Home » کالم » نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ، رجسٹریشن کا آغاز
adaria

نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ، رجسٹریشن کا آغاز

پاکستان تحریک انصاف نے عوام سے جو سب سے بڑا وعدہ گھر دینے کا کیا تھا اس کی رجسٹریشن کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبے کے تحت عوام کو گھر فراہم کیے جائیں گے کیونکہ پاکستان میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو گھر بنانے کی استطاعت رکھتے ہیں ، مہنگائی کا زور ہے، سیمنٹ ، سریا، اینٹوں کی قیمت قوت خرید سے باہر ہے، گھر بنانے کا سوچنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے، ہمارے ملک کے تین یا چار اہم ایشو ہیں جس میں سب سے پہلے روزگار، مکان، صحت اور تعلیم سرفہرست ہیں ۔ جہاں تک روزگار کا تعلق ہے تو حکومت اس پر منصوبہ بندی کررہی ہے ، آنے والے دنوں میں شاید یہ مسئلہ حل ہو جائے ۔ تاہم جہاں تک چھت کا مسئلہ ہے تو وزیراعظم عمران خان اس پر کافی حد تک عمل پیر ا ہیں ۔ نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبے کے تحت مختلف شہروں میں گھر بنانے کا آغاز کیا جارہا ہے اس کے تحت عوام الناس کو رہنے کیلئے چھت نصیب ہوگی ۔ گھر ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے کہ کسی غریب کو اگر چھت میسر ہو جائے تو اس کی زندگی کے آدھے سے زیادہ معاملات حل ہو جاتے ہیں کیونکہ کرائے پر رہنا والا جو مہینے بھر میں کماتا ہے اس کی 75 فیصد آمدنی کرائے کی مد میں چلی جاتی ہے جو باقی بچتا ہے وہ پانی، گیس ، بجلی کا بل کھا جاتا ہے ایسے میں زندگی کے معاملات کو چلانا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ تعلیم، صحت تو بعد کے مسائل ہیں جب کھانے کیلئے کچھ بچے گا تو بچے تعلیم حاصل کرسکیں گے لہذا یہ حکومت کا بڑا اقدام ہے اور اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جو وعدہ کیا تھا خصوصی طورپر گھروں کے حوالے سے وہ مکمل کرپاتی ہے تو یہ اسکی بہت بڑی کاوش ہوگی اور یقینی طورپر اس کو عوام میں بھی پذیرائی ملے گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے ضم شدہ قبائلی علاقوں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت اورنیا پاکستان ہاءوسنگ و ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت آن لائن رجسٹریشن کے دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی آمدن کا تقریباً نصف حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے ہر طرح کے کاروبار کا باقاعدہ اندراج اور ٹیکس نیٹ کی توسیع اقتصادی ترقی کےلئے ازحد ضروری ہے تاہم انضمام شدہ علاقوں میں ٹیکس کی شرح کے تعین میں علاقے کے عوام کی مشکلات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے گا معاشی استحکام کےلئے ضروری ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو باقاعدہ دستاویزی شکل دی جائے اورٹیکس کے دائرہ کو بڑھا یا جائے کم آمدنی والے طبقات کو گھر بنانے کے لئے آسان شرائط پر قرضے ملیں گے اس بارے میں نیا آرڈیننس لا یاجارہاہے،ماضی میں پیسے والے لوگوں کے لئے ہاءوسنگ اسکی میں بنتی تھیں پہلی مرتبہ حکومت کم آمدنی والے طبقات کےلئے ہاءوسنگ اسکیم شروع کر رہی ہے، اندرون و بیرون ملک سے سرمایہ کاری کرنے والوں کو دعوت دے رہے ہیں چھوٹی کمپنیاں بنا کر کاروبار شروع کرنے والوں کی معاونت اور حوصلہ افزائی کی جائے گی ملک میں ایک کروڑنئے گھروں کی ضرورت ہے ۔

وادی نیلم میں قیامت صغریٰ

مظفر ;200;باد سے 60 کلو میٹر دور آزاد کشمیر کے علاقے لیسوا میں کلاوڈ برسٹ ہوگیا، جس کے نتیجے میں خوفناک گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلے سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ۔ علاقے میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا اور موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل ہوگئیں ۔ سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آکر 2 مساجد اور ڈیڑھ درجن سے زائد مکانات بہہ گئے اور 23 افراد جاں بحق ہوگئے ۔ جن کی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر دریائے نیلم میں چلی گئیں ۔ لینڈ سلائیڈنگ سے لیسوا بازار مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ۔ صدر ;200;زاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے وادی نیلم میں قدرتی ;200;فت سے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ، رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے حکومت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے متاثرین کی امداد کیلئے ان کی بھرپور ;200;بادکاری کریگی ۔ جبکہ تباہی کی اطلاع پر ;200;زاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر خبر سن کر راولپنڈی میں مصروفیات ترک کرکے وادی نیلم پہنچ گئے ۔ مزید بر;200;ں وزیراعظم عمران خان نے ;200;زاد کشمیر کی وادی نیلم میں طوفانی بارش اور سیلابی ریلے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ۔

نان فائلرز کو فائلرز بنانے کیلئے سہولیات دی جائیں

حکومت نے بجلی اور گیس کے کمرشل گیس کے حوالے سے احسن فیصلہ کیا ہے کہ ان افراد کو کنکشن دیا جائے جوکہ فائلر ہوں ، ہر شخص کو فائلر بننا نہایت ضروری ہے مگر یہاں یہ ہم کہیں گے کہ اتنی تیزی سے اقدام اٹھانا یقینی طورپر معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ حکومت ایسی منصوبہ بندی کرے کہ پہلے لوگ زیادہ سے زیادہ فائلر بنیں اس طرح کی پابندیاں عائد کرنے سے کاروبار تباہ ہوگا، جو چھوٹے لیول کے کارخانے یا اس سطح کی دکانیں ہیں پانی، گیس، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں ہے کہ وہ معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکے ۔ ایک دکان کھلنے سے اس کے پیچھے کتنے خاندان وابستہ ہوتے ہیں ، ایک چھوٹی سطح کا کارخانہ کھلنے کا بھی جائزہ لیا جائے کہ اس کے پیچھے کتنے خاندان بندھے ہوتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ گیس اور بجلی کے کنکشن نان فائلرز کیلئے بند نہ کرے بلکہ فارم میں ایک شق کا اضافہ کیا جائے جس میں باقاعدہ حلف نامے کی طرح کا بیان درج ہوکہ ایک مہینے کے اندر اندر فائلر بن جائے گا بصورت دیگر اس کے تمام پانی، بجلی،گیس کے کنکشن منقطع کردئیے جائیں گے ۔ ساتھ اس کے یہ شرط بھی عائد کی جائے کہ اگر وہ فائلر نہیں بنتا تو دکان اور کارخانے کے ساتھ ساتھ اس کے گھر کے کنکشن بھی کاٹ دئیے جائیں گے ۔ حکومت عوام کو سہولیات میسر کرے نہ کہ ان کیلئے زندگی اور کاروبار کو تنگ کرے ۔ چیئر مین ایف بی آر سید محمد شبرزیدی نے منسٹری آف پاور کو مراسلہ لکھا ہے جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 181;6565;پر عملدرآمد کےلئے تعاون کی درخواست کی ہے ۔ سیکشن181;6565;متعلقہ اداروں کو پابند کرتا ہے کہ بجلی اور گیس کی کمرشل و انڈسٹریل کنکشن درخواستوں پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کیا جائے جب تک کہ درخواست گزار انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتا ۔ چیئرمین ایف بی آر نے مراسلے میں مزید لکھاہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں 2اگست 2019تک اس لئے توسیع کی گئی ہے تاکہ وہ افراد جنہوں نے ابھی تک کسی بھی وجہ سے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے وہ اس توسیع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرالیں ۔ چیئر مین ایف بی آر نے منسٹری آف پاور سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کریں اور ان کو مطلع کریں کہ تمام کمرشل اور انڈسٹریل بجلی اور گیس صارفین کے لئے لازم ہے کہ وہ ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ ;658476;پر آجائیں ۔ چیئر مین ایف بی آر نے منسٹری آف پاور کا بجلی و گیس صارفین کا ڈیٹا فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ سیکشن 181;6565;کے عملدرآمد پر بھی ایسا ہی تعاون جاری رہے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative