asgher ali shad 148

’’نواز چل کر آتے تو کچھ اور بات ہوتی‘‘ (2)

( گذشتہ سے پیوستہ)

سابق سیکرٹری خارجہ ’جے این ڈکشٹ‘ کے بقول واجپائی نادانستگی میں بھارتی میڈیا کی اس مہم میں شامل ہوگئے ہےں جو اپنے سطحی مفادات کی خاطر سربراہ مذاکرات کو ناکام کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ کانگریسی رہنما اور سابق بھارتی وزیر خارجہ ’کنور نٹور سنگھ ‘ کے بقول واجپائی حکومت نے بغیر خاطر خواہ تیاری کے مذاکرات کیے لہذا یہ ہی نتیجہ ہونا تھا ۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھارت کو خاصی زک پہنچائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے موقف کو خاصی پذیرائی ملی ۔ کلدیپ نیئر کے مطابق حالیہ مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے اور عالمی سطح پر بھارت کو خاصا فائدہ پہنچا ہے لہٰذا واجپائی کو پاکستان ضرور جانا چاہیے ۔ معروف بھارتی دانشور ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کی رائے خاصی اہم ہے ۔ ’’ایک ہندو ہونے کی حیثیت سے دل چاہتا ہے کہ واجپائی جی کی مانند سربراہ مذاکرات کی ساری کی ساری ذمہ داری پرویز مشرف کے کاندھوں پر ڈال دوں کہہ دوں کہ وہ بات چیت کے دوران ٹس سے مس نہ ہوئے اورلچکدار رویہ اپنانے کا ان کا دعوی غلط ثابت ہوا ۔ انہوں نے میزبان کےساتھ ذرا سی بھی مروت کا مظاہرہ نہےں کیا ۔ ان کی باڈی لینگویج ایسی تھی کہ پہلے دن ہم سبھی بھارتی دانشور گمراہ ہوگئے ۔ اس موقع پر ہم بھارتی چاہےں تو خود اپنی پیٹھ تھپک کر کہہ سکتے ہےں کہ ہم بھارتی کتنے عظیم اور فراخ دل ہےں ۔ ہم نے ان کی راہ میں دیدہ ودل بچھائے مگر موصوف نے جواب میں کیا دیا ۔ ایک تیر سے کئی شکار کئے،سب سے پہلے بھارتی دعوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرسی صدارت سنبھال لی ‘ ’جس عہدے کو حاصل کرنے کےلئے ایوب خان اور ضیا الحق کو ’کنٹر ورلڈ ڈیمو کریسی‘جیسے پاپڑ بیلنے پڑے ۔ اسے بھارتی دعوت نے کویا طشتری میں رکھ کر پیش کر دیا ۔ دوسرا فائدہ اس ستم گر نے یہ اٹھایا کہ بھارت کا دورہ کرکے قومی ہیرو بن گئے کیونکہ پاکستانی عوام کو پتہ ہے کہ ایوب، بھٹو، ضیا، بے نظیر اور نواز شریف کو انہوں نے بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے وہ تو بھارت کےخلاف چھریاں اور چاقو ہی چلاتے رہے مگر موصوف نے مولا جٹ سٹائل میں گنڈاسہ چلا کر رکھ دیا ہے ۔ بہر کیف اس سربراہ ملاقات سے مشرف جو فائدہ اٹھا نا چاہتے تھے وہ انہوں نے اٹھا لیامگر اس مرحلے پر بھارتی حکومت نے بھی کسی دانائی کا مظاہرہ نہےں کیا ۔ پاکستانی صدر کا یہی مطالبہ تھا کہ جموں و کشمیر کو بنیادی تنازعہ اور حل طلب مسئلہ مان لو اگر ہم ایسا کر لیتے تو پھر کشمیر میں جاری تشدد پر بھی یقینی طور پر بات ہو سکتی تھی مگر ہم نے یہ موقف بھی کھو دیا اور اب کھسیانی بلی کی طرح اپنے کھمبے نوچ رہے ہےں ۔ معروف دانشور سوریا کانت بالی نے ہندوستان ٹائمز میں اپنے تفصیلی مضمون میں لکھا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں سدھار نہ ہونے کا بنیادی سبب نفسیاتی ہے کیونکہ بھارت شعوری اور لا شعوری دونوں طرح سے اس سوچ کا حامل ہے کہ پاکستان کی بنیاد بھارت توڑ کر رکھی گئی ہے ۔ اسلیے بھارت کو ہمیشہ یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ پاکستان بھارت کے مزید حصے کرنے میں یقینا دلچسپی رکھتا ہے ۔ دو سری جانب پاکستان کی سوچ یہ ہے کہ جب اس کا قیام اس حقیقت کو قبول کرنے کےلئے کیا گیا کہ مسلمان ہند ایک علیحدہ تہذیبی وراثت کے مالک ہےں تو اسے کشمیر سمیت وہ تمام علاقے ملنے چاہئیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہےں ۔ ایک دوسر ے بھارتی صحافی اجے سنگھ نے واجپائی کی ’گر نواز چل کر آتے تو کچھ اور بات ہوتی ‘کی منطق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے اس بیان سے جانے بھارتی وزیر اعظم نے نواز شریف سے ہمددری جتائی ہے یا کوئی پرانا بدلہ لیا ہے کیوں کہ باشعور طبقات کو علم ہونا چاہیے کہ پاک بھارت تعلقات میں بد اعتمادی کی جڑیں اتنی گہری ہےں کہ کسی بھارتی حکمران کی جانب سے کسی پاکستانی حکمران کی تعریف گویا اس کے زوال اور مزید زوال کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ 1983 میں میں پاکستان میں ’ایم آر ڈی ‘ کی تحریک کسی قدر موثر ہو چلی تھی کہ اندرا گاندھی کی ا یم آری ڈی مقبولیت کھو بیٹھی اور واجپائی کے حالیہ بیان سے نواز شریف جو پہلے ہی سیاسی زوال کی جانب محو سفر ہےں ان کی بابت پاکستانی عوام کے ذہنوں میں بات بیٹھے گی کہ واجپائی کا کہنا یہ ہے کہ اگر نواز آگرہ میں ہوتے تو وہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی موقف کو تسلیم کر سکتے تھے ۔ اس کے سیاسی مضمرات کیا ہوں گے اس کےلئے زیادہ سمجھدار ہونا ضروری نہےں تبھی تو بھارتی صحافی اجے سنگھ نے واجپائی کو مخاطب کرتے ہوئے عنوان جمایا ہے کہ ’’ ہوئے تم دوست جس کے ۔ دشمن اس کا آسمان کیوں ہو‘‘ ۔ بہر کیف آنے والے دونوں میں پاک بھارت تعلقات کیا رخ اختیار کر سکتے ہےں اس بارے میں کسی آئندہ نشست میں بات ہوگی‘‘ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں