Home » کالم » وزیراعظم پاکستان عمران خان کا بھارت کودوٹوک جواب
adaria

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا بھارت کودوٹوک جواب

adaria

بھارت کو ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان قطعی طورپر دہشت گردی کے خلاف ہے اور اس نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں تو وہ کیونکر کسی ملک میں جاکر دہشت گردی کرے گا ،پھر بھارت کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی اس کے ملک میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کردیتا ہے، نہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ وقت کیسا ہے یا خطے کے حالات کیا تقاضا کررہے ہیں بس الزام تراشی کرنا اس کی ایک عادت ہے ، ایل او سی پر آئے دن بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے، مقبوضہ کشمیر میں اندھیر نگری مچا رکھی ہے، نہتے معصوم کشمیریوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد کا پاکستان کا دوروزہ دورہ تھا جس میں سعودی عرب نے پاکستان میں تاریخی سرمایہ کاری کی اور شہزادہ محمد بن سلمان نے کہاکہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے، عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ابتدائی ہے اس کے بعد اور مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔ نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھا جائے۔ ولی عہد کے اعزاز میں دئیے گئے اعشائیے میں وزیراعظم نے شہزادے سے درخواست کی کہ سعودی عرب میں مقید پاکستانیوں کی رہائی کے احکامات صادر کیے جائیں ۔ نیز حجاج کرام کی پاکستان میں ہی امیگریشن کی جائے اس پر سعودی ولی عہد نے فوری احکامات جاری کرتے ہوئے 2107 قیدیوں کی رہائی کے احکامات صادر کیے ۔ نیزامیگریشن کیلئے بھی کام شروع ہوگیا ہے۔ عمران خان نے یہ بات کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے جبکہ سعودی ولی عہد نے ثابت کردیا کہ وہ پاکستان کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان کیلئے کچھ کیا وہ میرا فرض تھا اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے بھی اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہوچکے ہیں اگر انتخابات لڑیں تو مجھ سے زیادہ ووٹ لیں گے۔ نیز سوشل میڈیا پر بھی آج کل آپ کے ہی چرچے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس وقت بلندیوں کو چھو رہے ہیں چونکہ پاکستان کے معاشی حالات دگرگوں تھے۔ سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے بعد پاکستان اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گا۔ اسٹیٹ بینک نے بھی کہا ہے کہ اب ہم معاشی بحران سے نکل آئے ہیں ۔دوسری جانب سعودی عرب نے سی پیک میں بھی شمولیت کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان نے کہاکہ کرپشن کے حوالے سے میری اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سوچ ایک ہی ہے۔ ایسے حالات میں بھارت نے تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشیوں کی اندھا دھند بارش کردی مگر وزیراعظم پاکستان نے انتہائی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں فی الوقت کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ سعودی ولی عہد کا تاریخی دورہ بہت اہمیت کا حامل تھا جیسے ہی یہ دورہ ختم ہوا وزیراعظم نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرتے ہوئے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان پر حملہ کرے گا تو پاکستان سوچے گا نہیں جواب دے گا۔ جنگ شروع کرنا انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن ختم کرنا انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ یہ بات بالکل درست ہے جو کہ وزیراعظم نے کہی کیونکہ بھارت صرف گیڈر بھبکیاں دیتا ہے اور جب بھی اس کے انتخابات آتے ہیں تو وہ پاکستان کا کارڈ کھیلنا شروع کردیتا ہے ۔ ابھی تک بھارت میں جتنے بھی سانحات ہوئے ہیں ان سب کے تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں چونکہ مودی بنیادی طورپر خود دہشت گرد ہے اس وجہ سے ان انتخابات سے قبل مقبوضہ کشمیر میں خود خون کی ہولی کھیلی تاکہ وہ اس کارڈ کو کھیل کر انتخابات میں ووٹ حاصل کرسکے۔ اب اس کے سامنے حقیقت آتی جارہی ہے ۔ بھارت کے اندر سے ہی یہ آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ مودی کے کسی بھی اقدام اور بیان پر اعتبار نہ کیا جائے اس کے سابق جنرل نے واضح کیا کہ اتنی بھارتی مقدار میں بارود پلوامہ لانا ناممکن ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھارت نے خود ہی ڈرامہ رچایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی ہے کہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں واقعہ ہوا، میں نے اس پر فوری طور پر ردعمل دینا تھا کیونکہ اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا لیکن ہمارے ملک میں سعودی ولی عہد کا بہت اہم دورہ تھا اور سرمایہ کاری کانفرنس تھی، لہٰذا میں نے اس وقت جواب اس لیے نہیں دیا کیونکہ اس سے ساری توجہ دوسری طرف ہوجاتی۔ وزیر اعظم نے بھارتی حکومت پر واضح کیا کہ یہ نیا پاکستان، نئی ذہنیت اور نئی سوچ ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ کوئی پاکستان سے جاکر باہر دہشت گردی کرے اور نہ باہر سے کوئی آکر پاکستان میں دہشت گردی ہو کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے، ہم استحکام چاہتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو پیش کش کی کہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے، اگر آپ کے پاس پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی قابل عمل معلومات ہیں تو ہمیں فراہم کریں، میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم کارروائی کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم کارروائی اس لیے نہیں کریں گے کہ ہم پر کوئی دباؤ ہے بلکہ یہ پاکستان سے دشمنی ہے کہ کوئی دہشت گردی کے لیے اس کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، یہ ہمارے مفاد کے خلاف ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ یہ نیا پاکستان ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی پاکستان سے جا کر دہشت گردی کرے اور کوئی پاکستان آکر دہشت گردی کرے، ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں دہشت گردی ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے ہمارا 100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے، بھارت ہمیں ایکشن ایبل انٹیلی جنس معلومات دے ہم ایکشن لیں گے۔

روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات ‘‘ میں راجہ ظفر الحق کی مدبرانہ گفتگو
میں دودفعہ وفاقی وزیرمذہبی اموراوروزیراطلاعات بھی رہا،سعودی ولی عہد نے میری باتیں بڑی توجہ سے سنیں،میاں نوازشریف نے کہا تھااگرمیری ضمانت ہوتی توولی عہد سے خود ملتا،ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد نے کہا سیاست میں ایک دوسرے سے اختلافات ہوتے ،مگرمیاں برادران قابل احترام ہیں،سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان کیلئے بہت اچھا ہے، پانچ ملکوں کا دورہ کافی پہلے سے طے تھا، پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین سردار الیاس تنویر نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بزنس مین کو اعتماد دیا جائے،پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کے دروازے 24گھنٹے کھلے ہوئے ہیں،بزنس کیلئے کسی کو بھی کوئی مسئلہ ہے تو ہم ہروقت کیلئے حاضر ہیں،،روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر)ضیا الدین بٹ نے کہا کہ سعودی ولی عہد کا دورہ بہت ہی کامیاب رہا،سعودی حکومت پاکستانی فوج کو بڑی اہمیت دیتے ہیں،چیف آف آرمی سٹاف اورعمران خان کی یہ بڑی ایچومنٹ ہے،چیئرمین آ ف انویسٹمنٹ بورڈ ہارون شریف نے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ، سعودی عرب نے ویزہ پالیسی کو بھی آسان کردیا ہے،ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے،جب بھی کوئی میگا پروجیکٹ لگتا ہے تو لوکل کمپنیوں کوفائدہ ہوتا ہے،پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا ملک کیلئے فائدہ مند ہے،دعا کریں ہم ملک کے لئے بہتر کرسکیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative