پاکستان کوغیرمستحکم کرنیوالی طاقتیں

18

ہم امریکہ اور بھارت سے دوستی اور امن کی آشا کی باتیں کرتے ہیں، مگر وہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں اور پاکستان کی جڑوں کو کوکھلا کرنے کیلئے لگے ہوئے ہیں ۔ پاکستان دشمنی میں ،اسر ائیل کی خفیہ ایجنسی مو ساد، بھا رت کی را اور امریکہ کی سی آئی اے اور انگریزوں کا لگا یاہوا بو ٹاقادیانی پیش پیش ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ممالک اور انکی خفیہ ایجنسیاں پاکستان کے مخالف کیوں ہیں ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی یہ کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کر کے ان سے فا ٹا، کے پی کے اور بلو چستان کو علیحدہ اور اٹیم بم چھینا جائے، کیونکہ یہود و ہنود کسی مسلمان ملک کے ہاتھوں نیو کلیئر ہتھیار اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ علا وہ ازیں پاکستان اور دنیا کے مختلف خطوں میں قادیانی جو یہو دیوں اور ہندوں کے ہر اول دستے کے آلہ کار ہیں اور جو پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ اُنکی بھی کو شش ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کر کے تو ڑا جائے اور ان سے اٹیم بم چھین کر بین الاقوامی ایجنسی کے زیر اثر لایاجا ئے اور اسی طرح یہود و ہنو د کو کھلی چُھٹی دی جائے تاکہ وہ غریب اور جدید دور کی سائنس اور ٹیکنالوجی سے محروم اسلامی ممالک کو زور اور طاقت کے بل بو تے پر زیر اثر بناکر انکے قدرتی وسائل پر قبضہ جمائیں ۔ مسلم اُمہ میں پاکستان واحد اور اکلوتا جو ہری طاقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پاکستان سے بڑا خو ف اور ڈر محسوس کرتے ہیں۔ یہ تمام ایسے عوامل ہیں جنکی وجہ سے امریکہ، بھارت اور اسرائیل پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔بد قسمتی سے نیٹو کے 28 ممالک نے چند لاکھ فو جیوں کی مدد سے پوری دنیا پر قبضہ جمایا ہوا ہے اور بد قسمتی سے او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک میں کوئی اتحاد اور اتفاق نہیں ،نتیجتاً مسلمان خواہ وہ عراق ، لیبیا، شام ، فلسطین ، کشمیر جہاں بھی ہیں ان پر زور اور ظلم کیا جاتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب تک امریکہ اور اتحادی افواج نے افغانستان میں 5ملین، عراق میں 2ملین ، بھارت نے کشمیر میں ایک لاکھ اور پاکستان میں امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجہ سے 40 ہزار سویلین اور 7 ہزار قانون نافذ کرنے والے ادروں کے اہل کا ر اور ڈرون حملوں میں 4ہزار بے گناہ پختون شہید ہوگئے ہیں ۔ جبکہ پاکستانی معیشت کو دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور پاکستان بننے سے اب تک امریکہ کی طر ف سے وطن عزیز کو 42 ارب ڈالر ملے ہیں۔ بھارت جن کو تجارت کے لحا ظ سے تر جیحی ملک کا درجہ دیا ہے، انکی پو ری کو شش ہے کہ پاکستان کو توڑا جائے ۔ ایک مشہو ر اخبا رکا کہنا ہے کہ بھارت کی اندرا گاندھی نے جو نہی بھارت کی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھا لا تو ا نہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ بنائیں تاکہ پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹا یا جاسکے۔ جس نے یہ منصوبہ بندی کی تھی اُنکا نام رامیش ور ناتھ کاؤ تھااور اس منصوبے کو اُسی کے نام کاؤ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک چلائی جائے گی ۔ اور انکو ایک خود مختار ریاست بنایا جائے گا اور بد قسمتی سے را کے قیام کے 30 مہینے بعد 1971 میں مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ "کاؤ "منصوبے کے تحت بلوچستان کو اور خیبر پختون خوا کو ایک علیحدہ خو د مختار ریاست بنانے کی منصوبہ بندی ہے ۔ فی الو قت بلو چستان ، فا ٹا اور ملک کے دوسرے حصوں میں جو افرا تفری اور غیر یقینی صورت حال ہے ، ان میں بھارت ، امریکہ، اسرائیل اور پاکستانی قادیانی ملو ث ہیں۔”کاؤ منصوبے "کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رامیش ور ناتھ کاؤ نے اس منصوبے کو بنا یا ۔” اندرا گاندھی نے منظور کیا”،” مرار جی ڈیسائی نے اس کو اگنو ر کیا” ، "راجیو گا ندھی نے اسکو ریفیوز کیا” اور سونیا گاندھی نے اپنے مو جودہ دور میں اسکو شروع کرنے کا حکم دیا۔ ریسر چ میں کہا گیا ہے کہ 9/11 کے بعد بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور امریکی سی آئی اے کے درمیان روابط بڑھ گئے۔ اور اس طر ح بھارت اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنے کیلئے منفی کا روائیاں شروع کیں اور ابھی بلو چستان، فا ٹا اور پاکستان کے دوسرے حصوں میں جو کچھ تخریبی کارروا ئیاں ہو رہی ہیں اُس میں دوسرے عوامل کے علاوہ امریکہ کی” سی آئی اے”، بھارت کی "را "اور اسرائیل کی "مو ساد "، وطن عزیز کے کچھ شر پسند عنا صر اور قادیانی افسروں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ قادیانی بھی کسی صو ر ت بھارت کی "را”، امریکہ کی” سی آئی” اے اور اسرائیل کی” مو ساد” سے کم نہیں۔بلو چستان کی علیحدگی کے لئے کا ؤ منصوبہ 2004-5 میں شروع ہو ا اور پو رے صوبے میں تخریبی کا روائیوں نے کا فی زور پکڑا ہے۔”دی میل "کا کہنا ہے کہ امریکہ کی کا نگرس نے حال ہی میں بلو چستان کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی مدد کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بلو چستان، کراچی اور قبائلی علاقہ جات میں بلیک واٹر پاکستان کو غیر مستحکم کر نے لگی ہوئی ہیں۔ایک صحافی وائن میڈسن Wayne Madsenجنہوں نے فو کس ٹی وی، اے بی سی، این بی سی، سی بی ایس،پی بی ایس، سی این این ، بی بی سی الجزیرہ، ایم ایس این بی سی اور دوسرے کئی چینلوں پر کام کیا ہے۔انکا کہنا ہے کہ میں اس بات کی تہہ تک پہنچا ہوں کہ پاکستان اور بلو چستان میں بلیک وا ٹر دہشت گر دی کے حملوں میں ملو ث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلیک واٹر پاکستان کے کراچی، پشاور،اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں تخریبی کا روائیوں میں لگی ہوئی ہیں اور یہ تمام تخریبی کارروائیاں امریکہ سی آئی اے کی ایما پر ہو رہی ہے ۔ جنرل حمید گل اور اسلم بیگ نے بھی پاکستان میں بلیک واٹر کی دہشت گر دی کے وا قعات میں ملو ث ہونے کی تصدیق کی ہے۔وائن میڈسن کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کوئٹہ میں جو ۵۴ شیعہ لوگ مارے گئے ہیں ان حملے کی ذمہ داری طالبان پر ڈال دی گئی ہے ، جبکہ حقیقت میں یہ کا روائی بلیک واٹر نے سی آئی اے، اسرائیلی مو ساد اور بھارت کی را کی مدد سے کی ہے۔ اس جرنلسٹ کے مطابق را، مو ساد اور سی آئی اے بلو چستان لبریشن آرمی،بلوچ ری پبلیکن آرمی اور بلو چستان لبریشن فرنٹ کی مدد کر رہی ہے۔ جبکہ انٹر نیشنل ڈیویلومنٹ کے20 جولائی 2012 کے ایک سروے کے مطابق بلوچستان کے 70 فی صد لوگ پاکستان کے ساتھ رہ کر زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری چاہتے ہیں۔ مطابق علاوہ ازیں ان ممالک کی بلو چستان کے قدرتی وسائل کے علاوہ سونے اور چاندی کے ذخا ئر ، بلو چستان میں 27ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور 300 ملین بیرل تیل پر بھی لگی ہوئی ہے۔ سپریم کو رٹ میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتا یاتھا کہ پاکستان میں دہشت گر دی اور انتہا پسندی کے واقعات میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی مو ساد ملو ث ہیں۔افغا نستان میں بھارت نے جو24 کو نسلیٹ قائم کئے ہوئے ہیں اور ان سب کاکام پاکستان کو غیر مُستحکم کرنا ہے۔کرسٹینا پالمیر جو” دی میل” میں کام کر تی ہیں اُنکا کہنا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی "را "پاکستان میں فر قہ ورانہ جنگ کو ہوا دینے کی کو شش کر رہی ہے اوربلو چستان میں عام لوگوں کا قتل عام کر نا اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ کو چھوڑنا چاہئے ۔ جب ہم امریکہ کی دہشت گر دی کی جنگ چھو ڑیں گے تو پاکستانی عوام ملک اور فوج کے ساتھ ہو گی اور ہمیں دشمن کا آسانی سے پتہ چلے گا کہ ہمارا دشمن کو ن ہے۔ پاکستان کو اپنے پڑو سی ممالک چین، سری لنکا، نیپال، ایران بالخصوص اسلامی ممالک اور بھارت کے ساتھ برابری کے بنیاد پر تعلقات اُستوار کرنا چاہئے اور امریکہ کو خیر باد کہنا چاہئے ۔ کہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ دوشمنی خطر ناک مگر دوستی مہلک ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے خفیہ ایجنسیوں کو وطن عزیز میں ملک دشمن اور بالخصوص قادیانیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہئے ۔ اسکے علاوہ وطن عزیز میں نیشنل سیکو رٹی کو نسل کی جگہ تھنک ٹینک بنانا چاہئے جس میں پار لیمنٹرین کے علاوہ ٹیکنو کریٹس اور متعلقہ ماہرین شامل ہونے چاہئیں اور انکو پو را اختیار دیا جائے کہ وہ ملک کیلئے پالیسی سازی میں پار لیمنٹ کی مدد کریں۔ ہر بِل کو قانون ساز اداروں میں پیش کرنے سے پہلے تھنک ٹینک کے پاس جا نا چاہئے۔ جب تک پاکستان عوام پاکستانی افواج کے ساتھ نہیں ہم اپنے دشمن کو جاننے سے قاصر ہونگے۔
*****