بنوں میں فتح خیل چوکی پر دہشت گردوں کے حملوں میں 15 پولیس اہلکاروں کی شہادت درحقیقت قیام امن کے لیے جاری کوششوں کو تیز کرنے کا پیغام دے گی ، 10 مئی کو ایسے وقت میں جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سربراہی میں جی ایچ کیو راولپنڈی میں معرکہ حق کی یاد میں تقریب تھی دہشت گردی کا مذکورہ واقعہ پاکستان کے بدخواہوں کے برے عزائم اور بدترین ارادوں کو ایک بار پھر نے نقاب کرگیا، اس میں دوآرا نہیں کہ ماضی قریب میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی بادی النظر میں اس کی ایک اہم وجہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنانا بھی قرار دیا جارہا ہے ، یہ سوال پوچھا جانا بھی قطی طور پرنا مناسب نہ ہوگا کہ آج ہمارے ہاں دہشت گردی کے حتمی اور مکمل خاتمہ کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر کس حد تک عمل درآمد جاری وساری ہے ، درحقیقت نیشنل ایکشن پلان میں دوٹوک انداز میں کہا گیا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان سے مسلح تنظمیوں اور دہشت گرد گروپوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے ، یقینا اس حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اس حقیقت کو بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارے سیاسی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی کو بداخوہوں کی پوری سرپرستی حاصل ہے ، اس کی ایک اہم وجہ افغان طالبان کا اپنے ہاں پاکستان دشمنوں کو ٹرینگ اور ٹھکانے دونوں فراہم کرنا ہے، یوں یہ خوش فہمی زمینی حقائق کی روشنی میں کسی طور نہیں پالی جاسکتی کہ افغانستان میں آج ایسا گروہ برسر اقتدار ہے جو دینی اور اخلاقی اصولوں کے برخلاف پالیسوں پر عمل پیرا ہے ، افسوس صد افسوس کہ کابل پر قابعض مسلح گروہ پاکستان میں دہشت گردی کاروائیوں میں سہولت کاری کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے ،یوں ہمارے ہاں وہ سادہ لوح عناصر جو افغان جنگجو گروہ کے دعووں اور وعدوں پر یقین کیے ہوئے ہیں اپنی رائے کو حقائق اور معلومات کی روشن میں بدل رہے ہیں، دراصل نیشنل ایکشن پلان کی ایک شق یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ جلد اور بروقت انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جاسکے ، نیشنل ایکشن پلان میں سزائے موت پر پابندی ختم کرنے کی تجویز بھی دی گی تھی تاکہ اسلام ، پاکستان اور اسلام دشمنی کے خلاف متحرک افراد کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے ،یہ امرحوصلہ افزا ہیکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت کی جانب سے ایسی تنظمیوں اور افراد کے خلاف بھی کاروائی جاری ہے جو نفرت اور تعصب پھیلانے میں ملوث ہیں، مقام شکر ہے کہ آج خبیر تا کراچی عام پاکستانی اس بنیادی حقیقت کو باخوبی جان گیا کہ دشمن ہم پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کا فارمولہ آزما رہا ہے چنانچہ حب الوطنی اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ قومی سطح پر اتفاق واتحاد کو فروغ دیا جائے ، افسوس ہمارے قومی میڈیا کی جانب سے اس ثابت شدہ سچائی کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جارہی کہ افغان طالبان کے زیراہتمام دہشت گردی کے مراکز میں ایک طرف کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں جبکہ دوسری جانب بی ایل اے کے مرد وخواتین کو بھارتی ٹرینگ دے رہے ہیں، اس میں تضاد یہ ہے کہ پاکستانی طالبان "نفاذ اسلام” کے داعی ہیں جبکہ بلوچ دہشت گرد تنظمیں خود کو سیکولر ایجنڈے پر کاربند قرار دیتی ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی اور انتہاپسند کاروائیوں میں ملوث افراد اور تنظمیوں کو ملک کے اندر یا باہر سے فنڈنگ روکنے کے سخت قوائد وضوابط پر عمل کررہی ہیں ، حوصلہ افزا یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھی پاکستان کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے برملا اطمیان کا اظہار کرچکا ، یوں معاملہ یہ نہیں رہا کہ محض پاکستان اپنے ہاں پے درپے دہشت گردی کی شکایات کررہا مسلہ یہ ہے کہ افغانستان آج علاقائی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کا کی پناہ گاہ کی شکل اختیار کرچکا ، یوں اگر افغان طالبان گروہ کو قانون کے کہڑے میں نہ لایا گیا تو غالب امکان ہے کہ چین سمیت وسط ایشیائی ریاستوں میں مذہب کے نام پر انتہاپسندی کو فروغ دینے کے امکانات بڑھ جائے گے، ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ علاقائی یا عالمی سطح پراقوام عالم معلومات اور شوائد کی بنیاد پر باخوبی جان چکیں کہ افغان طالبان پاکستان میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ، لہذا باخبر ممالک پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی کاروائیوں کو اندرون خانہ ہرگز غیر مناسب نہیں قرار دیتے ، اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری عسکری وسیاسی قیادت جہاں ایک طرف اپنے ہاں انتہاپسند تنظمیوں کے مکمل خاتمہ کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے وہی سرحدوں کے دفاع کے لیے بھی خاطر خواہ اقدمات کیے جارہے ہیں ، اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ کہ قومی میڈیا ، سیاسی ومذہبی جماعتیں اور ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی شکل میں عوامی رائے پر اثر انداز ہوسکتا ہے ہر آدمی کو باور کروائے کہ انتہاپسند ملک اور دین ہی نہیں انسانیت کے بھی دشمن ہیں چنانچہ اس کے لیے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بعقول احمد فراز
نیشنل ایکشن پلان اور بنوں میں دہشت گردی

