وطن عزیز کو انواع و اقسام کے چیلنجز درپیش ہیں مثلا ایک طرف اسے لسانی، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب اس کے بدخواہ اسے بیانیہ کی جنگ میں الجھانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، حالیہ سالوں میں مملکت خداداد کے ہر باشعور شہری سے یہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر یہ سوال پوچھا گیا کہ ریاست پاکستان کا بیانیہ کیا ہے، افسوس کہ کئی محازوں پر نبرد آزما ملک کے بدخواہ دانستہ طور پر اس سچائی سے نظریں چرا رہے کہ نشینل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان کی شکل میں ریاست کا بیانیہ کا نہ صرف موجود ہے بلکہ کسی نہ کسی سطح پر اس پر عمل درآمد بھی جاری ہے ، حقیقت یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان معاشرے ، مذہب اور ریاست میں اشتراک عمل پیدا کرنے کی ایسی مثالی کوشش ہے جس سے پیچیدہ مسائل بارے بتدریج ابہام دور ہو رہا ہے ، یاد رہے کہ نیشل ایکشن پلان کی تشکیل اس وقت عمل میں آئی جب 16دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں نے 100سے زائد معصوم طالب علموں کو یوں شہید کیا کہ جدید تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ، اس بدترین سانحہ کے بعد ملک کی سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادت نے آگے بڑھ کر دہشت گردوں کے اس بیانیہ کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کو بنیاد بنا کر وہ پاکستان کی بنیادیں کمزور کرنے کیلئے کوشاں ہیں ، مذکورہ دلخراش سانحہ کے بعد ملک کی سب ہی سیاسی ومذہبی جماعتوں نے ایک نقطہ پر اتفاق کیا کہ کسی قیمت پر بھی دہشت گردوں کو معصوم اور نہتے پاکستانیوں کے خون سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ نیشنل ایکشن پلان دراصل دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مکمل خاتمہ کا ایسا مربوط منصوبہ ہے جس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کرکے قیام امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے ، اس منصوبہ کے تحت دہشت گردی کرنے اور ان کی سرپرستی کرنیوالوں کیخلاف بلا امتیاز کاروائی اگرچہ جاری وساری ہے مگر اس کی منصوبہ بارے ہونیوالی کوتاہیاں کو ہنگامی بنیادوں پر دور کرنے کی ضرورت ہے ، ایک تاثر یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بعض سیاسی و مذہبی قوتوں کے تحفظات ہیں، مثلا یہ کوئی راز نہیں کہ وہ جماعتیں ہیں جن کا ووٹ بنک خبیر پختونخوا میں موجود ہے وہ اس پر مکمل عمل کرنے کے حوالے سے اگر مگر کا سہارا لیتی ہیں ، مثلا پاکستان تحریک انصاف کی تسلسل کے ساتھ کے پی میں حکومت چلی ارہی ہے مگر وہ دہشت گردی کیخلاف کسی بھی نئے آپریشن کی اعلانیہ مخالفت کرتی ہے، جے یو آئی ، عوامی نیشنل پارٹی اور کچھ دیگر سیاسی ومذہبی قوتیں بھی کھل کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا ساتھ دینے سے ہچکچاہت کا شکار ہیں، سیکورٹی فورسز اور کے پی کے کی سیاسی جماعتوں میں پالیسی بارے اختلاف رائے کا جلد خاتمہ ہونا چاہے تاکہ خبیر پختوانخواہ میں بالخصوص اور ملک کے دیگر علاقوں میں بالعموم امن اور خوشحالی کا دور شروع ہو، اس پس منظر میں 2018میں پیغام پاکستان کی شکل میں جو ہمارے علما کرام ، مشائخ، سیاسی ومذہبی جماعتوں اور نامور سکالرز کی جانب سے اتفاق رائے ایسا مثالی کارنامہ ہے جس کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں،اس کو بنیاد بنا کر دوٹوک انداز میں دہشت گردوں کو بتا دیا گیا کہ اسلام دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی اجازت نہیں دیتا، یہ بھی کہا گیا کہ دین میں خودکش حملے حرام ہیں،پاکستان کیخلاف مذہب کی بنیاد پرکشت وخون کا بازار گرم کرنے والوں کو واشگاف الفاظ میں سنا دیا گیا کہ کسی اسلامی ریاست میں مسلح بغاوت مکمل طور پر ناجائز ہے ، مزید یہ اسلام فرقہ واریت اور مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اعلانیہ بتایا گیا کہ اسلام میں اختلاف رائے کی اجازت ضرور ہے مگر اس میں تصادم کی بجائے مکالمہ کی تلقین کی جاتی ہے ، پیغام پاکستان کو حکومت و عوام کی جانب سے ملک دشمن قوتوں کیلئے علمی، فکری اور علمی بیانیہ قرار دیا گیا ، پیغام پاکستان کے مطابق مملکت خداداد ایک جمہوری ریاست ہے اگر کوئی فرد یا گروہ یہاں نظام کی تبدیلی کا خواہاں ہے تو اسے عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہوکر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔بلاشبہ ایک طرف نیشنل ایکشن پلان قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے باہمی مربوط اقدمات میں مدد گارثابت ہورہا ہے تو دوسری جانب پیغام پاکستان فکری اعتبار سے ملک کو درپیش عفریت کا کامیابی سے مقابلہ کررہا ہے۔اس سوال کا جواب یقینا تلاش کرنیکی ضرورت ہے کہ دونوں منصوبوں کی موجودگی کے باوصف مطلوبہ نتائج کا حصول کیونکر ممکن نہیں ہوسکا ، بادی النظر بنیادی وجہ دونوں پراجیکٹس پر ان کی روح کے مطابق عمل نہ کرنا ہے ، مثلا ہم جانتے ہیں کہ تاحال نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان کو نصاب تعلیم کا حصہ ک نہیں بنایا جاسکا ، مزید یہ کہ ہمارے علما کرام ، سیاستدانوں اور دانشوروں کی جانب سے مذکورہ دونوں منصوبوں بارے رائے عامہ کو بھرپور انداز میں ہموار بھی نہیں کیا گیا۔ آخر میں یہ سوال پوچھنا بھی قطعی طور پر بلاجواز نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان و پیغام پاکستان پر پر عمل نہ کرنیوالوں کیخلاف آخرکون سے قانونی کاروائی عمل میں لائی گی۔
نیشنل ایکشن پلان اور پیغام پاکستان مثالی منصوبے مگر

