Site icon Daily Pakistan

نماز ود میوزک

وقت کے گزرنے کے ساتھ نئی نئی ایجادات انسانی زندگی میں داخل ہو رہی ہیں یہ ایجادات مثبت اورمنفی دونوں پہلوئوں پر مشتمل ہیں ان ایجادات سے زندگی میں سہولتیں بھی بکھرتی ہیں اوراس کے برعکس ہر طرح کے بدنمانتائج بھی سامنے آتے ہیں لیکن نہ تو تحقیق رک سکتی ہے اور نہ ہی نت نئی ایجادات زندگی بہرحال انہی عوامل کے دائرے میں گزر رہی ہے ترقی بھی واضح ہے اخلاقی تنزلی بھی آ شکار ہے دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے زندگی میں تباہ کاریاں بھی اسی انسان کی سوچ اور عمل سے رونما ہوتی ہیں اور خوشحالی کی صرف نوید ہی نہیں تعبیر بھی نظر آتی ہے اسی انسان میں شیطانی صفات بھی پروان چڑھتی ہیں اور اس میں رحمانی صفات بھی جنت نظیر معاشرہ بھی یہی انسان تخلیق کرتا ہے اور اسی کے ہاتھوں زندگی اور معاشرہ دوزخ کا شائبہ بھی پیش کرتا ہے، ماحول اور تربیت انسانی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مشرقی ماحول میں رہنے والے مغربی ایجادات کیساتھ ساتھ ان کی تہذیب ، تمدن سے بھی بہت متاثر ہوتے ہیں تاکہ ترقی پسند کہلوا سکیں اپنے ملک کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ کہاں کھڑے ہیں آدھا تیتر آدھا بٹیر والی مثال فٹ بیٹھتی ہے معاشرتی اور طبقاتی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے آزادی کا حصول ابھی باقی ہے پہلے انگریز کی غلامی میں تھے اب اپنوں کی غلامی کی زنجیر یں پہنے ہوئے ہیں امیر طبقہ ایسا ہے کہ انہیں کبھی احساس بھی نہیں ہوتا کہ ایک عام آدمی اپنی زندگی کے شب و روز گزارنے کیلئے کس قدر محنت کرتا ہے اور پھر بھی وہ ضروریات زندگی پوری کرنے میں بہت حد تک ناکام رہتا ہے حسرت یاس کے پیوند اس کی زندگی کے لباس میں واضح طور پر دکھلائی دیتے ہیں اخلاق احساس مروت دکھ درد میں حصہ داری سبھی کچھ گہنا گیا ہے اب تو متوسط طبقہ بھی غریبوں کی کیٹیگری میں شامل ہو چکا ہے معمولات میں صرف ہونیوالی تمام اشیادسترس سے ایسے دور ہوتی جا رہی ہیں کیسے نامحرم کو ہاتھ لگانا جو چیخ کر کہتی ہے خبردار جو ہاتھ بڑھایا دور رہو ورنہ اپنی عزت کے تم خود ذمہ دار ہوگے آزادی کے بعد خوشحالی آنے کے بجائے بدحالی زیادہ تیزی سے پھیلتی رہی ایک طبقہ غریب سے غریب اور ایک طبقہ امیر سے امیر ترین ہو گیا اصل میں پاکستان بننا انہیں زیادہ راس آیا جو موقع پرست اور مفاد پرست ٹولہ جو یک دم امیر بن گئے اس مخصوس طبقے نے جونکوں کی طرح ملک اور عوام کا خون چوسا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا کرپشن اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ سرکاری اداروں کے بارے میں یہ بات گردش کرتی ہے کہ مٹھی گرم کیے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں ہوتا سبھی لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے لیکن کچھ بدروحو ں نے سارے جل کو گندا کیا ہوا ہے انہیں مرنا یاد ہی نہیں دوسروں کی جیبوں سے زبردستی پیسہ نکلوا کر جمع کرتے ہیں اور پھر خالی ہاتھ دوسروں کے کندھوں پر سوار ہو کر اگلے جہا ن پہنچ جاتے ہیں پیسہ یہیں رہ جاتا ہے جسے وہ دوسروں سے چھپا کر اپنی انا کی تسکین کے لیے جمع کرتا ہے کھانی وہی دو روٹی ہے اور ایک وقت میں ایک ہی لباس زیب تن ہوتا ہے نوٹ کھا کر تو بھوک مٹائی نہیں جا سکتی بہرحال دل جلوں کی باتیں تو قلم سے پھسلتی ضرور ہیں انہیں اظہار میں آنے دینا مشکل ہوتا ہے یہ سوچ کی مہار تڑوا کر بھاگنے کے چکر میں ہوتی ہیں بہر حال انہیں ہانک کر تو لانا ہی پڑتا ہے ۔رمضان شریف کی آمد ہو چکی ہر طرف ملکوتی فضا ہے مارکیٹوں اور بازارو ں میں گہما گہمی ہے حرام خور اور منافع خور اپنی من مانی کرنے میں آزاد ہیں کہا جاتا ہے کہ شیطان پابند سلاسل ہے لیکن اس کے چیلے تو آزاد ہیں اس مقدس مہینے میں سر نکالتے ہیں اس کی صفات تو سارا سال جاری رہتی ہیں لیکن اس ماہ وہ نت نئے حربوںسے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں عام آدمی اور تنخواہ دار طبقہ عید کے بعد قرض اتارنے میں مصروف ہو جائے گا اور زندگی یونہی روتے دھوتے آہ و بکا کرتے سفر جاری رکھے گی اس مقدس ماہ میں مسجد میں آنے والوں کی تعداد بھی معمول سے زیادہ ہوتی ہے ہاتھ میں تسبیح سر پر ٹوپی اکثریت کا نشان امتیاز ہوتا ہے نماز تراویح کے لیے آنے والوں کو یہ تجربہ ضرور ہوگا کہ عام دنوں میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے امام صاحب نماز شروع کروانے سے پہلے یہ ضرور یاد دہانی کرواتے ہیںکہ اپنے موبائیل بند کر لیں اس جملے کے بعد وہ نما ز کی نیت شروع کرتے ہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب جب فجر مغرب اور عشا کی نماز میں قرات شروع کرتے ہیں تو کئی افراد کی جیب میں پڑے موبائیل غلطی سے آن رہ جاتے ہیں کسی کال پر الرٹ کرنے کیلئے ان کے میوزک بجنا شرو ع ہو جاتے ہیں جن صاحب کی جیب میں موبائیل ہوتا ہے وہ کوشش کے باوجود اسے بند نہیں کر پاتے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادھر قرات جاری ہیاور ادھر میوزک کا تڑکا لگ رہا ہوتا ہے یہ ماڈرن ایجاد کی ستم ظریفی ہے کہ اس وقت اکثریت کے پاس موبائل کی سہولت ہے سڑک پر صفائی کرنے والے سے لیکر زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے پاس موبائیل ہے گھریلو خواتین بھی اس کے بغیر نہیں دکھائی دیتیں حتی کہ چھوٹے بچوں کو موبائیل میں کارٹون لگا کر ان کے ہاتھوں میں تھما دیا جاتا ہے تاکہ وہ مصروف رہے اور خاتون گھر یلو کام کاج نپٹا سکیں اکثر وقت بے مقصد باتوں میں بیلنس صرف ہوتا ہے بیلنس قائم رکھنے کیلئے متعلقہ کمپنی کا مالی فائدہ ہوتا ہے میرے خیال میں اربوں روپیہ ہم موبائیل فون کی مد میں استعمال کر رہے ہیں اس موذی سے بچت کا طریقہ سمجھ نہیں آرہا ہم نے لاشعوری طور پر اپنے اوپر فالتو مالی بوجھ ڈالا ہوا ہے اس کا جائز اور ضرورت کے تحت استعمال تو ٹھیک ہے لیکن ناجائز استعمال کا محاسبہ ہم نے خود کرنا ہے جس کی طرف دھیان ہی نہیں آمدن اور خرچ میں توازن نہ رہے تو انسان مشکل میں پھنس جاتا ہے رمضا ن شریف میں کردار سازی کی ٹریننگ ہو جاتی ہے اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اپنے ماحول میں ادب سے رہو رزق حلال کماو عبادت کرو نماز پڑھو زکوا دو غریبوں پر تو اسلام پہلے ہی آسا ن ہے اس نے زکواکیا دینی اور حج کیا کرنا ہے اس کے پاس تو متعدد محرومیوں کے ساتھ دال روٹی کمانے اور کھانے کے مواقع ہونے چاہیں نہ مال جمع ہو کہ زکوا دے سکے یا حج کر سکے ہا ں زندگی کو سادہ طریقے سے تو گزار سکتا ہے حرص طمع لالچ سے آزاد رہ کر ارکان اسلام پر خلوص دل سے عمل پیرا ہو کر ہر چیز زوال پزیر ہے اپنے خاتمے کی طرف روا ں دواں ہے جو چیز زوال پزیر نہیں وہ تقرب الہی ہے جس میں بقااور عروج ہے یہی وہ شعبہ ہے عرفان حاصل ہونے کا نام خود شناسی ہے اپنے منفرد ہونے کا احساس اور خالق کا قرب حاصل کرنے کی تمنا اور اس جانب کوشش یہی عرفان کا حاصل ہے فرعون طاقت کا مالک ہونے کے باوجود غرق کر دیا گیا قارون خزانوں کا مالک ہونے باوجود ختم ہو گیا دولت شہرت عزت والے سبھی دنیا میں آ کر رخصت ہو گئے کسی چیز نے ساتھ نہیں دیا سوائے اعمال صالح کے اور کچھ کام نہیں آتا ہم سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے کہ شعوری اور لاشعوری نیک اور بد اعمال کے سرزد ہونیسے ہی ہم یہیں سے جنت اور دوزخ کی الاٹمنٹ کر رہے ہیں موت کے سافٹ ڈرنک کو ہم لمحہ بہ لمحہ پی رہے ہیں یہ موت ہے کیا اس کو کیسے سمجھاجائے توآسان الفاظ پسندیدہ چیز سے جدائی کا نام موت ہے زندگی سے ناطہ ٹوٹنے کا نام موت ہے جن کی پسندیدہ چیز یعنی اعمال صالح ساتھ جانے ہیں ان کیلئے موت آسان ہے اور اگر بداعمالیوں کا طوق گلے میں پڑ گیا تو یہی عمل مشکل ہے زندگی کا پیشتر وقت ہم رزق کمانے میں صرف کرتے ہیں اور اپنی افلاطونیت جھاڑتے ہیں کہ میں نے یوں کیا تو دولت ملی اس میں اس طرح یوں اضافہ کیا لیکن رازق کی طرف دھیان نہیں جاتا کہ دینے والے نے مہربانی کی ہے اور آزمائش میں بھی ڈال دیا ہے کہ اسی دولت کا جائز طریقے سے صرف کیسے ہو کسی کو دینا بہت مشکل لگتا ہے اور لینا بہت آسان اسی طرح لمبی عمر کی دعا اس کا مطلب ہے کہ جتنے آپ کے جاننے والے ہیں وہ آپ کے سامنے رخصت ہوں پھر یہ بڑے غم کی بات ہے اس کا عکس آپ پر ضرور پڑے گا اور اس کا سامنا آپ کو کرنا پڑیگا اللہ سے ہم بہت کچھ مانگتے ہیں اللہ ہماری لاج رکھتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بھیجنے سے پہلے اس پاک ذات نے ہمارا سارا پروگرام فائنل کر کے ہی یہاں بھیجا لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہم اس کی رحمت مانگیں اللہ کی رحمت کا مظہر سرکار دوعالم ہیں مجسم رحمت ہیں ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ میری تخلیق اللہ نے میرے مشورے کے بغیر مسلمانوں میں کی والدین مسلمان دیے حضور کی امت بنا کر بھیجا حضورۖ نے ہمیں اپنا امتی بنا لیا اللہ کا اور حضورۖکا کرم ہو گیا اس کرم پر ہم ان کا شکر تو ادا کرسکتے ہیں یہی تعلق ہماری بخشش کا ذریعہ ہے اس ذریعے کو پہچانیں تو آسانیاں ہی آسانیاں نصیب ہوں گی اور آخر میں یہ عرض کروں گا کہ مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے موبائل فون گھر پر رکھ کر آئیں اور لانا ضروری سمجھیں تو اسے بند کرکے مسجد میں داخل ہوں تاکہ نہ تو نمازی اور نہ ہی امام صاحب کیلئے یہ حرکت ناگوار گزرے کہ نماز اور تراویح ود میوزک ہو ثواب کے بجائے نادانستہ گناہ میں اضافہ ہو جائے ۔

Exit mobile version