Home » کالم » وزیراعظم کا کرپشن کیخلاف ایک دفعہ پھر عزم مصمم
adaria

وزیراعظم کا کرپشن کیخلاف ایک دفعہ پھر عزم مصمم

وزیراعظم عمران خان نے ایک دفعہ پھر اپوزیشن کو دو ٹوک انداز اور واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ چاہے جو مرضی کرلے ،جتنے مرضی آپس میں سر جوڑ لے ، اکٹھے ہوکر بیٹھ جائیں ، متحد ہو جاءں ی، آل پارٹیز کانفرنسز بلا لیں ، احتجاج کرلیں ، مظاہرے کرلیں ، اسمبلیوں سے واک آءوٹ کرلیں ، بیان بازیاں کرلیں ، غرض کہ جو مرضی کریں کسی طرح بھی کرپشن کے سلسلے میں چھوٹ نہیں ملے گی، سب کو حساب دینا ہوگا، کوئی این اراو نہیں لے سکتا ، پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ سب کو معلوم ہے کہ میں کرپشن کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کرتا ، یہ بات بالکل واضح ہے اور ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ پہلے دن سے عمران خان کاکرپشن کیخلاف یک نکاتی ایجنڈا ہے اور ان کے اس حوالے سے کبھی بھی قدم نہیں ڈگمگائے کہ کہیں ان کے منہ سے ایسا بیان آیا ہو یا کوئی ایسی ملاقات کی ہو جس سے یہ واضح ہوتا ہو کہ کرپشن کرنے والوں کو کچھ رعایت مل جائے گی ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بیرونی دنیا سے چاہے وہ سعودی عرب ہو یا ترکی کسی بھی سربراہ نے نواز شریف کیلئے این آراو کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ۔ یہ بات بھی درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی شخصیت کا یہ خاصہ ہے کہ جو شخص بھی ان سے ایک دفعہ ملاقات کرلے وہ ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے ایک تو وہ ویسے ہی کرکٹ کے دنیا کے ہیرو رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے شہرت بھی انہیں بے مثال دی جس کی واضح مثال گزشتہ دنوں امیر قطر کے پاکستان کے دورہ کے موقع پر سامنے آئی جب انہوں نے عمرا ن خان سے کرکٹ کا بیٹ کپتان کے دستخطوں سے وصول کیا ، پھر اللہ تعالیٰ عمران خان کو یہ اہلیت بھی دی ہے کہ جب وہ کسی بھی سربراہ سے بات کرتے ہیں تو ان کی باڈی لینگویج واضح طورپر بتاتی ہے کہ وہ کسی بھی کنفیوژ نہیں ہیں اور وہ جو بات کرتے ہیں ٹھوک بجا کر کرتے ہیں ۔ شاید اسی وجہ سے آج تک کسی باہر کے لیڈر نے کرپشن میں گرفتار ہوئے بڑے بڑے مگر مچھوں کے حوالے سے کوئی سفارش نہیں کی ۔ کیونکہ کرپشن اور خصوصی طورپر پانامہ کا معاملہ صرف پاکستان تک ہی نہیں پوری دنیا تک پھیلا ہوا ہے اور ہر شخص کرپشن کیخلاف آواز اٹھاتا دکھائی دیتا ہے جس طرح کے گزشتہ روز ازبکستان کے سابق رہنما کی بیٹی نے ریاست کو ایک ارب ڈالر واپس کردئیے، ہونا تو یہ چاہیے ہمارے بھی جو لوگ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوئے ہیں وہ ایک ٹائم فریم کے تحت تمام رقوم ریاست کو واپس دے کر سرخرو ہو جائیں کیونکہ قید وبند کا حاصل وصول اس وقت ہی ہوگا جب ان سے کرپشن کی مد میں لوٹی ہوئی رقم واپس لے لی جائے گی جبکہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ماضی کو چھوڑیں حساب کتاب بند کریں اور آگے بڑھیں لیکن وزیراعظم عمران خان اس بات پر قطعی طورپر رضا مند نہیں انہوں نے تو گزشتہ دس سال کے دوران کی گئی کرپشن کے حوالے سے کرپشن کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنا دیا ہے اور آنے والے وقتوں میں مزید بڑے بڑے لوگ قوم سلاخوں کے پیچھے دیکھے گی، ہم بھی حکومت کے اس اقدام کی سوفیصد حمایت کرتے ہیں کہ وہ کسی صورت بھی کرپشن کرنے والے شخص کو بالکل معاف نہیں کریں ، بس کرنا یہ چاہیے کہ کرپشن کی مد میں لوٹی ہوئی دولت ان سے ہر صورت برآمد کی جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہ میں کارکردگی سے جواب دینا ہے،معاشی سمت کا تعین کر دیا ہے، بحران سے نکل رہے ہیں ، اراکین پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں ;200;گاہی مہم چلائیں ، سب کو معلوم ہے میں کرپشن کیسز پر سمجھوتہ نہیں کرونگا ۔ اراکین پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں ;200;گاہی مہم چلائیں ، بجٹ منظوری قانونی تقاضہ ہے، تمام اراکین اپنی حاضری یقینی بنائیں ۔ اپوزیشن اے پی سی کرے یا تحریک چلائے، این ;200;ر او نہیں ملے گا ۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے لیے ترقیاتی فنڈ میں اضافہ کیا ہے جب کہ پاک فوج نے فاٹا اور بلوچستان کے لیے اپنی تنخواہوں کا اضافہ نہیں لیا ۔

گیس کی قیمتوں میں اضافہ

پہلے ہی عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے، ڈالر کی اڑان بھی ابھی تک قابو میں نہیں آسکی، رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب حکومت نے گھریلو صارفین کیلئے یکم جولائی سے گیس کی قیمتوں میں گھریلوصارفین کے لئے190فیصد اوردیگرتمام کیٹگریزکے لئے31فیصداضافے کی منظوری دید ی گئی ہے ۔ کمرشل صارفین کیلئے گیس 31فیصد، ماہانہ50 یونٹ والے گھریلوصارفین کےلئے گیس 25 فیصد، 100 یونٹ والے گھریلو صارفین کےلئے 50 فیصد، 200یونٹ والے گھریلو صارفین کےلئے 75فیصد، 300 یونٹ والے گھریلو صارفین کےلئے گیس کی قیمت 100 فیصد، 400 یونٹ والے گھریلو صارفین کےلئے 150 فیصد اور400 یونٹ سے زائد والے گھریلو صارفین کےلئے گیس کی قیمت 200 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اوگرا نے مالی سال 20-2019 کےلئے گیس مہنگی کرنے کا فیصلہ دیا تھا ۔ تجویز کردہ اضافے کے مطابق پہلے سلیب کے صارفین کا ماہانہ بل 285 روپے سے بڑھ کر 422 روپے ہو جائے گا ۔ دوسرے سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 572روپے سے بڑھ کر1,219روپے ہو جائے گا ۔ تیسرے سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 4,009 روپے ہو جائیگا ۔ چوتھے سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 7,995 روپے ہو جائیگا ۔ پانچویں سلیب کے گیس صارفین کا ماہانہ بل 13,508 روپے سے بڑھ کر14,373 روپے ہو جائے گا ۔

قومی اسمبلی میں ایسکے نیازی کو صحافتی خدمات پر خراج تحسین

یوں تو شعبہ صحافت میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں وہ ایک باعمل اور مستند صحافی ہیں ، ان کی خدمات کو قومی اسمبلی میں بھی باقاعدہ طورپر تسلیم کیا گیا اور انہیں صحافتی میدان کا مرد مجاہد قرار دیا گیا ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما وحید عالم خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس کے نیازی کی شعبہ صحافت کیلئے خدمات قابل ستائش ہیں ۔ سردار خان نیازی سچے ،کھرے اور حق سچ کی بات کرنے والے صحافی ہیں ۔ قومی اسمبلی میں انکی خدمات کے اعتراف پر اراکین پارلیمنٹ نے ستائش کی ۔ رکن اسمبلی صداقت علی عباسی نے کہا کہ ان کا میڈیا گروپ حقائق پر مبنی خبریں دیتا ہے ۔ سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ ایس کے نیازی نے حق اور سچ کی صحافت کی ۔ ادھر روز نیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہافغان حکومت چاہتی ہے کہ ان کو اعتما د میں لے کر بات کی جائے،ہماری حکمت یار کیساتھ ملاقات میں تصاویر واشنگٹن پوسٹ میں بھی شاءع ہوئیں ، افغانستان میں شفاف انتخابات ہوئے تو حکمت یار آئندہ صدر بن سکتے ہیں ،کل صدر عارف علوی سے ملاقات ہوئی ،انہوں نے احادیث اور قرآن کا حوالہ دیا،قرآن پاک میں سود کے حوالے سے واضح طور پر موجود ہے،ایمنسٹی سکیم سے ٹیکس نیٹ بڑھنے کا امکان ہے،توقع ہے ایمنسٹی سکیم کی ڈیڈلائن بڑھا دی جائے گی ۔ انہی صحافتی خدمات کے پیش نظر ایس کے نیازی کو سی پی این اے اسلام آباد کانائب صدر بھی منتخب کیاگیا اور یہاں پر بھی معروف صحافی اور سی پی این اے کے صدرعارف نظامی نے ایس کے نیازی کانام بطورنائب صدر پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایس کے نیازی جیسافعال صحافی شایدہی کوئی اور ہو، ہ میں ان کی صلاحیتوں اورخدمات سے فائدہ اٹھاناچاہیے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative