Home » کالم » وےڈ ےو اسکےنڈلز ،درست سمت پےش رفت

وےڈ ےو اسکےنڈلز ،درست سمت پےش رفت

وےڈےو لےکس نے ملکی سےاست مےں بھونچال پےدا کر دےاہے ۔ وےڈ ےو کے بارے مےں مرےم نواز نے جو پرےس کانفرنس کی اس کی تفصےل ٹےلی وےژنوں اور اخبارات مےں چھپ چکی ہے اور اس پر ہنوز تبصرہ آرائی ہو رہی ہے ۔ نواز شرےف کو جج محمد ارشد نے تقرےباً آٹھ ماہ پہلے ساڑھے سات سال قےد اور بھاری جرمانہ کی سزا سنائی تھی ۔ مرےم نواز کے مطابق اس کے کچھ عرصہ بعد جج نے مبےنہ طور پر دےرےنہ شناسا ناصر بٹ کو گھر بلا کر اپنے فےصلے پر دکھ اور پچھتاوے کا اظہار کےا تھا ۔ وےڈےو کے بارے مےں کانفرنس مےں ن لےگ کے منتخب صدر شہباز شرےف ،خواجہ آصف ،پروےز رشےد اور پارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما بھی موجود تھے لےکن خاموش تھے ۔ پارٹی کے صدر شہباز شرےف کی خاص انداز مےں خاموشی اور چہرے کی ناگوار کےفےت ان کی مصلحت پسندی کے راستے پر سےاست کو ترجےح دےنے کی غمازی کر رہی تھی جبکہ مرےم نواز نے جارحانہ سےاست کا راستہ اختےار کرنا مقصد قرار دےا ہے ۔ احتساب عدالت نمبر 2کے جج محمد بشےر نے مرےم نواز کو جعلی ٹرسٹ ڈےڈ کے بارے مےں 19جولائی کو عدالت طلب کےا ہے ۔ عدالت کی طلبی پر مرےم نواز نے طےش مےں آ کر کہا کہ اپنے رسک پر مجھے بلاءو ،تم مےری باتےں نہ سن سکو گے ،نہ سہہ سکو گے ،سر پےٹتے رہ جاءو گے ۔ ذراءع کے مطابق مرےم نواز نے فوری طور پر ن لےگ کے اہم رہنماءوں کا اجلاس طلب کےا اور بتاےا کہ وہ عدالت کا بائےکاٹ کرےں گی اور اگر گئی تو باقاعدہ بڑے لشکر کے ساتھ جائےں گی ۔ اطلاعات کے مطابق ن لےگ کے اکثر رہنماءوں نے اس طرز عمل کی مخالفت کی اور سمجھاےا کہ اس سے حالات بہت خراب ہو سکتے ہےں اور جمہورےت بھی ختم ہو سکتی ہے ۔ اس پر مرےم نواز غصے مےں آ گئےں اور کہا کہ آپ خاموش رہےں مےں وہ کچھ کر رہی ہوں جس کا مجھے نواز شرےف نے حکم دےا ہے ۔ ےہ کچھ کر کے رہوں گی ۔ اجلاس مےں تمام لوگ چپ ہو گئے ۔ اس مےں کوئی دورائے نہےں کہ مبےنہ وےڈ ےو لےک جس کی اگلی اقساط بھی آنے کا عندےہ دےا گےا ہے ےہ ہتھےار ماضی مےں بھی اعلیٰ شخصےات کی کردار کشی کےلئے استعمال ہوتے رہے ہےں اور آج کے جدےد دور مےں بھی ٹوٹے جوڑ کر فلمےں بنانا کوئی مشکل کام نہےں ۔ ماضی مےں بھی ن لےگ کی طرف سے عدلےہ پر دباءو ڈالا گےا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ بھی ہوا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس وےڈ ےو کا نواز شرےف کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے ےا نہےں لےکن نےب کے چےئر مےن کی مبےنہ وےڈےو کے بعد احتساب عدالت کے جج کی وےڈےو لےک ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ سوال ےہ ہے کہ احتساب عدالت کے جج کی وےڈےو سے حکومت کےوں پرےشان ہے ۔ مرےم نواز نے خان صا حب پر تو کوئی الزام نہےں لگاےا کہ انہوں نے جج پر دباءو ڈالا کہ نوازشرےف کے خلاف فےصلہ دےں ۔ پوری حکومتی مشےنری اچانک حرکت مےں دکھائی دی ۔ پرےس کانفرنس اور جواب در جواب مےں حکومت کی طرف سے کہا گےا کہ وےڈےو جھوٹی ہے ۔ حکومت نے جوش جذبات مےں اس کا فرانزک آ ڈٹ کرانے کا اعلان کےا اور چند گھنٹوں بعد ہی ’’ےو ٹرن‘‘ لے کر معاملہ عدلےہ پر ڈال دےا ۔ وےڈ ےو سامنے لانے والی مرےم نواز تو کہہ رہی ہےں کہ حکومت پہلے ہی وےڈ ےو فرانزک کرا چکی ہے جس کی رپورٹ کے مطابق وےڈ ےو بالکل درست ہے ۔ بعض شاءع شدہ اندرونی حقائق کے مطابق مرےم نواز اور نواز شرےف کے کار خاص ناصر بٹ نے جےل مےں دو بار نواز شرےف سے ملاقات کر کے اس منصوبے کے بارے مےں نواز شرےف سے ہداےات لےکر ےہ وےڈےو اور کچھ اضافی وےڈےوز تےار کی گئےں ۔ پرےس کانفرنس سے دو دن پہلے ناصر بٹ کو ملک سے باہر بھےج دےا گےا ۔ وہ برطانوی شہری ہے اور برطانےہ مےں نواز شرےف کی املاک اور کاروبار سنبھالتا ہے ۔ اس کے خلاف پاکستان مےں قتل وغےرہ کے 14مقدمات بتائے گئے ہےں ۔ لندن مےں وہ اےک کےس مےں پولےس کی تحوےل مےں رہ چکا ہے ۔ وفاقی وزےر قانون و انصاف فروغ نسےم اور وزےر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر خان نے اےک مےڈےا کانفرنس سے خطاب مےں کہا کہ جج ارشد ملک نے اپنے بےان خلفی مےں کہا ہے کہ 16سال پرانی وےڈےو دکھا کر کہا گےا کہ وارن کرتے ہےں کہ تعاون کرےں ۔ جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمےز ہو گئی ۔ مجھے جاتی عمرہ بھی لے جاےا گےا اور نواز شرےف سے ملاقات کرائی گئی ۔ نواز شرےف نے کہا کہ جو ےہ لوگ کہہ رہے ہےں اس پر تعاون کرےں مالا مال کر دوں گا ۔ جج کا کہنا ہے کہ ناصر بٹ اور اےک دےگر شخص مسلسل رابطے مےں رہے ۔ فےملی کو بھی بتاےاشدےد دباءو مےں ہوں ۔ دھمکےاں دی جا رہی ہےں ۔ فےصلے کے بعد بھی مجھے دھمکےاں دی گئےں ۔ عمرے کےلئے گےا تو حسےن نواز سے ملاقات کرائی گئی ۔ حسےن نواز نے کہا ےہاں ےا کسی اور ملک مےں سےٹ کر دےں گے ۔ حسےن نواز نے پہلے 25کروڑ اور پھر 50کروڑ کی پےشکش کی ۔ حسےن نواز نے کہا ےہاں ےا کسی اور ملک رہنا چاہےں ،دستاوےز بنا دےں گے ۔ بےان خلفی مےں جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ اظہر بٹ کی خفےہ ملاقات کی رےکارڈنگ کی جاتی رہےں ۔ کہا جاتا تھا کہ چار پانچ قتل کر چکا ہوں مزےد بھی کر سکتا ہوں ۔ بچوں سے متعلق بھی دھمکےاں دی گئےں ۔ پرےس کانفرنس کے چھ روز بعد اسلام آباد ہائےکورٹ کے قائم مقام چےف جسٹس عامر فاروق نے وزارت قانون و انصاف کو اےک مراسلہ بھجواےا جس مےں جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹا کر اس کی خدمات وزارت کے سپرد کر دےں ۔ ہائےکورٹ نے ےہ فےصلہ درست اور حالات کے تناظر مےں بروقت کےا ۔ سپرےم کورٹ کا اےک تےن رکنی بنچ 16جولائی کو اس اس کےس کی سماعت شروع کر رہا ہے ۔ جہاں تک کسی فےصلے پر اثر انداز ہونے کےلئے رشوت کی پےشکش ےا دباءو کا معاملہ ہے تو اکثر جج ان مراحل سے گزرتے ہےں ےہ ان کی زندگی کا معمول ہے ۔ اسی طرح وکلاء کو بھی با اثر ملزمان کی طرف سے دھمکےاں ملتی ہےں لےکن وہ اس کی پرواہ نہےں کرتے لےکن اگر اےک جج متنازعہ ہو جائے تو اس سے ساری عدلےہ کی ساکھ داءو پر لگ جاتی ہے ۔ وےڈےو نشر ہونے کے آغاز مےں جج ارشد ملک نے صرف ےہ تسلےم کےا تھا کہ وہ اس وےڈےو کے مرکزی کردار ناصر بٹ سے ملتا رہا ہے لےکن جب مےڈےا پر طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے تو موصوف نے اےک طوےل بےان مےں اےک نےا پنڈورا باکس کھول دےاتاہم جج ارشد ملک نے اپنے بےان خلفی مےں جو الزامات لگائے ہےں وہ تحقےقات کے متقاضی ضرور ہےں لےکن ان کے بطور جج فراءض کے حوالے سے ان پر بھی کچھ سوالات اٹھتے ہےں کہ آےا جج صاحب ججوں کے ضابطہ اخلاق سے لاعلم تھے;238; وہ نہےں جانتے تھے کہ اےسی باتوں کے منظر عام پر آنے سے ان کی عدالتی زندگی اور پوری عدلےہ پر کےا ناگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہےں ۔ جج ارشد ملک نے اےک کےس کے ملزم نواز شرےف سے جاتی امراء مےں جا کر کےوں ملاقات کی;238; اےک مقدمہ کے ملزم سے جج کا ملاقات کرنا بجائے خود جرم نہےں ۔ انہوں نے سعودی عرب جا کر اےک مقدمہ کے سزا ےافتہ مجرم کے بےٹے سے ملاقات کےوں کی;238;جج اتنا عرصہ خاموش اور پر سکون کےوں رہے اور اطمےنان کے ساتھ عدالتی امور انجام دےتے رہے ۔ جج ارشد ملک نے اس بارے مےں اسلام آباد ہائےکورٹ کے چےف جسٹس سے شکاےت کےوں نہ کی اور سپرےم کورٹ کے مقرر کردہ نگران جج کو رشوت اور دھمکےوں کے بارے مےں آگاہ کےوں نہ کےا ۔ اسلام آباد ہائےکورٹ کے قائم مقام چےف جسٹس کی طرف سے لئے گئے اقدام کے بعد رد عمل مےں ن لےگ کی نائب صدر مرےم نواز کا کہنا ہے کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلےہ نے حقائق کو تسلےم کر لےا ہے اور ےہ کہ نواز شرےف کے خلاف فےصلہ واپس لےا جائے ۔ شہباز شرےف نے بھی مطالبہ کےا ہے کہ جج کے تحرےری بےان سے ثابت ہو گےا ہے کہ نواز شرےف کو سزا دےنے کا فےصلہ غلط تھا ۔ اس لئے نواز شرےف کو فوری طور پر جےل سے رہا کےا جائے حالانکہ کسی عدالت کے کسی بھی جج کا فےصلہ اس کا ذاتی نہےں ہوتا ۔ ےہ فےصلے ججوں کے نام سے دیے جاتے ہےں اور نہ کسی کی ذات اور کردار کے حوالے سے بلکہ انہےں قانون کے حوالے سے پرکھا جاتا ہے ۔ اگر ن لےگ کی قےادت کی ےہ خواہش ہے کہ اس پر مزےد کارروائی کی جائے تو اس کےلئے انہےں قانونی راستہ اختےار کرنا ہو گا ۔ فےصلے اےسے بےانات سے واپس نہےں ہوتے ۔ ملک کی عدالتی تارےخ مےں ہائی کورٹوں کے تےن جسٹس اخلاق احمد ، جسٹس شوکت علی اور جسٹس صدےقی بر طرف کئے گئے مگر ان کے سابق کئے گئے فےصلے تبدےل نہےں ہوئے بدستور برقرار اور موثر ہےں ان کے خلاف اگلی عدالت مےں اپےل کی جا سکتی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative