82

نیویارک، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور وخوض کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا دوسرا اجلاس

 اقوام متحد کی سلامتی کونسل نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال پر غورو خودض کیلئے اجلاس کا انعقاد کیا۔ یہ اجلاس پاکستان کی درخواست پربلایا گیا تھا جبکہ اجلاس بلانے میں چین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بھارت نے گزشتہ برس پانچ اگست کو ملکی آئین کی دفعہ 370منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی ۔ اس غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کے خلاف کشمیریوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے اس نے مقبوضہ کشمیر کا مسلسل فوجی محاصرہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے کشمیری اس وقت سخت مشکلات و مصائب سے دوچار ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امن آپریشنز اور سیاسی امور کے محکموں کی طرف سے پہلے کشمیر کے حوالے سے سلامتی کونسل کو بریفنگ دی گئی جس کے بعد کونسل کے ارکان کے درمیان صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ مباحثے میں کونسل کے تمام 15 ارکان نے حصہ لیا ۔اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب زینگ جن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ کشمیر ہمیشہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے جبکہ چین کا کشمیر کے معاملے پر موقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کی وجہ سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔اقوام متحدہ میں روس کے مستقبل مندوب دمتری پولیانسکی نے شوسل میڈیا پر جاری اپنے بیان کہا کہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں کشمیر کا معاملہ زیر بحث آیا ہے جس میں تمام پندرہ ارکان نے حصہ لیا۔ روسی مندوب کا کہنا تھا کہ روس پاکستان اور بھارت کے تعلقات معمول پر لانے کا خواہاں ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ شملہ معاہدے اور لاہور اعلامیہ کی بنیاد پر دو طرفہ کوششوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے ختلافات دور ہوجائیں گے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں گزشتہ برس اگست میں تقریباً 50 برس بعد مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں