

نئے چیف جسٹس سے توقعات

idaria

بالآخر قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا منصب سنبھال لیا ہے اور باضابطہ طور پر مقدمات کی سماعت بھی شروع کردی ہے ، سابقہ دور حکومت میں قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے علیحدہ کرنے کیلئے پوری کمپین چلائی گئی اور انہیں اور ان کی اہلیہ کو بدنام کرنے کیلئے باقاعدہ طور پر نہ صرف ان کا میڈیا ٹرائل کیا گیا بلکہ موجودہ صدر مملکت نے ان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھی بجھوایا مگر جسے اللہ عزت دینے کا فیصلہ کرلے تو پھر کوئی اس سے نہ توکوئی عزت چھین سکتا ہے اور نہ ہی اس کے مقام اور منصب سے گراسکتا ہے ، یہی کچھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں ہو ا کہ ان کے خلاف بھجوائے جانے والے ریفرنس حکومت کو واپس لینے پڑے اور اللہ نے انہیں ہر معاملے میں سرخرو کیا اور گزشتہ روز ان سے حلف بھی انہیں صدر مملکت نے لیا جنہوں ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھجوایا تھا تاہم اللہ کی ذات جانب سے کئے جانے والے فیصلے معتبر اور مستقبل ہوا کرتے ہیں ، پاکستانی قوم قاضی فائز عیسیٰ کے والد محترم قاضی عیسیٰ کے تحریک پاکستان میں ادا کئے جانے والے بھرپور کردار سے اچھی طرح واقف ہے اور موجودہ چیف جسٹس کی دیانتداری ،ایمانداری کے بارے میں اچھی طرح جانتی ہے ، اسلئے ان سے بے پناہ توقعات قائم کئے ہوئے ہیں ، امید یہی ہے کہ انشاءاللہ وہ ہر معاملے میں انصاف سے کام لیں گے اور ثابت کرکے دکھائیں کہ وہ پوری قوم کے متفقہ چیف جسٹس ہیں۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔قاضی فائز عیسیٰ نے 5ستمبر 2014کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا، 2019میں صدارتی ریفرنس کے بعد سینئر ترین جج ہونے کے باوجود انہیں تین سال سے کسی آئینی مقدمے کے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا ۔26اکتوبر 1959کو کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے والد مرحوم قاضی محمد عیسیٰ آف پشین قیامِ پاکستان کی تحریک کے سرکردہ رہنما اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے۔کوئٹہ سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کراچی میں کراچی گرامر اسکول سے اے اوراو لیول مکمل کیا اورپھر قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے لندن چلے گئے جہاں انہوں نے انز آف کورٹ اسکول آف لا سے بار پروفیشنل اگزامینیشن مکمل کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 30جنوری 1985کو بلوچستان ہائی کورٹ میں اور مارچ 1998میں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بنے، تین نومبر 2007کو ملک میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے والے ججز کے سامنے پیش نہیں ہوں گے ۔ اسی دوران سپریم کورٹ کی جانب سے 3نومبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اس وقت کے بلوچستان ہائی کورٹ کے ججز نے استعفیٰ دے دیا تو 5اگست 2009کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو براہ راست بلوچستان ہائیکورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بلوچستان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جج مقرر ہونے سے قبل 27سال تک وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے انہیں مختلف مواقع پر ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد مشکل کیسز میں معاونت کیلئے بھی طلب کیا جاتا رہا جبکہ ساتھ ہی بین الاقوامی ثالثی کو بھی دیکھتے رہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ میں 184تین کے اختیارات اور بینچز کی تشکیل کے معاملے پر حکومت کی جانب سے کی گئی قانون سازی، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے عمل درآمد نہ کرنے اور حکم امتناع دینے پر بطور احتجاج گزشتہ پانچ ماہ سے کوئی مقدمہ نہیں سن رہے اور چیمبر ورک میں مصروف رہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بطور چیف جسٹس پاکستان دور بہت مختصر ہوگا، 25 اکتوبر 2024کو عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ان کا دور یقینا پاکستان میں قانون ، انصاف اور عدلیہ کی بالادستی کا دور تسلیم کیا جائے گا۔
افغان ہم منصب کے نام وزیر اعظم کا جوابی خط
پاکستانی قوم اور حکومت ہمیشہ سے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش کا عملی اظہار کرتی رہتی ہے کیونکہ ہماری خواہش ہے کہ علاقائی مسائل کے حل کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات دوستانہ اور برادرانہ نوعیت کے ہونے چاہئیں اور کسی قسم کے جھگڑے نہیں ہونے چاہیے اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کی یہ بھی خواہش ہے کہ پڑوسی ممالک کو اپنی سرزمین ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی روایت بھی ہونی چاہیے مگر بدقسمتی سے افغانستان ہماراوہ ہمسایہ ہے جس سے ہمیں کبھی بھی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں آیا ، کبھی وہاں بیٹھ کر پختونستان کا شوشہ چھوڑا گیا تو کبھی بھارت کو پاکستانی سرحدوں کے ساتھ قونصل خانے بنانے کی اجازت دی گئی اور کبھی دہشتگردوں کو پاکستان میں داخل ہونے کیلئے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی مگر پاکستان نے 1979میں جب سوویت یونین نے اپنی افواج افغانستان میں داخل کرکے اس کی سرزمین پر قبضہ جمایا تو پاکستان نے اپنی سرحدیں افغان بھائیوں کیلئے کھول دیں مگر اس احسان کا بھی کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلا تاہم نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے افغانستان کے عبوری وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند کو جوابی خط لکھا ہے۔خط میں وزیراعظم کا کہنا تھاکہ پاکستان کے افغانستان سے قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، ہم پڑوسی اوربھائی ہیں۔پاکستان افغانستان تعلقات کی جڑیں باہمی مذہب، ثقافت، تاریخ سے جڑی ہیں، دو طرفہ سیاسی، سلامتی اور اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلئے پُرعزم ہوں۔ علاقائی تجارت اور روابط میں اضافہ پاک افغان عوام کی خوشحالی کیلئے ضروری ہے، ہمیں مل کردونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے کام کرنا چاہیے۔نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے افغانستان کے عبوری وزیر اعظم کو جوابی خط لکھا۔ افغان وزیر اعظم نے انوارالحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کا خط لکھاتھا۔ نگران وزیر اعظم نے ملامحمد حسن اخوند کے تہنیتی خط پر شکریہ اداکیا۔
مہنگائی میں مسلسل ہوشربا اضافہ
پاکستان میں تنخواہ دار ،غریب اور مزدور طبقہ تقریباً پس چکا ہے کیونکہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے وہ جس قدر محنت کررہے ہیں اس سے چار گناہ زیادہ انہیں بجلی ، پانی ، گیس کے بلوں کے مد میں ادا کرنا پڑرہا ہے اور اسی پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے معاشرے میں ہونے والی ہوشربا مہنگائی نے زندگی اجیرن بنادی ہے مگر قومی معیشت کو بہتر بنانے پر مامور ماہرین نے ملک کے غریب عوا م کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے اور انہیںاس عالم میں لاکر کھڑا کیا ہے کہ وہ نہ جی سکتے ہیں اور نہ ہی مرسکتے ہیں ، اب ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشروبا اضافہ ہوتے ہی اس کے اثرات روز مرہ کی استعمال کی اشیا پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے،جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا،اوپن مارکیٹ میں آلو 82سے 106روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، پیاز 85سے 110روپے کلو، ٹماٹر 90سے 100روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔ لہسن 430سے 580روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ادرک 1300روپے فی کلو میں دستیاب ہے،شلجم 150روپے فی کلو، اروی 158روپے فی کلو، سبز مرچ 137روپے اور شملہ مرچ 180روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ لیموں 205روپے فی کلو، بینگن 93روپے، کریلا 96سے 128روپے کلو اور توری 85سے 130روپے میں دستیاب ہے۔ ٹینڈا 157اور کھیرا 130روپے کلو، پالک کی گڈی 36 سے 40روپے اور لوکی 108روپے کلو میں دستیاب ہے،پھلوں میں کیلا 160روپے فی درجن اور آڑو 264سے 310روپے کلو مل رہا ہے۔ انگور 357روپے کلو، سیب 220سے 350روپے اور گولڈن سیب 150سے 200روپے کلو میں مل رہا ہے،زندہ مرغی 380روپے فی کلو جبکہ فی کلو گوشت 580سے 600روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے اور اسے کم کون کر ے گا؟اور کب کرے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri