Home » کالم » وزیراعظم عمران خان کا عزم۔۔۔ کرپشن فری پاکستان
adaria

وزیراعظم عمران خان کا عزم۔۔۔ کرپشن فری پاکستان

کرپشن صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے چاہے کوئی ملک ترقی یافتہ ہو یا پسماندہ اپنے اپنے حساب سے ہر جگہ کرپشن کا بازار گرم ہے ۔ اس کو کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔ وزیراعظم عمران خان چونکہ خود کرپشن سے پاک ہیں اسی وجہ سے ان کی منزل بھی کرپشن سے پاک پاکستان ہے وہ اس حوالے سے چین سے متاثر ہیں کہ جیسے انہوں نے کرپٹ افراد کا صفایا کیا ہے اسی طرح انہوں نے بھی خواہش کا ظہار کیا کہ کاش میں 500 کرپٹ افراد کو جیل بھیج سکوں ۔ ہم اس سلسلے میں حکومت کی مکمل حمایت کرتے ہیں لیکن وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ کرپشن کیخلاف آپریشن حکومتی صفوں سے کریں تاکہ اپوزیشن کو بھی کوئی اعتراض نہ ہو ۔ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لئے قائم چائنا کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزارتی سطح کے 400افرادکو سزائیں دیکر جیل بھجوایا کاش میں بھی پاکستان میں 500 کرپٹ لوگوں کو جیل بھیج سکتاہمارے نظام میں کرپشن روکنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے لیکن حکومت اس پر کام کر رہی ہے پاکستان میں کرپشن ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہیں آتی جبکہ سرخ فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ترین ملک ہے ہم ہاءوسنگ تیل کوئلے ٹیکسٹائل، آئی ٹی فنانس زراعت سیاحت کوئلے کی صنعت اور دیگر سیکٹرز میں چینی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کرنے جا رہے ہیں ، راہداری منصوبے میں وزارتوں کا عمل دخل روکنے کیلئے سی پیک اتھارٹی قائم کی گئی ہے ۔ پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا اب پاکستان چین سے سیکھ رہا ہے ۔ چین نے گزشتہ پانچ سال میں کرپشن کے خاتمہ کے لئے وزارتی سطح کے400 افراد کو سزائیں دے کر جیلوں میں ڈالا، ہم بھی بدعنوان افراد کے خلاف ایسی کارروائی کر نا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نظام سست ہے، سرخ فیتے کی رکاوٹ بھی کرپشن کی وجہ سے ہوتی ہے امید ہے کہ آہستہ آہستہ صورتحال بہتر ہو جائے گی پاکستان میں کرپشن پر قابو پانے میں کچھ وقت لگے گاملک میں سرمایہ کاری نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کامیابیوں سے سیکھ رہے ہیں ۔ قبل ازیں عمران خان کا عظیم عوامی ہال آمد پر چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے پرتپاک استقبال کیا عمران خان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب عظیم عوامی ہال میں منعقد ہوئی اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے پر تپاک مصافحہ کیا اور بعد ازاں پاکستانی وفد کا چین کے وزیراعظم کے ساتھ تعارف کرایا گیا ۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے اور چین کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی پیش کی اور وزیراعظم عمران خان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ۔ بعدازاں دونوں رہنماءوں کے مابین گریٹ ہال میں تفصیلی دوطرفہ مذاکرات ہوئے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سی پیک کے منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ لی کی چیانگ نے علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے سی پیک منصوبوں میں پیش رفت کے لیے اقدامات پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اقتصادی راہداری کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی مستحکم معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ثابت ہوگا اور پاکستان میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ کے لیے راہ ہموار کرے گا ۔ دونوں سربراہان حکومت کی ملاقات پر جاری اعلامیے کے مطابق دو طرفہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ پاکستان اور چین کے درمیان سماجی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے ۔ فریقین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور انسانی بحران سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں رہنماوں نے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سےمختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چینی کمپنیوں کےسربراہان نے منگل کو یہاں علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم سے ملاقاتیں کرنے والوں میں گژوبا گروپ کے چیئرمین لیوزی ژیانگ، لانگ مارچ ٹائر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لی کنگ وین، اورینٹ ہولڈنگز گروپ لمیٹڈ کے بورڈ کے چیئرمین جیانگ ژومنگ اورمیٹلرجیکل گروپ کارپوریشن کے چیئرمین گاو وین کنگ شامل تھے ۔ دونوں وزرائے اعظم نے اپنے تعلقات کومزیدمستحکم بنانے اورمختلف سطحوں پر تبادلوں اور تذویراتی روابط کے قیام پراتفاق کیاہے ۔ دونوں فریقوں نے عوام کی فلاح وبہبود یقینی بنانے کے 27منصوبوں کے معاہدوں پردستخطوں کے لئے پاکستان میں آئندہ ماہ چین پاکستان راہداری کے بارے میں مشترکہ تعاون کی کمیٹی کا9واں اجلاس بلانے پربھی اتفاق کیا ۔ چین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیرمتزلزل کوششوں اور عظیم قربانیوں کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خلاف مہم میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی ہے ۔ دونوں ممالک نے پاکستان اوربھارت کے درمیان تعلقات کے علاوہ افغانستان اورخلیج کے علاقے کی صورتحال پربھی تبادلہ خیال کیا ۔ جبکہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر جنرل ہان ویگو اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا جبکہ دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا، دونوں ملکوں کی فوجی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاک بھارت جاری کشیدگی دور نہ ہونے سے خطے کے امن واستحکام پرسنگین نتاءج ہوں گے ۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن قوم کے وقار اور اصولوں پر سمجھوتے کی قیمت پر نہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمرجاوید باجوہ کو پیپلز لبریشن آرمی کے ہیڈکوارٹرز کے دورہ کے موقع پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ۔ چین کی فوجی قیادت نے کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو سراہا اور امن کے لیے پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ۔ آرمی چیف نے مسئلہ کشمیر پرامن حل نہ ہونے کی صورت میں کشمیر میں جاری صورتحال کے ممکنہ نتاءج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔

برطانوی میگزین نے بھارتی مظالم کے پردے چاک کردئیے

بھارت کی ہٹ دھرمی قائم ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھارہا ہے لیکن بین الاقوامی برادری ابھی تک اس حوالے سے خاطر خواہ اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے ۔ برطانوی میگزین نے بھارتی بربریت سے پردہ واشگاف کیا ہے ۔ اس پر صدر مملکت نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دی اکانومسٹ میں شاءع ہونے والے مضمون پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تنازعہ کشمیر اوراقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کاریکارڈ انتہائی مایوس کن ہے کیونکہ وہ آئین سے انحراف کی پالیسی پرعمل پیراہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ انتظامیہ ہی کاحصہ دکھائی دیتی ہے جو اس کے غیرمنصفانہ اقدامات میں تعاون کررہی ہے جس سے بھارتی مسلمانوں ،اقلیتوں اورکشمیریوں کوشدیدمایوسی ہوئی ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ججو ں نے مختلف امور میں مداخلت تو کی تاہم اس نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق کئی امور پرشرمناک انداز میں خاموشی اختیار کی ۔ بھارت کی عدالت عظمیٰ نے مودی کی حکومت کو مقبوضہ وادی کاخصوصی درجہ ختم کرنے کے یکطرفہ اورغیرقانونی اقدام کے خلاف مختلف عرضداشتوں پرجواب داخل کرانے کےلئے ایک ماہ کا وقت دیاہے ۔ اس قسم کے حکم نامے کامطلب ہے کہ کشمیریوں کومزیدایک ماہ کےلئے بھارتی مظالم اورقیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرناپڑیں گی اوراس دوران مظلوم کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھاجائے گا ۔ مضمون میں نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقائق کوبے نقاب کیاگیاہے بلکہ آسام اورکشمیر کے مسلمانوں کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ اورمودی کے اقدامات میں محاذآرائی ظاہر کیاگیاہے ۔ مقبوضہ کشمیرکی وادی اورجموں ریجن کے مسلم اکثریتی علاقوں میں آج بھی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں جہاں جاری فوجی محاصرے اورمواصلاتی روابط کی بندش کے باعث رات گئے چھاپوں ، نوجوانوں کی گرفتاریوں اور کئی افرادکوشہید کئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں لوگوں کو ضروری اشیاء کی قلت کا سامنا ہے ۔ مواصلاتی روابط کی بندش کا مقصد جموں وکشمیر کے عوام کومشترکہ طورپرسزادیناہے اورماہرین کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے باوجودبھارتی سپریم کورٹ نے اپنی آئینی ذمہ داری ادانہیں کی ۔ بھارت کی طرف سے کشمےر مےں مواصلاتی ذراءع کی معطلی سے کشمےرےوں کی روز مرہ کی زندگی اور فلاح وبہبود پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہےں ۔

پنجاب کابینہ کے خوش آئند فیصلے

صوبائی کابینہ پنجاب نے انتہائی اہمیت کے حامل اور بڑے فیصلے کیے ہیں جوکہ عوامی اہمیت کے حامل ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کو انقلابی فیصلے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ سب سے پہلے بیروزگاری کا دور دورہ ہے ایسے میں گریڈ 14 تک ملازمتوں سے پابندی اٹھانا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقدہوا،اجلاس میں پنجاب لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیاگیا ۔ کابینہ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن کے قیام کی منظوری دی ۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ کمےشن13ممبران پر مشتمل ہوگا ، سربراہ صوبائی وزےر خزانہ ہوں گے ۔ کمےشن صوبائی محاصل کی تقسےم کا فارمولہ وضع کرے گا ۔ پنجاب کابےنہ کے اجلاس میں گرےڈ 1سے 4تک کی منظور شدہ خالی آسامےوں کےلئے بھرتی پر پابندی اٹھانے کا فےصلہ کیاگیا ۔ وزیراعلیٰ نے محکموں کو اپنی ضرورےات کے مطابق گرےڈ1سے 4تک کی بھرتےوں کیلئے کےسز بھجوانے کی ہداےت کی ۔ وزےراعلیٰ کےس ٹو کےس جائزہ لے کر بھرتےوں کی منظوری دےں گے ۔ پنجاب کا بینہ نے سابق دور کی سستی روٹی اتھارٹی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا اور سستی روٹی اتھارٹی بند کرنے کی منظوری دی ۔ اجلاس میں سستی روٹی سکےم مےں ہونے والی بے ضابطگےوں کا سپےشل آڈٹ کرانے کا فےصلہ کیاگیا ۔ سپےشل آڈٹ کی رپورٹ کی روشنی مےں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ کابےنہ کے اجلاس کو انسداد ڈینگی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے مےں تفصےلی برےفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں پنجاب بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیویز سروس رولز 2009 میں ترامیم کی منظوری دی گئی ۔ کابینہ نے راولپنڈی میں یونیورسٹی ;200;ف ٹیکنالوجی کے قےام کا فےصلہ کیا اور اس ضمن میں ڈرافٹ بل 2019 کی منظوری دی ۔ وزےراعلیٰ نے وزراء کو اپنے اضلاع مےں کھلی کچہرےاں لگانے کی ہداےت کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی وزراء پرائس کنٹرول کے لئے فےلڈ مےں نکلےں اورعوام کو رےلےف دےں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative