Home » کالم » اداریہ » وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،یواین سیکریٹری جنرل کا حوصلہ افزاء جواب

وزیر خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،یواین سیکریٹری جنرل کا حوصلہ افزاء جواب

مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال سے دنیا کو باخبر رکھنے کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے رابطہ کیا اور انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویش ناک صورت حال سے آگاہ کیا ۔ یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس ان دنوں پیرس میں جی سیون ممالک کے ایک اہم اجلاس میں شریک ہیں جہاں امریکی صدر ٹرمپ بھی موجود ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس موقع پر کشمیر ایشو بھی زیر بحث ;200;ئے گا ۔ جی سیون کانفرنس کے اہم موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود کا یواین سیکرٹری جنرل سے رابطہ کر کے کشمیر بارے تشویش کا اظہار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتا اور وہ ان کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی مدد ہر حال میں جاری رکھے گا ۔ خوش ;200;ئند بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہا کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس تشویش ناک صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا کیونکہ جس طرح انہوں نے اپنے بیان میں قانونی اور سیاسی طور پر درست موقف پیش کیا تھا، اس پر نہ صرف پاکستان بلکہ نہتے کشمیریوں کو بھی حوصلہ ملا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ دوران گفتگو انتونیو گوتیرس کو بتایا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بروقت تھا اور معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اسے طلب کیا گیا تھا، اس اجلاس کی بند کمرہ گفتگو سے ہ میں یہ پیغام ملا کہ سب اراکین معاملے کا پرامن حل چاہتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم سے پرامن طریقے سے ;200;گے بڑھنے کا تقاضہ کیا جارہا لیکن دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں 20روز سے دن اور رات کرفیو نافذ ہے، یہی نہیں بلکہ نماز جمعہ میں رکاوٹ ڈالی گئی جبکہ اس دوران جو لوگ گھروں سے باہر نکلے ان پر پیلٹ گنز کا حملہ، شیلنگ اور تشدد کیا گیا ۔ ذراءع مواصلات پر پابندی ہے، بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں ، مقبوضہ وادی سے متعلق بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جو رپورٹس سامنے ;200;رہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں ۔ انسانی جان بچانے والی ادویات اور خوراک کی شدید قلت ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیری کے نہتے لوگوں کو بھارتی جبر سے بچانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیر تنازع کے تین فریق ہیں ، جس میں سے دو فریق 5 اگست کے اقدام پر اپنا واضح موقف پیش کرچکے ہیں ، پاکستان مکمل طور پر اس اقدام کو مسترد کرچکا ہے، اور اس قدم کو غیر;200;ئینی، غیرقانونی، سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں سے متصادم اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دے چکا ہے جبکہ کشمیری بھی اس اقدام کو مسترد کرچکے ہیں ۔ تیسرا فریق ;200;ج تقسیم ہے، جس کا عملی مظاہرہ سری نگر ایئرپورٹ پر دیکھ لیا کہ جس میں بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے اہم سربراہ راہول گاندھی کو 11 ساتھیوں سمیت سری نگر ایئرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا ۔ بھارت فخریہ انداز میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے لیکن ;200;ج دنیا نے دیکھا کہ اس سب سے بڑی جمہوریت نے کس طرح فسطائیت کا مظاہرہ کیا‘‘ ۔ مودی سرکار کی اس سے بڑی فسطائیت اور کیا ہو سکتی ہے کہ جب راہول گاندھی سری نگر جانے اور کشمیری قیادت سے ملنے کی خواہش کرتے تو ایئرپورٹ پر انہیں گرفتار کر کے اگلے طیارے میں انہیں واپس دہلی منتقل کردیا جاتا ہے جبکہ جب ان کی جماعت کے ترجمان احتجاجاً پریس کانفرنس کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ وزیرخارجہ نے ایک بار پھر دنیا کو باور کرایا کہ ہ میں تاکید کی جاتی کہ بھارت کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کیا جائے، مگر جب مودی اپنوں کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیار نہیں تو ہمارے ساتھ کہاں بیٹھیں گے، ;200;ج بھارتی حکومت کے عزائم بالکل واضح ہوگئے ہیں ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود کا یو این سیکریٹری جنرل کو فون کر کے اپنی تشویش سے ;200;گاہ کرنا لائق تحسین ہے ۔ قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کو بھی کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے ایک مراسلے کے ذریعے آگاہ کر چکے ہیں ۔ وہ دن رات ایک کر کے دنیا کے طاقتور سفارتی حلقوں کو معاملے کی نزاکت سے بروقت ;200;گاہی دے رہے ہیں ۔ حالات کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ مودی کی فسطائیت کو نام نہاد جمہوری چہرے کے پردے کے پیچھے نہ چھپنے دیا جائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کو ہضم کرنے کی کوششیں مودی حکومت کو مہنگی پڑ گئیں ہیں ۔ صرف مقبوضہ کشمیر یا پاکستان ہی نہیں دنیا کے اہم مراکز میں بھارت کے اس غاصبانہ اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ اگلے روز جب بھارتی وزیراعظم نریندرمودی جی سیون سمٹ کے سلسلے میں پیرس پہنچے تو پورے یورپ سے آئے ہوئے کشمیریوں ، پاکستانیوں اور سکھوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کو مستقل حیثیت دینے کے ناجائز اقدام کے خلاف بھرپور احتجاج کیا ۔ یقینی طور اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اسکے ذیلی ادارے دیکھ رہے ہیں کہ اس اقدام سے نہ صرف کشمیر میں کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے بلکہ حالات کی سنگینی دو جوہری طاقتوں کے درمیان خوفناک جنگ کا باعث بن سکتی ہے ۔ اس امر کی نشاندہی جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس پلیٹ فارم، اسٹریٹ فور کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں بھی کی گئی ہے ۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور مقبوضہ جموں اور کشمیر کی حالیہ صورت حال جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے لیے چنگاری فراہم کرسکتی ہے ۔ رپورٹ میں کشمیر تنازع کو اندرونی اموریا باہمی مسئلے کے برعکس عالمی امن اور سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے، امید ہے اقوام متحدہ جس کے فراءض میں ایسے تنازعات کو حل کرانا شامل ہے وہ اپنا کردار ادا کر کے خطے کے اربوں انسانوں کے سامنے سرخرو ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative