پانامہ۔۔۔کہیں دھماکہ نہ ہو جائے

18

معروف دانشور ڈاکٹر عاصم اللہ بخش صاحب نے خوب گرہ لگائی ہے کہ پانامہ کیس میں کہیں دھماکہ ہی نہ ہو جائے ۔
لکھتے ہیں:’’لگ رہا ہے وزیراعظم نے پانامہ پیپرز کیس میں اپنا دفاع اب انہی خطوط پر استوار کر لیا ہے جن پر پاکستان نے اپنے جوہری پروگرام کا دفاع کیا.حسین حقانی کہتے ہیں سی آئی اے کے چیف رابرٹ گیٹس (بعد ازاں امریکی وزیر دفاع) سرکاری دورے پر اسلام آباد تشریف لائے. اس وقت کے صدر مملکت جناب غلام اسحاق خان سے ان کی ملاقات طے تھی . جوہری پروگرام پر بھی بات ہوئی. رابرٹ گیٹس کا اصرار تھا کہ اسلام آباد اپنے جوہری پروگرام کو فوجی مقاصد کے لیے وسعت دے رہا ہے جبکہ اس کا دعوی یہ ہے کہ یہ صرف ملک میں توانائی سیکٹر اور دیگر پرامن مقاصد کے لیے ہے.رابرٹ گیٹس نے جھنجھلا کر کہا جناب صدر اگر آپ کے گھر کے پچھواڑے ایک شے ہے جو بطخ کی طرح چلتی ہے اور بطخ کی طرح بولتی ہے، تو غالب امکان یہ ہے کہ وہ بطخ ہی ہے. صدر مملکت نے اسی سرعت سے جواب دیا کہ وہ جو شے بطخ کی طرح چلتی ہے اور بطخ کی طرح بولتی ہے، جب میں کہہ رہا ہوں وہ بطخ نہیں ہے تو بس وہ بطخ نہیں ہے!!!بہرحال وہ رابرٹ گیٹس تھے جبکہ اب معاملہ عدالت عظمی میں ہے.یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ جوہری پروگرام کی رونمائی پر میاں صاحب 6 دھماکے کرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں.پانامہ کی بات البتہ الگ ہے. اب کہ فکر یہ ہے، کہیں دھماکہ ہو ہی نہ جائے!!!‘‘ہم جیسے طالب علموں کی رائے البتہ الگ ہے۔ ہماری رائے میں تو دھماکہ اسی روز ہو گیا تھا جس روز استثناء کی بات کی گی۔اخلاقی وجود تو اسی روز دھماکے سے ٹوٹ کر بکھر گیا ۔کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟قانونی پہلو ابھی باقی ہے اور ہو سکتا ہے یہاں بھی ایک دھماکہ ہو جائے۔
یہ بات طے ہے کہ سیاست میں حقیقت سے زیادہ تاثر کی طاقت ہوتی ہے اور آخری فیصلہ تاثر ہی کرتا ہے ۔تاثر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر فکاہیہ چیزیں لکھی جا رہی ہیں تو ایک ایسی ہی فکاہیہ سی تحریر میں نے بھی لکھ ڈالی۔ ذرا آپ بھی پڑھ لیجیے ۔
می لارڈ! جھوٹ بولنا ہمارا جمہوری حق ہے۔
می لارڈ! کیا اب ہم پارلیمان میں کھڑے ہو کر جھوٹ بھی نہیں بول سکتے؟ عمران خان کا تو دماغ خراب ہو گیا، وہ غیر جمہوری قوتوں کا ایجنٹ ہے، اسے جمہوریت راس ہی نہیں آتی لیکن می لارڈ آپ ہی انصاف کیجیے کیا ہم نے جمہوریت کے لیے اتنی قربانیاں اس لیے دی تھیں کہ ہمیں پارلیمان میں جھوٹ ہی نہ بولنے دیا جائے؟می لارڈ، ہم اپنے جمہوری حق سے کیسے دستبردار ہو سکتے ہیں؟ جمہوریت کے لیے ہم نے اتنی قربانیاں دیں کہ اجڑ کر رہ گئے.. ہم دربدر ہو گئے. ہمیں آج تک پتا نہیں چل رہا ہمارے خاندان کا کون سا فرد کس کے زیر کفالت ہے. می لارڈ ہم اور کیا کریں؟ اور کتنی قربانیاں دے ہمارا خاندان؟می لارڈ، ہمارا عزم تھا کہ ہم سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیں گے. می لارڈ ہماری نیک. نیتی دیکھئے ہم نے تو اپوزیشن کی سیاست کو بھی شرافت کا نیا رنگ دے دیا ہے. گواہی کیلئے آپ بے شک خورشید شاہ کو بلا کر پوچھ لیجیے. اب جب کہ ہم سیاست کے ساتھ ساتھ صحافت کو بھی شرافت کا. نیا رنگ دے چکے تھے یہ یہودی ایجنٹ ہمارے جمہوری اور آئینی حق پر ڈاکہ ڈالنے آگیا ہے. می لارڈ، یہ صرف ہماری رائے نہیں مولانا فضل الرحمن صاحب کا بھی یہی خیال ہے. یہ شخص آئین کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اس لیے تہتر کے آئین کے تناظر میں اس یہودی ایجنٹ پر آرٹیکل چھ لگا یا جانا چاہیے۔
می لارڈ، تہتر کے آئین کے تناظر میں ہمیں آزادی ہے کہ پارلیمان میں ٹکا ٹکا کر جھوٹ بولیں. آئین کی سربلندی کا تقاضا ہے کہ اس حق سے ہمیں محروم نہ کیا جائے. ویسے بھی آج تک پارلیمان میں کسی نے سچ بولا ہے کہ اس غیر جمہوری کام کا مطالبہ ہم سے کیا جا رہا ہے؟می لارڈ، ہم ایک مہذب جمہوری دنیا کا حصہ ہیں. ہمیں اقوام عالم کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا ہے اس لیے ہمارے جھوٹ بولنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے عمران خان کی سازش کو ناکام بنا دیا جائے.
یور آنر! یہ ہیں وہ آئینی اور جمہوری پہلو جن کی روشنی میں ہمیں استثناء دیا جاوے. تاہم اگر استثناء ممکن نہ ہو تو پھر سوال ذرا ایسے انداز سے پوچھ لیا جائے کہ جمہوریت کی مضبوطی کا باعث بن جائے. مثلاً یہ پوچھنے کی بجائے کہ کیا ہم نے کرپشن کی اگر سوال یوں پوچھ لیا جائے کہ کیا ہم نے ’منظم کرپشن‘ کی تو بہت مناسب ہو گا۔
دیٹس آل مائی لارڈ۔