یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کا اہم پارٹنر، خطے کی بڑی طاقت ہے، بطور ثالث امریکا، ایران جنگ روکنے میں مدد کی، جسے یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،پاکستان کو دفاع کا پورا حق حاصل، افغان صورتحال سے نکلنے کا بہترین راستہ مذاکرات ہیں، کایا کالاس نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کیساتھ پاکستان یورپی یونین اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں اور اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف خلیجی خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت پر یورپی قیادت کا شکریہ ادا کیا، کایا کالاس کے دورہ کے دوران پاکستان اور یورپی یونین نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تجارت ، سرمایہ کاری، سلامتی، انسداد دہشت گردی، ہجرت، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کایا کالاس کا دورہ پاک ای یو کے درمیان بڑھتے شراکت کی علامت ہے،جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کیلئے فائدہ مند ہے۔یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس کا حالیہ دور پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور باہمی اعتماد کا واضح مظہر ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی سیاست تیزی سے تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کا فروغ نہ صرف دونوں کے مفادات کے لئے اہم ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے لئے بھی مثبت پیشرفت قرار دیا جا سکتا ہے ۔ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کو یورپی یونین کا ایک اہم شراکت دار اور خطے کی بڑی طاقت قرار دینا پاکستان کے بین الاقوامی کردار کے اعتراف کے مترادف ہے ۔ خصوصاً مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان تنائو کو کم کرنے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھنا اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ بین الاقوامی معاملات میں بھی ایک ذمہ دار اور موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی تنازعات کے حل میں ثالثی اور مفاہمت کی پالیسی پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اس دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی، انسداد دہشت گردی،امیگریشن، انسانی حقوق اور علاقائی استحکام جیسے اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق اپنے تعلقات کو روایتی سفارتی روابط سے آگے بڑھا کر ایک جامع شراکت داری کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔خصوصی طور پر جی ایس پی پلس اسکیم پاکستان کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہے جس سے ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں اس سہولت کا تسلسل پاکستان کیلئے نہایت ضروری ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی وابستہ ہے کہ جی ایس پی پلس کے فوائد برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کو انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو موثر انداز میں پورا کرنا ہوگا۔کایا کالاس کی جانب سے افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کو بہترین راستہ قرار دینا بھی قابل توجہ ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری عدم استحکام نے دہشت گردی، غیر قانونی ہجرت اور اقتصادی مشکلات کو جنم دیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان اور یورپی یونین کا مشترکہ موقف خطے میں امن کے قیام کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے۔اسی طرح پاکستان کے دفاع کے حق کو تسلیم کرنا بھی ایک اہم سفارتی پیشرفت ہے۔ خطے میں پیچیدہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے ۔ تاہم اس حق کے ساتھ ساتھ امن، مذاکرات اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی کا تسلسل بھی ضروری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون اور ترقی کی فضا قائم ہو سکے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس مرحلے کی کامیابی کا انحصار محض اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پر نہیں بلکہ ان معاہدوں اور وعدوں کے عملی نفاذ پر ہے جو اس دورے کے دوران کیے گئے ہیں۔ اگر دونوں فریق اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھاتے ہیں تو نہ صرف باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ پاکستان کی اقتصادی بحالی اور علاقائی استحکام کے اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری پاکستان کیلئے ایک اہم سفارتی اور اقتصادی موقع ہے جسے دانشمندی اور دور اندیشی کے ساتھ بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
کھوئے ہوئے اہداف
رواں مالی سال کے اختتام پر، ایف بی آر 864 ارب روپے کے حیران کن خسارے کے ساتھ انگلیوں پر بیٹھ گیا ہے۔ یہ ناقص کارکردگی ایک بار پھر ٹیکس مشینری کی نا اہلی کے ساتھ ساتھ اس بوسیدہ نظام کو بھی بے نقاب کرتی ہے جس کے تحت یہ کام کرتی ہے۔ اس طرح، آنے والا بجٹ بڑے پیمانے پر ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ سامنے آرہا ہے خاص طور پر معیشت کے ان طبقات کے لیے جو پہلے ہی ناقابل برداشت بوجھ تلے دب رہے ہیں۔ ان طبقات میں سرفہرست تنخواہ دار طبقہ ہے جو مجموعی طور پر ٹیکسوں میں 500 بلین روپے کا حصہ ڈالتا ہے، کیونکہ آمدنی کے امید افزا سلسلے اشرافیہ کی سرپرستی میں آسانی سے نکل جاتے ہیں۔ مجوزہ ٹیکسوں کا ایک سراسر حجم کسی کی سانس بند کرنے کے لیے کافی ہے۔ حکومت، مبینہ طور پر، درآمدات پر ود ہولڈنگ ٹیکس بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ تھوک فروشوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں مزید موافقت؛ مارکیٹ کی قیمت پر تیزی سے چلنے والی اشیا پر نئے سیلز ٹیکس لگانا؛ اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس موجودہ 8.5 سے 12.75 فیصد کے مقابلے میں 18 فیصد تک بڑھایا۔ مزید برآں، 400 ارب روپے ٹیکسوں کے ذریعے اکٹھے کیے جائیں گے جو کہ صوبوں کی طرف سے اگلے مالی سال کے لیے 15.264 ٹریلین روپے کے آئی ایم ایف کے طے کردہ ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کی کوشش میں لگائے جائیں گے۔ اور، یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگلے مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 1.73 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ عام آدمی کو بھگانے اور معیشت کو ایک ایسے علاقے میں بھیجنے کے سوا کچھ نہیں ہے جہاں وہ خود کو جمود کا شکار پاتا ہے۔ واحد شعبہ جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ چھوٹے تاجر ہیں جو 200 ملین روپے کے سالانہ کاروبار پر 1% ٹیکس دیکھیں گے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ معیشت نے تقریبا تمام شعبوں میں ناک بھوں چڑھا دی ہے، کیونکہ یہ مشکل سے 3.2 فیصد کی شرح سے بڑھی، 4.2 فیصد ہدف کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ اسی طرح، زراعت، صنعتی پیداوار اور برآمدات سے متعلق اعداد و شمار بھی گر گئے، ترسیلات زر غیر یقینی زون میں داخل ہونے سے، مشرق وسطی کے تنازعات کے نتیجے میں تارکین وطن کے لیے ملازمتوں کے ممکنہ نقصان کی وجہ سے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت آئی ایم ایف کے سخت مطالبات کی تعمیل کرنے اور خود مختاروں کو بچانے کے نازک توازن کے عمل کو ختم کر سکتی ہے۔
پاکستان اور یورپی یونین: مضبوط اسٹریٹجک تعلقات

