نو اور گیارہ فروری

17

تحریک ِ;200;زادی کشمیر کا چراغ لاکھوں کشمیریوں کے لہو سے روشن ہے ۔ بھارتی افواج کے مظالم کے سامنے برسرِ پیکار کشمیریوں کی اتنی طویل جدوجہد تاریخِ اقوامِ عالم میں نہیں ملتی ۔ بھارتی فورسز نے اس تحریک کو کچلنے کےلئے ہر بیہمانہ حربہ ;200;زما رکھاہے ، کمسن بچوں سے لے کر ضعیف العمر بزرگوں تک کسی کو گولی کا نشانہ بنایا تو کسی کو تختہ دار تک پہنچایا ۔ پیلٹ گنوں سے معصوموں کی چھلنی ;200;نکھیں ، برہان وانی کا ماروائے عدالت قتل ، افضل گورو اور مقبول بٹ کی تختہ دار پر شہادتیں ، بھارتی بربریت کی زندہ گواہیاں ہیں ۔ ;200;ج 11فروری جدوجہد ;200;زاد کشمیر کے بڑے نام مقبول بھٹ کا یوم شہادت ہے ،جسے تہاڑ جیل میں بھارت سے بغاوت کے جرم پھانسی دے دی تھی جبکہ دو روز قبل9فروری کو افضل گورو کا یوم شہادت منایا گیا ۔ افضل گورو بھی ایک ناکردہ گناہ کی سزا پا گئے ۔ بھارت سمجھتا ہے کہ یوں ;200;زادی کے متوالوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے مگر اب جب پورا کشمیر جیل میں ڈھل چکا ہے اور کسی چڑھیا کو بھی پر مارنے کی ہمت نہیں کشمیری اپنے شہدا کی یاد سے غافل نہیں ہیں ۔ 9 فروری کومقبوضہ کشمیر میں شہید افضل گورو کی ساتویں برسی منائی گئی اس موقع پر مکمل ہڑتال رہی ،لوگ بڑی تعداد میں احتجاج کیلئے نکل آئے، مظاہرے روکنے کیلئے تعینات اضافی فوج نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی جس سے کئی افراد زخمی ہو گئے ۔ مقبوضہ وادی میں موبائل سروس بند رکھی گئی ۔ دوسری طرف جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے ;200;ج11فروری کو مقبول بھٹ کی برسی کے موقع پر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے جس کے بعد وادی میں حالات کشیدہ ہیں ۔ وادی میں علیحدگی پسند تنظی میں محمد افضل گورو اور مقبول بھٹ کے جسدِ خاکی کی واپسی کا مطالبہ کررہی ہیں ۔ سرینگر کے عیدگاہ علاقہ میں واقع تاریخی مزار شہداء میں دو قبریں افضل گورو اور مقبول بھٹ کے جسد خاکی کےلئے خالی رکھی گئی ہیں ۔ مقبول بھٹ کو(11فروری 1984 )دلی کی تہاڑ جیل میں پولیس اہلکار کے قتل کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی ۔ افضل گورو کو دسمبر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہونے کے اِلزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ پچاس سالہ افضل گورو پر الزام تھا کہ وہ حملہ ;200;وروں کےلئے اسلحے کے حصول میں مدد کا مرتکب تھا اور اس نے حملہ ;200;وروں کو پناہ دی تھی ۔ اس جرم میں انہیں 9 فروری 2013 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی ۔ بے یارو مدد گار گورو کو بھارتی عدالت نے 2004 ء میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جبکہ 20 اکتوبر 2006کو انہیں پھانسی ہونی تھی لیکن ان کی اہلیہ تبسم گوروکی رحم کی اپیل پر اس وقت کے صدر نے اسے ملتوی کر دیا تھا ۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ التوا ء کا شکار ضرور رہا لیکن انکی کہیں شنوائی نہ ہوئی اور رحم کی اپیل خارج کر دی گئی ۔ افضل گورو کو تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کے بعد وہیں دفن کر دیا گیا ۔ کشمیریوں کے حوصلے کتنے بلند ہیں کا اندازہ اس سے بخوبی لگای جا سکتا ہے کہ افضل گورو کو نو فروری کی صبح 5 بجے جگایا گیا تو انہوں نے نمازادا کی پھر تین گھنٹے بعد پرسکون انداز سے خود تختہ دار تک چل کر گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق افضل گورو پریشان ہونے کی بجائے پرسکون تھے ۔ افضل گورو بے جرم سزا پا گئے ، ان کے بے گناہ ہونے کی گواہی چند ہفتے قبل اس وقت کھل کر سامنے ;200;ئی جب ایک کشمیری پولیس افسر دیوندر سنگھ گرفتار ہوئے ۔ یہ وہی پولیس افسر دیوندر سنگھ ہے جس کا نام پہلی مرتبہ بھارتی میڈیا میں اس وقت ;200;یا تھا جب9فروری 2013کے روز افضل گورو کو پھانسی ہوئی تھی ۔ ان کی پھانسی کے چند روز بعد اخبارات میں افضل گورو سے منسوب ایک خط شاءع ہوا جس میں گورو نے دیوندر سنگھ کے بارے میں لکھا تھا کہ اسی نے انہیں ایک عسکریت پسند کو دلی لے جانے، وہاں کرایہ کے مکان میں مقیم کرنے اور ایک گاڑی خریدنے کےلئے مجبور کیا تھا ۔ بھارتی پولیس کے مطابق دیوندر سنگھ جموں جاتے ہوئے قاضی گنڈ کے مقام پر حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈر سید نوید، اسکے ساتھی ;200;صف راتھر اور ایک وکیل عرفان احمد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا ۔ یہ خالی ہاتھ نہیں تھے بلکہ ان کے پاس ہینڈ گرینیڈ وغیرہ بھی تھے ۔ اس گرفتاری نے بہت سے سوالات کو جنم دیا کہ ;200;خر ایک پولیس افسر علیحدگی پسندوں کو ساتھ لے کر کیوں پھر رہے تھے ۔ کیا انہیں بھی افضل گورو کی طرح بلیک کر رہے تھے یا پھر بھارت کے پسندیدہ ہتھکنڈے فالس فلیگ ;200;پریشن کا حصہ بننے جا رہے تھے،کیونکہ انہی دنوں یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ مودی حکومت یوم جمہوریہ چھبیس جنوری سے قبل پاکستان کو بدنام کرنے کےلئے کوئی ڈرامہ رچا سکتی ، بدقسمتی سے دیوندر سنگھ کی گرفتاری سے’’ را‘‘ کی ساری منصوبہ بندی پرپانی پھر گیا ۔ ان سارے حربوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو کشمیریوں کی حمایت سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے لیکن یہ بھارت کی بھول ہے ۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اسے ایک دن آخر مکمل ہونا ہے ۔