Home » کالم » وزیراعظم صاحب! قوم دوٹوک فیصلے کی منتظرہے

وزیراعظم صاحب! قوم دوٹوک فیصلے کی منتظرہے

زیرنظر کالم کی سطریں آپ کی نظروں سے جب گزر رہی ہونگی تو یقینا راقم کی طرح آپ بھی ملکی اندرونی سیاسی واقتصادی حالات کی نظرآنے والی بدترین اور ناگفتہ بہ صورتحال سے پہلے ہی دلبرداشتہ پریشانیوں میں گھرے پاتے سوچ رہے ہونگے کہ ہمارا ابنائے وطن آجکل کن مشکلات میں آن گھرا ہے جس کے چہارسو ایک شورہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا عوام کی واضح اکثریت جن میں نچلے درجہ کے کروڑوں عام مزدور;39;کسان اورمڈل کلاس کی اکثریت شامل ہے چند بے پناہ دولت مند ایلیٹ کلاس کے سوا تقربیا ً سبھی اپنی نودس ماہ سے برسراقتدار موجودہ حکومت کی اقتصادی اور انتظامی پالیسیوں سے نالاں نظرآتے ہیں ;238; مختلف النوع شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں ;238; ابنائے وطن پر نا امیدوں ;39;مایوسیوں اورمالی پریشانیوں کے اندوہناک موسموں کا تسلسل نجانے کبھی بدلے گا بھی یا نہیں ;238; امریکی کرنسی ڈالرکی روزبروز کی پھرتیلی اْڑان کے خوف میں وہ عام پاکستانی بھی مبتلا نظرآتا ہے جس نے اپنی زندگی میں امریکی ڈالر دیکھا تک نہیں ہے ;39;اْسے کیا پتہ کہ ;39;اسٹاک ایکسچینج ;39;کس بلا کانام ہے;238; اس میں ;39;مندی;39; اور ;39;تیزی;39; سے اْسے کیا نقصان اور کیا فائدہ ملتا ہے;238;لیکن الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے رجے ہوئے صحافی اور اینکرز ملکی عوام کوخوف اوردہشت زدہ خدشات کے شکنجہ کے ;39;نشہ;39; میں ڈھالے رکھنے کا باریک ملکی سماج دشمن رویہ چھوڑنے پر آمادہ ہوتے دکھائی نہیں دیتے ملک بھر میں کنسٹریکشن انڈسٹریز یکدم زمین بوس ہوگئی ملک کے سبھی بڑے شہروں میں تعمیراتی شعبہ میں محنت مزدوری کرنے والے سڑکوں کے کناروں پر مزدوری کے انتظار میں شام ڈھلے تک بیٹھے رہتے ہیں یہی افسوس ناک صورتحال دیگر بڑی انڈسٹریز کا بھی ہے ملک بھر کے بے پناہ دولت مند طبقات نے اپنی دولت کے خزانوں کا منہ بند کرکے معاشرے میں دولت کی ریل پیل کے سسٹم کو بریک لگادیا اور عوام کی اکثریت اشیائے صرف کی ہوش ربا گرانیوں ;39; افراط زر کی فتنہ سامانیوں بلواسطہ اور بلاواسطہ سرکاری ٹیکسوں کی بھرمار اور مختلف مدوں میں دی جانے والی سبسڈیز کو واپس لیئے جانے کے سرکاری فرمان سننے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتی نظرآتی ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب شام گئے آجکل ویسے ہی رمضان المبارک کے ایام چل رہے ہیں پاکستان کے کروڑوں مزدورں کے گھروں میں مزدوری نہ ملنے کی باتیں نہ ہوتی ہوں درمیانی طبقات کے گھروں میں طوفان خیز مہنگائی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا نہ جاتا ہواوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے انتخابی ریلیوں میں جہاں عوامی مسائل اْٹھائے وہاں اس حکومت نے نیا نعرہ بھی دیا تھا کہ پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی گرفت میں ماضی کی حکومتوں نے بہت بْری طرح سے جکڑاہے عمران خان کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پہلے فیز میں ماضی کے کرپٹ سیاسی حکمرانوں کا کڑا احتساب ضرور کریں گے ;39;بلینئرزآف ڈالر;39; کے بیرونی قرض جس جس دور حکومت میں بھی لیئے گئے اْن کی شفاف چھان بین کی جائے گی اور قومی خزانے سے لوٹی جانے والی بیرون ملک پڑی ہوئی دولت واپس ملک میں لائی جائے گی نودس ماہ ہوچکے ہیں احتساب ہو تورہا ہے مگر نیم دلانہ اس احتساب کی سست رفتاری نے عوام کو بہت مایوس کیا ہوا ہے پہلے کہا گیا کہ;39;عمران خان خود کشی کرلئے گا لیکن آئی ایم ایف کے سامنے وہ کشکول لے کرکسی صورت نہیں جائے گا;39;لیکن آٹھ نوماہ بعد ملک میں اچانک کیا سے کیا ہوگیا;238;لگتا ہے گزشتہ 35;245;30 برسوں تک بلاشرکت غیرے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر مسلسل اور وفاق میں تین بار حکومت کرنے والے ایک ;39;تجارت پیشہ خاندان;39; نے ملکی تجارت پیشہ گروہوں کی ایک ;39;یونین;39; تشکیل دی ہوئی ہے اور سندھ کے ;39;بھٹو شہید فیکڑ;39; کے نام پر ووٹ بٹورنے والے خاندان کے ایک گروہ نے اْسی ;39;تجارت پیشہ حکمران طبقہ کی یونین میں ;39;باریوں ;39; کے نام پر شمولیت اختیار کرلی ہے کبھی باہم سیاسی گالیاں ;39;الزامات اور مخا لفتیں اور کبھی باہم افطاریاں ;39;کھانے اور کھابے یوں پاکستانی حکمرانی کے جمہوری گھن چکروں کے نام پر تجارت پیشہ ;39;دولت بناو بیرون ملک جمع کرو;39;کے اصولوں پر باہم اتفاق واتحاد;238;آپ نے سنا کیسے ببانگ دہل سابق صدرزرداری نے احتساب عدالت سے باہر نکلتے یہ کہہ دیا کہ ;39;یا تو ملک میں معیشت چلے گی یا احتساب چلے گا;39;مطلب یہ ہوا کہ چوروں کو پکڑوگے تو چوروں کا اتحاد ملکی معیشت کو چلنے نہیں دئے گاعالمی سطح پر کسی حد تک دنیا ;39;مالی بحران;39;کا شکار ضرور ہوئی مگر جناب والہ،قوم محسوس کرتی ہے کہ پاکستان کا مکمل اقتصادی ڈھانچہ ملک کا اقتصادی سخت پہیہ جام ہوگیا ہے پاکستان کے بازاروں کی رونقیں مدھم پڑگی ہیں پاکستانی دولت بے انتہا اورانتہا سے زیادہ لامحدود انبار رکھنے والے ملکی آبادی کے یہ ڈیڑھ فی صد افراد جنہیں ;39;اشرافیہ;39; کہیں ;39;بدمعاشیہ;39; کہیں وہ سب نجانے کن کونے کدھروں میں جادبکے ہیں اب کوئی پیش قیاسی کرئے تو کیا کرئے;238; اگلے مہینے جون میں بجٹ آنے والا ہے اس حکومت کے پاس کیا ہے جو وہ عوام کو دے پائی گی;238; تنخواہ دار طبقہ اور پینشنرز کے گھروں کیا گفتگوچل رہی ہے اس کا اندازہ کسی کوہے;238; بجٹ کا پہلا مطلب یہی ہے کہ آمدنی اور خرچ میں توازن پیدا کیا جائے;39; سوال یہ ہے کہ پاکستان میں آمدنی کے ذراءع کیا ہیں ;238;پاکستان کی برآمدات کی صورتحال کیا ہے جب صنعتیں نہیں چل رہیں تو پاکستانی پراڈکٹس بننے کا سوال کیسا ٹیکسوں کی مختلف صورتیں اور سبسڈیز واپس لے لیناغیر ملکی قرضوں کا بوجھ الگ اگر یہی کچھ کرنا ہی تھا تو شریف فیملیز اور زرداری فیملیز کیا ٹھیک نہیں تھیں ;238;اْن کا کرپٹ ہونا، قومی دولت کے حصار میں نقب زنی کرنا،اْن کا ٹیکس چورہونا،اقرباء پرور ہونا،سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کا ستیاناس کرنا،پولیس اور سرکاری اداروں کوسیاسی بنادینا اْن کی یہ ;39;تعریفیں ;39; اپنی جگہ;238;مگرپی ٹی آئی کی حکومت وہ فوری اقدامات کرنے سے گریزاں دکھائی کیوں دیتی ہے مثلاً ملک بھر میں لگی ہوئی ملیں صنعتی یونٹس فنگشنل کیوں نہیں کی جارہیں ;238; عام ہنرمند مزدور رل کیوں رہا ہے;238; مطلب یہ کہ ملک میں احتساب کے شعبے کا بوریا بسترہی گول کردیا جائے یعنی احتساب ختم ہوگا تو سوئی ہوئی پڑمردہ ملکی معیشت یکایک انگڑائی لے کر اْٹھ کھڑی ہوگی;238; وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کیا قوم یہ سمجھ لے کہ وہ بھی تھک ہارچکے کیا اْنہوں نے پاکستان کی قومی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کے نام پر لیئے جانے والے بیرونی قرضوں کی طوفان خیز لوٹ مار کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں ;238;یاد رہے قارئین حکومت سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہوتی ہے ہم کب سے سن رہے ہیں کہ ;39;وزیراعظم عمران خان کی نیت صاف ہے نیک ہے وہ ملک کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ;39; عوام کب تک عمران خان کی جوشیلی تقریریں سنتی رہے ;39;کردیا جائے گا،فیصلہ ہوچکا ہے، چوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا;39;یہ ;39;مستقبل;39; کے صیغے سنتے سنتے عوام عاجز آچکے ہیں عوام ;39;عملاً;39;کچھ ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی عوام کوتلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر;39;عزم اور اتحاد کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ہم یہاں اپنے سپہ سالار کے اس موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اْن کی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنے عوام کے اعتماد کو مزید جلا بخشی ہے، واقعی ماضی میں آج سے زیادہ چیلنجز تھے اب مالی وانتظامی چیلنجز قوم کو درپیش ہیں ، پاکستانی قوم صبر بھی کرئے گی پاکستانی قوم میں عزم بھی موجود ہے اور قوم کا اتحاد بھی ناقابل تسخیر ہے ،بس حکومت مصلحت پسندی کوخیرباد کہہ دے پاکستان دشمن عوام دشمن کرپٹ سیاسی اشرافیہ کو نشان عبرت بنانے میں اب تحریک ِ انصاف کی حکومت اپنے قدم آگے بڑھائے یہی وقت ہے وزیراعظم عمران خان صاحب اب دیر نہ کریں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative