پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے امریکی بہانے

7

امریکہ نے پاکستان پر دباوَ بڑھانے کےلئے بھارتی فرمائش پرایک اور حربہ آزمایا کہ پاکستان پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ۔ اس سلسلے میں امریکہ نے گزشتہ برس پاکستان کو واچ لسٹ میں رکھا تھا تاہم اب امریکہ نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے ۔ عالمی مذہبی آزادی کا تحفظ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے ۔ امریکا مذہبی آزادی سے متعلق ہر سال فہرست جاری کرتا ہے اور پاکستان اس فہرست میں برقرار رہا تو اس پر ممکنہ طور پر جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی ایکٹ برائے مذہبی آزادی 1998ء کے تحت پاکستان سمیت سعودی عرب، چین، ایران، شمالی کوریا، برما، اریٹیریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے ۔ پاکستان نے امریکہ کی جانب بلیک لسٹ کیے جانے کے اقدام کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فہرست میں جانبداری بالکل واضح ہے اور اس کوشش کے پس پردہ خود ساختہ جیوری کی ساکھ پر بھی کئی سوالیہ نشان موجود ہیں ۔ لہٰذا پاکستان مذہبی آزادی کے بیرونی اندازوں کو مسترد کرتا ہے ۔ پاکستان کئی مذاہب اور تکثیری معاشرے پر مبنی ملک ہے ۔ ہماری کل آبادی کا چار فیصد عیسائی، ہندو، بدھ مت اور سکھ مذاہب سے تعلق رکھتی ہے ۔ پاکستان کا آئین مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتا ہے ۔ قانون سازی میں ان کے حصے کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں مذہبی اقلیتوں کےلئے خصوصی نشستیں مختص کی گئی ہیں ۔ ہمارے ہاں اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے ازالے کےلئے ایک متحرک اور خودمختار انسانی حقوق کا کمیشن کام کر رہا ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئین اور قانون کے تحت ہر موقع پر مذہبی اقلیتوں کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ ترجیح بنایا ۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے مذہبی اقلیتوں کی ملکیتوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کےلئے مثالی فیصلے کیے ہیں ۔ حکومت پاکستان نے اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کےلئے بہترین قانونی اور انتظامی طریقہ کار تشکیل دیا ہے ۔ پاکستان کو اپنی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے کسی انفرادی ملک سے کسی قسم کے مشورے یا ہدایات کی ضرورت نہیں ۔ خود امریکہ میں اسلام فوبیہ میں بیش بہا اضافے کی وجوہات کا غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے ۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے امریکی رپورٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ امریکہ اس اقدام کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر دباوَ ڈال کر افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ کیا امریکہ کو یورپی یونین میں مذہبی آزادی پر عائد سنگین پابندیاں دکھائی نہیں دیتیں ;238; یورپی یونین میں گرجا گھراورعبادت گاہیں پابندیوں کی زد میں ہیں جب کہ مسلمانوں کے حجاب اوڑھنے اور بعض مبلغوں کے داخلے پر بھی پابندیاں ہیں ۔ پاکستان کی پڑوسی بی جے پی حکومت مسلمانوں کے خلاف تشدد کی حمایت کر رہی ہے ۔ بھارت میں مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ہے جس کی ضمانت بھارتی آئین کی شق نمبر 25;245;28 میں دی گئی ہے ۔ بھارتی آئین میں 1976ء میں ترمیم کے مطابق ملک کو سیکولر ریاست قرار دیا گیا ۔ جس کے مطابق ہر شہری کو اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگی گزانے کا پورا حق حاصل ہے ۔ بھارت کے بعض خطے بعض دیگر مخصوص مذاہب والوں کی اکثریت کے بھی ہیں ۔ جموں و کشمیر مسلم اکثریت والی، پنجاب سکھ اکثریت والی، ناگالینڈ، میگھالیہ اور میزورم مسیحی اکثریت والی ریاستیں ہیں اور بھارتی ہمالیائی ریاستوں جیسا کہ سکم اور لداخ، اروناچل پردیش اور ریاست مہاراشٹر اورمغربی بنگال میں دارجلنگ ضلع میں بدھ مت کی اکثریت آبادی ہے ۔ ملک میں مسلمان، سکھ، مسیحی، بدھ مت، جین مت اور زرتشتیت کی آبادیاں اہمیت کی حامل ہیں ۔ اسلام بھارت میں سب سے بڑا اقلیتی مذہب ہے اور بھارت میں مسلمان آبادی کل آبادی کے 14 فیصد ہیں ۔ لیکن بھارت میں مذہبی آزادی کا یہ حال ہے کہ اب تک مذہبی تشدد اور فسادات کے ہزاروں واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں مسلمانوں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں کا خاصا جانی و مالی نقصان ہوا ہے ۔ خاص طور پر دہلی میں 1984ء کے سکھ مخالف فسادات، کشمیر میں 1990ء میں ہندو مخالف فسادات، گجرات میں 2002ء کے مسلم مخالف فسادات اور 2008ء میں مسیحی مخالف مسادات ۔ افسوس کی بات ہے کہ انسانی حقوق پر بات کرنے والوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی آنکھوں کو بند رکھا ہوا ہے ۔ کیا یہ سب امریکہ کو نظر نہیں آتا ۔ امریکی غیر منصفانہ فیصلے پر پاکستان کے احتجاج کرنے اور صورتحال واضح کرنے پر امریکہ نے پاکستان کو مذہبی پابندیوں کی خصوصی تشویشی فہرست سے استثنیٰ دیدیا ہے ۔ امریکہ کاکہنا ہے کہ پاکستان کو استثنیٰ دینا امریکہ کے اہم قومی مفاد میں ہے ۔ پاکستان پر پابندیاں نہیں لگائیں گے ۔ اصل میں امریکہ کا اب پاکستان سے مفاد وابستہ ہے ۔ افغانستان سے نکلنے کےلئے پاکستان کا تعاون بہت ضروری ہے ۔ جس کی درخواست ٹرمپ پہلے ہی پاکستان سے کر چکے ہیں ۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ اگر پاکستان اس مرحلے پر بگڑ گیا تو امریکہ کو افغانستان میں یقینی شکست سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ پاکستان کے سہارے افغان طالبان سے مذاکرات کر کے امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے لہذا اس وقت پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا امریکہ کی مجبوری ہے ۔