وطن دشمن عناصر کی افغانستان میں پذیرائی

41

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) 2014 میں قائم کی گئی تھی ۔ تب سے وہ پاکستان مخالف اور پاک فوج کیخلاف سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہے ۔ حتیٰ کہ انہوں نے نئے اضلاع میں ریلیاں بھی نکالیں جن کے شرکاء پاک فوج کیخلاف نعرہ بازی کرتے رہے اور اعلان کرتے رہے کہ وہ پاک فوج سے بدلہ لینگے ۔ پشتون تحفظ موومنٹ والے سب نوجوان لوگ ہیں اور جو حالات و محرومیاں انہوں نے دیکھیں اور دیکھ رہے ہیں وہ اس کا اظہار کر رہے ہیں چلیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگر اپنے حالات غیروں اور دشمنوں کے آگے بیان کرنے سے ان کمزوریوں سے دنیا فائدہ اٹھائے گی اور ان محرومیوں کو حل کرنے کی بجائے اسے مزید پھیلائے گی بھی ۔ اگر کوئی شخص ملک کے اندر اس طرح کی تحریک چلائے، جو ملک اور اس کے اداروں کے خلاف بیانات پر مبنی ہو، تو اس کو کسی طور پر نہ سنا جائے گا اور نہ ہی برداشت کیا جائے گا ۔ ہ میں یہ دیکھنا ہے کہ منظور پشتین اور پی ٹی ایم کی ڈور کون ہلا رہا ہے;238; اس سارے عمل سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پشتون تحفظ موومنٹ کا ایجنڈا ملک دشمنی پر مبنی ہے ۔ مخالف قبائل یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لئے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ ملک کو لسانیت نہیں پاکستانیت کی ضرورت ہے ۔ پختونوں کے حقوق کے نام پر پاک فوج کے خلاف نعرے لگانےوالے بھارتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ۔ پاک فوج نے قبائلیوں اور پختونوں کو دہشت گردی سے نجات دلانے کےلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں ۔ بھارت پاک فوج کی کردار کشی کے لئے پیسہ تقسیم کر رہا ہے ۔ اس سے قبل دشمن اپنی چالوں میں ناکام ہوا اور اب پھر سے ویسی ہی چالوں کےساتھ اب پی ٹی ایم کے ذریعے پشتون بیلٹ کو تباہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ پی ٹی ایم کی اصطلاح سے ہی پاکستان دشمنی اور شرانگیزی کی بو آتی ہے ۔ جن لوگوں نے یہ تنظیم بنائی ہے وہ نہ پاکستان اور نہ افغان مہاجرین کے دوست ہیں بلکہ وہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں ۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا نام اختیار کرنا دنیا کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے کہ پاکستان میں پشتونوں کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں ۔ حالانکہ پاکستان گزشتہ 40، 45 سال سے نصف کروڑ کے لگ بھگ مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ۔ اگرچہ ان کا سٹیٹس مہاجرین کا ہے لیکن انہیں پاکستان کے دوسرے شہریوں کے برابر سہولتیں اور مراعات میسر ہیں ۔ ان کے بچے سرکاری و غیر سرکاری درسگاہوں میں بغیر فیسوں کے پڑھ رہے ہیں ۔ ان میں جو قابل ہیں وہ ڈاکٹر اور انجینئر تک بن رہے ہیں ان کے مریضوں کا سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہو رہا ہے ۔ انکے کاروبار کرنے پر بھی کوئی پابندی نہیں ۔ اگرچہ ان مہاجرین کی وجہ سے قومی معیشت شدید دباوَ میں ہے لیکن پاکستان نے انہیں کبھی زبردستی افغانستان دھکیلنے کی کوشش نہیں کی ۔ ہمارے دشمن تو چاہتے ہیں اور اسی کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج کے خلاف کیا جائے بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراوَ کی کیفیت پیدا کی جائے ۔ افغانستان چاہتا ہے کہ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے ۔ تاکہ دہشت گردوں کو با آسانی پاکستان میں داخل کیا جا سکے ۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے ۔ افغانیوں کی بھیس میں دہشت گردی کی جائے ۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائے تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کےلئے نقل و حرکت میں آسانی ہو ۔ دشمن کا مقصد ہے کہ پاک فوج کا مورال گرانے کےلئے ان کےخلاف مختلف طرح کی قانونی کاروائیاں کی جائیں ۔ اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے ۔ پختونوں کے مسائل کو پاکستان اور پاک فوج کے خلاف استعمال نہ کیا جائے ۔ یہ ہمارے دشمنوں کی سازش ہے ۔ ہندوستان ہمارے درمیان پانچویں نسل کی جنگ لڑنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ خدارا ان کو سمجھیں ۔ پی ٹی ایم اور افغانستان کے گٹھ جوڑکا ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں ۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان روابط کی خبریں بھی ملتی رہتی ہیں ۔ افغان حکومت سے تعلق کا مطلب بھارت سے روابط ہیں ۔ کیونکہ موجودہ افغان حکومت بھارت کی بہت لاڈلی اور فرمانبردار حکومت ہے ۔ بھارت کبھی بھی پاک افغان تعلقات میں بہتری نہیں چاہے گا اسی لئے وہ سرحدی علاقوں میں وطن عزیز کی سالمیت کے خلاف چلنے والی بعض تحریکوں کو کھلے عام فنڈنگ کرتا رہتا ہے ۔ گزشتہ روز پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ اور علی وزیرنے افغان صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی ۔ یہ رہنما طورخم سرحد سے افغان نیشنل آرمی کے ہیلی کاپٹر میں سوار ہو کر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کیلئے پہنچے اور وہاں ان کا شاندار استقبال ہوا ۔ جس سے ان اطلاعات کو مزید تقویت ملی کہ اس گروپ جو کہ ریاست پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے اس میں اور افغان حکومت کے عناصر کے مابین ایک گٹھ جوڑ موجود ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے دونوں رہنماؤں کو افغان صدر اشرف غنی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے ایک مرتبہ جانے کی اجازت دی تھی کیونکہ ایف آئی اے نے دونوں کے نام ای سی ایل میں ہونیکی وجہ سے انہیں کابل جانے سے روک دیا تھا ۔ کابل پہنچ کر محسن داوڑ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ اس بات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اشرف غنی نے تقریب میں ہماری شرکت کیلئے حلف برداری میں کچھ تاخیر کی ۔ دوسرا کابل میں ہمارا بہت اچھا استقبال کیا گیا ۔ میں پرامن افغانستان اور خطے کا خواہشمند ہوں ۔ دونوں رہنماؤں نے کابل پہنچنے سے پہلے ننگرہار صوبے میں کچھ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ ان دو اصحاب کی وجہ سے صدارتی حلف برداری کی تقریب تاخیر سے شروع ہوئی اور انہیں سرکاری پروٹو کول دیا گیا ۔