Site icon Daily Pakistan

نیپال میں بھارتی دراندازی

نیپالی وزیر اعظم بلیندر شاہ نے برطانیہ اور چین سے مطالبہ کیاہے کہ وہ کالاپانی ، لیپولیکھ اورلمپیادھورا کے تنازعات کو حل کرانے کیلئے مداخلت کریں۔ بلیندر شاہ نے نیپال کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کھٹمنڈو اور نئی دہلی دونوں نے ایک دوسرے کی سرزمین پرتجاوز کیا ہے۔ہم نے نہ صرف بھارت اور چین کے ساتھ بلکہ برطانیہ کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے۔انہوں نے اس تنازعے کو برطانوی ہند کے تحت 1816 کے سوگولی معاہدے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو بھی تشویش کا اظہار کرنا چاہئے۔ نیپال اور بھارت کے درمیان لیپولیکھ، لمپیادھورا اور کالاپانی پر دیرینہ سرحدی تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ دونوں ممالک ان علاقوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نیپال بھارت،تنازعہ دوہزاربیس میں اس وقت شدت اختیارکرگیا جب نئی دہلی نے کیلاش مانسروور یاترا کے لیے لیپولیکھ درے سے ایک سڑک کا افتتاح کیا جس کے بعد نیپال نے ایک نظرثانی شدہ نقشہ جاری کیاجس میں کالاپانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کونیپال کا حصہ ظاہر کیاگیا اور بعد میں اسے آئین میں شامل کیاگیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت علاقائی استحکام کی آڑ میں نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کے داخلی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مسلسل مداخلت کررہاہے اور جب بھارت کے اقدامات پر سوال اٹھائے جاتے ہیں تویہ کثیر جہتی میکانزم کو مسترد کر تا ہے ۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے شہریوں کی طرف سے سرحد پار کاشتکاری اور آباد کاری کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ کے تجاوزات سے متعلق بیان کی وضاحت کی ہے ،پھر بھی نئی دہلی نے کھٹمنڈو کی سفارتی کوششوں کومسترد کیا ہے۔ کالاپانی کا تنازعہ سوگولی معاہدے کے تحت دریائے کالی کی ابتدا کی متضاد تشریحات سے جنم لیتا ہے۔1827 اور 1856 کے ابتدائی برطانوی نقشوں میں کالاپانی کو نیپالی علاقے کے طور پر دکھایا گیا تھا لیکن بعد میں ہونے والے سروے میں اسے تبدیل کر دیاگیا، نیپال کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس کی رضامندی کے بغیر کی گئی تھی۔ بھارت کو 1947 میں یہی سرحد ملی تھی اور اس کے بعد سے اس نے کالاپانی میں اپنی فوجیں برقرار رکھی ہیں۔اسی لئے نیپال برطانیہ اور چین کی مداخلت چاہتاہے۔ یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنوبی ایشیاکے ممالک بھارت کی مداخلت کو قبول کرنے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں اور نوآبادیاتی دور کے معاہدوں سے جڑے تنازعات کو حل کرنے کیلئے تیسرے فریق کی مداخلت چاہتے ہیں۔ نیپال کی پارلیمنٹ کا اجلاس 11 مئی کو شروع ہوا تھا۔ شاہ نے مزید کہا کہ ہندوستان اور نیپال نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تاریخ دانوں، سروے کرنے والوں اور ماہرین کی مدد لینے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کھٹمنڈو نے یہ معاملہ چین اور برطانیہ کے ساتھ اٹھایا ہے۔ بھارت کا موقف ہے کہ یہ علاقے اتراکھنڈ کا حصہ ہیں اور اس مسئلے کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ شاہ کے تبصروں پر ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم اس ماہ کے شروع میں، اس نے طویل عرصے سے قائم لیپولیکھ پاس کے ذریعے آنے والی کیلاش مانسروور یاترا پر نیپال کے اعتراض کو مسترد کر دیا تھا۔کیلاش مانسرور چین کے علاقے میں واقع ایک مخصوص پہاڑ ہے، جسے ہندوؤں کے دیوتا شیوا کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔چین ہر برس جون اور اگست کے درمیان محدود تعداد میں انڈین زائرین کو وہاں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس یاترا کا انتظام انڈیا کی وزارتِ خارجہ کرتی ہے۔یہ یاترا کورونا کی وبا کے بعد بند ہو گئی تھی۔ یہ گذشتہ برس دوبارہ شروع کی گئی ہے۔ گذشتہ 30 اپریل کو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس بار 500 زائرین سکم کے ناتھو لادرے اور دیگر 500 یاتری لیپو لیکھ درے کے راستے کیلاش مانسرور کا سفر کریں گے۔ انڈیا نے چند ماہ پہلے سکم کے ناتھولا، ارونا چل پردیش کے تاوانگ اور اتراکھنڈ کے لیپولیکھ سرحدی راستوں کے ذریعے چین سے تجارت دوبارہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس وقت بھی نیپال کی حکومت نے لیپو لیکھ پر اپنا دعویٰ کرتے ہوئے اس راستے سے تجارت کرنے پر اعتراض کیا تھا۔لیپو لیکھ شمالی انڈیا کی ریاست اترا کھنڈ کی شمالی سرحد پر ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔ اس کے ایک جانب نیپال ہے اور دوسری طرف چین کی سرحد شروع ہوتی ہے۔انڈیا نے 2015 میں میں تجارت اور مانسرور یاترا کے لیے لیپولیکھ میں سڑکیں اور کچھ عمارتیں وغیرہ بنائی تھیں۔ اس کے خلاف نیپال کے دارالحکومت میں مظاہرے ہوئے تھے۔ اس وقت بھی نیپال کی حکومت نے کہا تھا کہ لیپولیکھ، لیپیا دھورا اور کالا پانی نیپال کا اٹوٹ انگ ہیں۔نیپال کا کہنا ہے کہ 1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے سوگولی کا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے تحت اس خطے میں کالی ندی کو انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحد تسلیم گیا تھا۔ندی کے مشرق کے علاقوں پر نیپال کی ملکیت تسلیم کی گئی تھی۔ اسی معاہدے کی بنیاد پر نیپال ان علاقوں کو اپنی زمین مانتا رہا ہے۔ لیکن انڈیا اسے تسلیم نہیں کرتا۔

Exit mobile version