Site icon Daily Pakistan

وطن عزیز پر بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے

بھارت دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ہر دوسرے دن آپ کامیاب آپریشنز کی خبریں سنتے ہیں، ہماری مسلح افواج نے دہشت گردوں کے خلاف بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر آپریشن میں 22خوارج جہنم واصل کئے۔ علاقے میں مزید خارجیوں کے خاتمے کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے،ہلاک دہشت گرد بھارت کے حمایت یافتہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے بڑا دہشت گرد منصوبہ ناکام ہوا۔انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ”عزمِ استحکام” کے تحت کیا گیا۔ پاکستان سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔اسی طرح خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر 21 نومبر کو بنوں ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں بھارت نواز فتنہ الخوارج کے آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ ہلاک شدہ دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ بھارتی سرپرستی یافتہ یہ خوارج سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ یہ آپریشن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مضبوط تعاون اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی مؤثر کارروائیوں کا ثبوت ہے، جن کا مقصد خوارج کی نقل و حرکت کو محدود کرنا، ان کے سہولت کار نیٹ ورکس کو توڑنا اور دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت ختم کرنا ہے۔ ان کارروائیوں سے قابلِ پیمائش کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، اور امن و استحکام کے لیے کوششیں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارتی فوجی افسران، افغان باشندے پاکستان میں دہشتگردی ملوث ہیں۔ پا کستان میں کسی کو بھی پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ،جہاد کا اعلان صرف ریاست کرے گی۔ بھارتی فوجی افسران کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پیش کیے۔ امریکا نے کالعدم مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قراردیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشتگرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرست میں بھی شامل تھے۔ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہاء پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے۔بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران کے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے مستند شواہد منظر عام پرآچکے ہیں، پاکستان بھارتی دہشتگردی کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے متعدد مرتبہ پیش کر چکا ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، امریکی انخلا ء کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشتگردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحے کے دہشتگردانہ کارروائیوں میں استعمال پرتشویش کا اظہار کر چکا ہے۔پہلگام فالس فلیگ کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھارتی سہولت کاری کے مستند شواہد سامنے آگئے ہیں۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی فوج اور ایجنسیاں پوری طرح متحرک ہیں، جہلم سے گرفتار دہشتگرد مجید کے موبائل فون اور ڈرون فرانزک کے بعد ناقابل تردید شواہد سامنے آئے۔ دہشتگرد مجید بھارتی فوج کے آفیسرز اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا، دہشتگرد آئی ای ڈیز نصب کرنے کے بدلے بھارتی فوج سے پیسہ وصول کر رہا تھا۔دہشتگرد مجید اور بھارتی آرمی کے افسران کے درمیان واٹس ایپ گفتگو سے ہوشربا انکشافات بھی سامنے آئے جس میں چار بھارتی آرمی افسران کی نشاندہی ہوتی ہے۔ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما، صوبیدار سکھوندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے۔ اس گفتگو میں بھارتی ہینڈلر دہشتگرد مجید سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی لاشیں چاہئیں۔بھارتی ہینڈلرز دہشتگرد مجید کو بم بنانے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔دہشتگرد مجید سے بات کرتے ہوئے بھارتی میجر سندیپ نے کہا کہ ”لاہور سے لیکر بلوچستان تک اس کا نیٹ ورک موجود ہے، ہم نہ ہی بچے ہیں اور نہ ہی پاکستان میں یہ ہماری پہلی دہشتگردی کی کارروائی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق دہشتگرد مجید اور بھارتی فوجی ہینڈلرز کے درمیان یہ آڈیو گفتگو ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلاتا ہے، بھارت دہشتگردی پھیلانے کیلئے دہشت گردوں کو بھاری فنڈنگ میں بھی فراہم کرتا ہے،بلوچستان اور دیگر صوبوں میں دہشتگردوں کو کارروائیوں کے لیے تربیت تک بھارت ایجنسیاں دیتی ہیں، ان شواہد کے بعد یہ ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا نام فیٹف میں شامل کیا جائے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘را ‘نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اپنی پراکسیز کو سرگرم کر دیا ہے۔ بھارتی را نے گوادر،کوئٹہ اور خضدار میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا۔ را نے بی ایل اے،فتنہ الخوارج اورغیرقانونی افغانوں کو ان شہروں میں دہشت گردی کی ہدایات کیں۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے را نے کارروائیوں کے لیے دہشت گردوں کو افغانستان سے بھی متعلقہ علاقوں میں بھیجوا دیا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق چند خود کش بمباروں کو متعلقہ علاقوں کی ریکی کرائی گئی، خودکش بمباردہشت گردی کی کارروائی میں گاڑی یا موٹرسائیکل کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کے مذموم منصوبے ناکام بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ بھارت کی بلوچستان میں دہشت گردی کے واضح ثبوت پہلے ہی منظر عام پر آچکے ہیں، بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کروا کر پاکستان میں بد امنی پھیلانا چاہتا ہے۔

Exit mobile version