Home » کالم » ٹرمپ کاطالبان سے امن مذاکرات کی منسوخی کاغیرمناسب فیصلہ
adaria

ٹرمپ کاطالبان سے امن مذاکرات کی منسوخی کاغیرمناسب فیصلہ

امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ہونے جارہے تھے طالبان کے مطابق معاہدے کی تاریخ 23ستمبر طے تھی تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی خفیہ ملاقات کو بھی منسوخ کردیا ہے، طالبان نے کہا کہ زیادہ نقصان امریکہ کو ہی ہوگا ۔ ٹرمپ نے کہاکہ مذاکرات کے اہم مرحلے پر کابل میں حملہ کیا گیا جس میں ایک فوجی اور متعدد افراد ہلاک ہوگئے ۔ اگر طالبان فائربندی پر متفق نہیں ہوسکتے تو انہیں مذاکرات کا بھی کوئی حق نہیں ۔ آخر طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں ۔ طالبان نے کہاکہ مذاکرات پایہ تکمیل تک پہنچ چکے تھے اب بھی ہم مفاہمت کی پالیسی پر قائم ہیں ، یقین ہے کہ امریکہ دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائے گا ۔ جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو پیشکش کی ہے کہ وہ ہم سے جنگ نہیں مذاکرات کریں ۔ افغان حکومت اپنے اتحادیوں کی مخلص کوششوں کو سراہتا ہے ۔ اصل معنوں میں امن تب ہی ممکن ہے جب طالبان دہشت گردی روک کر حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں تب ہی امن آئے گا ۔ طالبان کو جنگ بندی کیلئے راضی ہو جانا چاہیے ۔ خطے میں قیام امن کیلئے ان مذاکرات کا کامیاب ہونا انتہائی اہمیت کا حامل تھا اب بین السطور ایسی کیا وجوہات تھیں جس کی بنا پر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔ بظاہر تو کابل کا حملہ دکھائی دیتا ہے تاہم ایک بات واضح ہے کہ فریقین کو صبر سے کام لینا چاہیے تھا اور ایسے موقع پر امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ سپر پاور ہونے کے ناطے اپنا دل بڑا رکھے اور طالبان کیلئے بھی ضروری تھا کہ وہ امن مذاکرات عمل کے دوران ایسا کوئی حتمی قدم نہ اٹھاتے جس کی وجہ سے حالات خراب ہوگئے ہیں ۔ فریقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی طرح بھی مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں ۔ چین نے بھی کہا ہے کہ خطے میں امن و امان کیلئے فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوں ۔ پاکستان کی بھی یہی کوشش رہی ہے اور ہے کہ مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے ۔ دنیا کے بڑے بڑے جتنے بھی مسائل رہے ہیں وہ آخر کار مذاکرات سے حل ہوئے ۔ چونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان کی مدد بھی طلب کی تھی اس حوالے سے پاکستان حتی الامکان کوشاں تھا کہ یہ سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں حل ہو جائے اور معاملات بہت حد تک حل ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے لیکن ایک حملے نے سارا مسئلہ تلپٹ کرکے رکھ دیا ۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ امریکہ اور افغانستان کی جتنی بھی اتحادی قوتیں ہیں وہ ان دونوں کو مذاکرات کی میز پر لائیں چونکہ طالبان نے کہہ دیا ہے کہ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں دہشت گردی بڑھے گی اور طالبان بھی افغانستان میں حملوں میں اضافہ کردیں گے ۔ ویسے بھی آمدہ دنوں میں موسم سرما کا آغاز ہونے جارہا ہے اور ایسے موسم میں افغانستان میں طالبان کے حملے تیز ہو جاتے ہیں ۔ افغانستان کی تاریخ واضح طورپر بتاتی ہے کہ افغانیوں نے آج تک کسی بھی حملہ آور کو قبول نہیں کیا ، ماضی قریب میں ہی دیکھ لیا جائے تو روس کیخلاف وہ عرصہ دراز سے نبردآزما رہے ہیں اور آخر کار روس کو ہی ہزیمت کی صورت میں واپس جانا پڑا ۔ اب امریکہ نے یہاں پر قدم براجماں کیے ہیں لیکن ٹرمپ بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی افواج کو کسی نہ کسی صورت یہاں سے نکال کر لے جائیں تو ایسے میں مسئلہ صرف صبرو تحمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ مذاکرات کے علاوہ کوئی بھی راستہ اپنایا گیا تو اس سے حالات مزید اور خراب ہوں گے اور خطہ بھی جنگ میں جھونک دیا جائے گا ۔ دونوں جانب کا جانی اور مالی نقصان بھی ہوگا ۔

مسئلہ کشمیر،چین کی جانب سے

اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت

چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزو ہیں ، سی پیک پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ وزیر اعظم سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، و زیر اعظم نے کہا چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین جزو ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے ;200;گاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 35 دن سے جاری کرفیو سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں جاری کرفیو اور دیگر پابندیاں فوری اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سی پیک پاکستانی معیشت کے استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے چینی صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ پاک چین تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی دوستی کا مظہر ہیں ۔ قومی ترقی کے مقاصد کے حصول کی جانب پاکستانی اقدامات قابل تحسین ہیں ۔ چینی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں یک طرفہ بھارتی اقدام کی مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک تاریخی تنازعہ ہے اور چین کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے، خطے کے فریقین کو باہمی عزت و برابری کی بنیاد پر تنازعات کا پرامن حل نکالنے کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی یک طرفہ اقدام سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے، مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جب کہ چین کا پاکستان کی علاقائی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے کیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ۔ ملاقات میں خطے کے امن و استحکام اور ترقی کیلئے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیر کامسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر ، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن انداز میں حل ہونا چاہیے، افغان طالبان سمیت فریقین افغانستان میں جلد امن و استحکام کو یقینی بنانے کےلئے افغانوں کے مابین مذاکرات کا آغاز کریں جبکہ پاکستان اور چین نے اتفاق کیا ہے کہ نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے منزل کے حصول کےلئے قریبی پاک چین کمیونٹی کے قیام میں پرعزم ہیں ۔ خطے میں تمام فریقوں کو مذاکرات، مساوات اور باہمی تعاون کے اصولوں کے مطابق اپنے تنازعات کو حل کرنا چاہیے ۔ چینی وزیر خارجہ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ۔ ان ملاقاتوں کے دوران فریقین میں دوطرفہ علاقائی، بین الاقوامی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ۔

بین الاقوامی برادری وادی

میں بھارتی مظالم کوروکے

مقبوضہ وادی میں کرفیو اور لاک ڈاءون کو 35 روز ہوچکے ہیں ، روز مرہ کی زندگی قطعی طورپر معطل ہے، مواصلات ، نیٹ اور دیگر سہولیات ناپید ہوچکی ہیں ، محرم الحرام میں بھی بھارت نے کشمیریوں کی مذہبی آزادی سلب کرلی ہے ۔ عزاداروں اور فورسز کے مابین جھڑپوں کے دوران چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، وادی میں باقاعدہ طورپر لاءوڈ اسپیکر سے دھمکیاں اور شہریوں کو گھر میں پابند رہنے کی ہدایات دی جارہی ہیں ۔ محرم کے پہلے عشرے کے دوران مقامی مسلمانوں نے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن بھارتی دستے شرکا کو جلوس کی صورت میں شہر میں نکلنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہ تھے ۔ خلا ف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں ۔ محرم الحرام کے جلوسوں پر پیلٹ گن اور شیلنگ کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت ان مظالم کو روکے، اگر حالات اسی طرح چلتے رہے اور مودی کو روکا نہ گیا تو خطہ پہلے ہی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اب ذرا سی بھی غلطی پورے خطے کو جنگ میں جھونک سکتی ہے جس سے صرف پاکستان یا بھارت کا ہی نہیں پوری دنیا کا نقصان ہوگا ۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اپنے امن دستے وادی میں بھیجے اور بھارت کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہاں پر عام زندگی بحال کی جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative