Home » کالم » پاکستان میں مہنگائی،آئی ایم ایف اورسٹیٹ بنک کے متضادبیانات
adaria

پاکستان میں مہنگائی،آئی ایم ایف اورسٹیٹ بنک کے متضادبیانات

کسی بھی جمہوریت کے کامیاب ہونے میں جمہور کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا بہت اہمیت کے حامل ہیں ، اگرروزمرہ کی ضروریات عوام کو ارزاں نہ مل رہی ہوں تو پھر وہ نظام ہی بیکار ہوجاتاہے ،حکومتوں کی کامیابی میں بھی یہ عنصر بنیادی اہمیت رکھاہے ۔ آج تک جو بھی حکومت آئی اس نے بیانات کی حد تک مہنگائی کو کم کرنے کے دعوے ضرور کئے لیکن عملی طورپر ایسا خال خال ہوتا نظرآیا ۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد نے کہاکہ مہنگائی مزید دوسال رہ سکتی ہے، شرح سود میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا، شرح سود7;46;50 فیصد سے بڑھ کر13;46;25فیصد تک پہنچ گئی تاہم 24ماہ میں مہنگائی کی شرح5;46;7فیصدتک آجائے گی ۔ قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئرعائشہ غوث پاشا کی زیرصدارت ہوا جس میں مہنگائی میں کمی لانے کےلئے مختلف تجاویز کاجائزہ لیاگیا ۔ اب یہاں اگر ہم پاکستان کاطائرانہ موازنہ بھارت یابنگلہ دیش سے کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا اوربنگہ دیش کی پالیسی ریٹ کے ساتھ یہ موازنہ ممکن نہیں ، بنگلہ دیش میں افراط زر5;46;2، انڈیا میں 3;46;2اور پاکستان میں افراط زر11;46;6فیصد ہے ،ہم ایکسپورٹرزکوسبسڈی دے سکتے ہیں لیکن ویلیو ایڈیشن نہیں کررہے ، کوئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی، ایکسچینج ریٹ کابڑا مسئلہ ہے ۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ جب ملک میں سیاسی عدم استحکام موجود ہوتو معاشی حالت خودبخود ہی سسکیاں لیناشروع کردیتی ہے، ایسی صورتحال میں ہ میں آئی ایم ایف کے پروگرام پرنظرثانی کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی پالیسیاں بھی یہاں قابل تنقید ہیں ،تعلیم اورصحت کے لئے فنڈنہیں ،بلڈکینسرکے مریض فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کرمررہے ہیں ، اگرہیپاٹاءٹس کے مریض کو دوانہیں ملتی ایسی کفایت شعاری کاہم نے اچارڈالناہے ،کتے کے کاٹنے کی ویکسین ناپید ہے ،ہیلتھ کارڈ کی پالیسی بھی نظرثانی مانگتی ہے ۔ اس وقت حکومت کو سب سے بڑاچیلنج ہی مہنگائی کاہے ۔ ادھر دوسری جانب انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام پرعملدرآمد کے حوالے سے اطمینان کا اظہارکیا اور پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 2;46;4فیصدتک رہنے کی پیشن گوئی کردی ہے ،ساتھ یہ بھی خوش آئندبات کی کہ آنے والے وقتوں میں مہنگائی کم ہوتی نظرآرہی ہے ،بیرونی ادائیگیوں کا عدم توازن بہتر رہے گا، ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری آئے گی،یہاں یہ ہم بتاتے چلیں کہ آئی ایم ایف کے مشن نے 16 سے 20ستمبرتک پاکستان کا دورہ کیاتھا اور مذاکرات میں ابتدائی جائزے کے بعداعلامیہ جاری کیاتھا جس میں مثبت اقدام کی جانب اشارہ کیاگیا لیکن آئی ایم ایف نے سٹیٹ بنک کے معاشی ترقی کے 3;46;5فیصد امکان کے برعکس پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح کو 2;46;4فیصدبرقراررکھا ۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے گزشتہ مالی سال2018-19 کے حسابات کوتوقع سے بھی بدترقراردیتے ہوئے اس امرکا امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ صورتحال موجودہ مالی سال میں برقرارنہیں رہے گی اور نئے مالی سال کے اہداف کوپورا کیاجائے گا ۔ اب دراصل بات یہ ہے کہ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کی جانب سے جوصورتحال پیش کی گئی اورآئی ایم ایف نے جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس کے تحت دونوں میں واضح فرق نظر آتا ہے ۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فی الوقت مہنگائی بے قابو ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات سے لیکراشیائے خوردونوش تک ہر قیمت میں ہوشرباء اضافہ ہے ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنی حیثیت اوروقعت کھوچکی ہیں اختیارات کا استعمال نہیں کیاجارہا،ایک ہی چیز کی قیمت ایک ہی مارکیٹ میں مختلف ہے ، کوئی دکانداردودھ 100روپے کلوفروخت کررہاہے ، کوئی110 اور کوئی120روپے ۔ یہ توایک معمولی سی مثال ہے یہی حالات دیگراشیاء کے ہیں ۔ اب صرف کسی ایک ہفتہ واربازار کاہی وزٹ کرلیں تووہاں پرسٹال ہولڈرزنے سبزیوں تک کے اپنے اپنے ریٹ مقررکئے ہوئے ہیں ، گوکہ وہاں متعلقہ اداروں کی کمیٹیاں موجود ہیں ، ان میں تعینات افسران وملازمین بھی ڈیوٹیوں پرموجود ہیں لیکن کارکردگی کچھ بھی نہیں ،’’چمک‘‘ نے ہمارے معاشرے کوتباہ وبرباد کرکے رکھ دیاہے،مہنگائی ایک ایساعنصر ہے جو بڑی بڑی حکومتوں کو لے ڈوبتاہے ،آپ کسی بھی دکان پر چلے جائیں آپ کو ریٹ لسٹ آویزاں نظرنہیں آئے گی، جب کاروبار تباہ ہوں گے ،قوت خرید جواب دے جائے گی جس چیز پرہاتھ رکھیں اس کو آگ لگی ہوگی تو پھرآپ کیونکہ تصورکرسکتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری ہوگی یابیرونی دنیا سے سرمایہ کارآئیں گے، آپ کی شرح نمو کی حالت بھی دگرگوں ہے ادارے تباہ حال ہیں ، صنعتیں بند ہورہی ہیں ،بیروزگاری پھیل رہی ہے ۔ ایسے میں کیسے سرمایہ کاری باہرسے آئے گی اداروں کی صورتحال بھی غیرتسلی بخش ہے ،تعلیم اورصحت جودوبنیادی ضروریات ہیں ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے ،ادویات کی قیمتیں آسمان تک جاپہنچی ہیں ، غریب آدمی دوا تونہیں خرید سکتا موت کوگلے لگالیتا ہے ۔ عوام نے حکمرانوں کو ووٹ اس لئے دیئے تھے کہ انہیں سہولیات ملیں گی لیکن ہرنیاروز مہنگائی کی نویدسناتاہے، ٹیکسوں کی بھردیتاہے ایسے میں غریب عوام کدھرجائے ۔ آئی ایم ایف کی پیشن گوئیاں اورتسلیاں اپنی جگہ لیکن حقائق کچھ اورہی بتارہے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے کہ آئندہ چندمہینوں میں مہنگائی بڑھنے کی شرح میں کمی ہونے کی نوید آرہی ہے ،اللہ کرے کہ اسی طرح ہو، مگروقت مہنگائی میں اضافہ ہونے کاعندیہ دے رہاہے جوں تو حکومت نے پٹرول سستا کیا مگر اب بین السطور خبرآرہی ہے کہ اس میں دس سے بارہ روپے لیٹر اضافہ ہوگا جب پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوگئیں تو پھرہرچیز کی قیمت خودبخودبڑھ جائیں گی، پہلے ہی عوام بجلی اور گیس کے بلوں میں دفن ہورہی ہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت نے جووعدے وعیدکئے تھے انہیں پوراکرے ،نہ کشکول ٹوٹا،نہ مہنگائی کنٹرول ہوئی، نہ روزگارملے، نہ چھت ملی، جو بھی سبزباغ دکھائے تھے ان پرتوابھی خزاں ہی کاراج ہے کم ازکم اپنے کئے گئے وعدے تو پورے کئے جائیں ۔

پاک افغان سرحد پربارودی سرنگ کادھماکہ،میجراورسپاہی شہید

ضلع مہمند میں پاک افغان بارڈر پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کامیجر اورسپاہی شہید ہوگئے، ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور کے ٹوئیٹ کے مطابق ضلع مہمند کے علاقے میں شدت پسندعناصرسرحد پار سے دراندازی کرتے تھے، پاک فوج کے جوان میجرعدیل کی قیادت میں پاک افغان سرحدپرضلع مہمند کے اس علاقے میں باڑ لگانے کے کام کی نگرانی پرمامورتھے کہ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے نصب کی ہوئی بارودی سرنگ کے دھماکے کی زد میں آگئے، شہید میجرعدیل شاہد کاتعلق کراچی جبکہ شہیدسپاہی فرازحسین کاکوٹلی آزادکشمیرسے تھا ۔ چندروز قبل بھی پاک افغان سرحد پرباڑلگانے میں مصروف پاک فوج کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں تین جوان شہید اورایک زخمی ہو گیا تھا ۔ یادرہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوہزارکلومیٹر سے زائد طویل سرحد پرباڑلگانے کاکام جاری ہے اور پاکستان پہلے ہی900کلومیٹر سے زائدحصے پریہ کام مکمل کرچکا ہے ۔ باڑ لگانے کا مقصد شرپسندوں اور دہشت گردوں کی پاک افغان سرحد پرنقل وحرکت کوروکنا ہے ۔ حکومتی واپوزیشن رہنماءوں نے پاک افغان بارڈرپرفوجی افسر اورجوان کی شہادت پرافسوس کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری طرف دفترخارجہ کے ترجمان نے افغان وزارت امورخارجہ کے حالیہ بیان کوغیرذمہ دارانہ اوربلاجوازقراردیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان سرحدعالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اورتمام متعلقہ عالمی قوانین اور ضابطوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سرحد ہے ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ پاکستان اورافغانستان سرحد پر طورخم پوائنٹ کاچوبیس گھنٹے کیلئے کھل جاناسرحد کے دونوں طرف کے عوام کی سہولت بہم پہنچانے کےلئے نہایت اہم قدم ہے تاہم ایسے بیانات دونوں ملکوں کے درمیان امن اور تعاون کے عزم کوگزندپہنچاتے ہیں اوران سے احترازبرتاجاناچاہیے ۔ پاک افغان بارڈر پر بارودی سرنگ کادھماکہ نہایت ہی افسوسناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، پاک فوج نے ملکی دفاع اور سلامتی کےلئے ہمیشہ بے مثال قربانیاں دی ہیں ،دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کرکے جوانوں کے عزم اورحوصلے کومتزلزل نہیں کرسکتے ۔ شہیدہونے والے جوان پاک دھرتی کافخر ہیں ،قوم کو ایسے بہادرسپوتوں پرناز ہے ۔ شہداء کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے ۔ ہرپاکستانی دہشت گردی کے خلاف سینہ سپراپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑاہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative