Home » کالم » پاکستان کو توڑنے میں بھارت کا منفی کردار
riaz-ahmed

پاکستان کو توڑنے میں بھارت کا منفی کردار

riaz-ahmed

اقوام متحدہ کے چارٹرکی رو سے پڑوسی ممالک کے امور میں مداخلت کرنا جرم ہے۔ اسی لیے مودی کا چشم کشا بیان آنے کے بعد پاکستانی حکومت نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ متحدہ پاکستان توڑنے میں بھارتی حکمران ٹولے کے گھناو¿نے کردار اور ”اعتراف جرم“ کا نوٹس لیں۔مشرقی پاکستان کے عوام و خواص کو وفاقی حکومت سے جو سیاسی ‘ معاشی ‘ لسانی اور معاشرتی شکایات تھیں‘ ان کی اہمیت اپنی جگہ مگر یہ حقیقت ہے کہ بھارتی حکومت نے بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کے مابین اختلافات کو خوب ہوا دی۔ یہ چلن خصوصاً جنگ1965ءمیں منہ کی کھانے کے بعد شروع ہوا تاکہ ہار کی خفت مٹائی جا سکے۔
اس زمانے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”آئی بی“ نے مشرقی پاکستان میں اپنے ایجنٹ بھجوائے اور وہاں کئی دانش وروں اور صحافیوں کو خرید لیا۔ یہ بھارتی ایجنٹ میڈیا میں خوب پروپیگنڈا کرنے لگے کہ مغربی پاکستان کے حاکم بنگالیوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان جانے والے بھارتی خفیہ ایجنٹوں کو پانچ ذمے داریاں سونپی گئیں۔ پاک افواج کی عسکری تنصیبات اور سرگرمیوں کی خبریں بجھوائیں۔ مخفی تربیتی مراکز میں بنگالی علیحدگی پسندوں کو عسکری تربیت دیں۔ بنگالی سرکاری افسروں کو اپنے دام میں گرفتار کریں تاکہ وہ ہر سطح پہ علیحدگی پسندوں سے علمی تعاون کر سکیں۔ ناگا اور ماو¿ قبائل نے چٹاگانگ کی پہاڑیوں پر جو کیمپ بنا رکھے ہیں،انھیں نشانہ بنایا جائے۔ بنگالیوں پہ ظلم وستم کی جھوٹی خبریں پھیلا کر بنگالی عوام کو حکومت اور پاک افواج کے خلاف بھڑکایا جائے۔
سقوط ڈھاکہ اگرچہ 1971 میں ہوا تاہم بھارتی ایجنٹ اس سے کئی برس پہلے ہی بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کے گلی کوچوں میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ مکتی باہنی کے ہی ایک سابق کمانڈو سعید احمد کہتے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے وقت میری عمر 20،21 برس تھی میں کھلنا میں مکتی باہنی کا کمانڈو تھا۔ ابتدا میں مکتی باہنی کو جوٹاسک ملا وہ یہ تھا کہ ملک کے مختلف شہروں میں چھوٹی چھوٹی میٹنگز کرکے پاکستان کے خلاف جس قدر نفرت پھیلاسکتے ہو وہ پھیلائی جائے، مجھے بھی اسی طرح کی ذمے داری دی گئی تھی۔ اس سلسلے میں مشرقی پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں، دفاتر اور دیگر مقامات پر لوگوں کی چھوٹی چھوٹی میٹنگزمیں ہماری ٹیم انھیں قائل کرنے کی کوشش کرتی کہ مغربی پاکستان کا سامراجی ٹولہ ہمارے حقوق پر ڈاکا ڈال رہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کی خاطر ایک الگ ملک بنائیں۔
ابتدا میں مکتی باہنی سے تعلق رکھنے والے مشرقی پاکستان کے مقامی بنگالیوں کو ٹریننگ کے لیے بھارتی سرحد کے قریب واقع کیمپوں میں بھیجا جاتا تھا، تاہم جب ایک اکثریت یہ تربیت لے کر وہاں سے آگئی تو پھر مشرقی پاکستان کے اندر ہی مختلف مقامات پر اس نوعیت کے کیمپ کھول دیے گئے تھے۔ جہاں بھارتی فوج مکتی باہنی کے ارکان کو مختلف اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دیا کرتے تھے۔
شیخ مجیب کی جانب سے یہ دو ٹوک احکامات تھے کہ اردو بولنے والوں اور ایسے بنگالیوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جائے جو اپنے دل میں مغربی پاکستان کے لیے ذرا برابر بھی ہمدردی رکھتے ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ مکتی باہنی میں مقامی بنگالیوں کی تعداد محض 20 فی صد تھی جب کہ اس عسکری ونگ کے 80 فی صد ارکان کا تعلق بھارت سے تھا۔ جنھیں مغربی بنگال سے بلایاگیا تھا چوں کہ شکل و صورت اور رہن سہن میں یہ مقامی بنگالیوں سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔ اس لیے یہاں کے معاشرے میں اس طرح گھل مل گئے تھے کہ ان کی شناخت کرنا مشکل تھی۔
مشرقی پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنٹوں کی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ حتیٰ کہ انہوں نے پاک بحریہ اور سول سروس سے وابستہ بعض ملازمین کو بغاوت پر آمادہ کر لیا۔ اس کا مقصدپاک فوج کے خلاف اعلان جنگ کرنا تھا۔ بغاوت تاریخ میں ”اگر تلہ سازش کیس“ کے نام سے مشہور ہوئی۔ بغاوت کا منصوبہ یہ تھاکہ پاک افواج و حکومت میں موجود بنگالی افسروں کو ساتھ ملا کر ان سے بغاوت کرائی جائے۔ چنانچہ عوامی لیگ کے رہنما حکومت و فوج میں شامل بنگالی افسروں سے رابطہ کرانے لگے۔ ان کے سامنے یہی رونا رویا جاتا کہ حکومت ہر شعبے اور سطح پر بنگالیوں کا استحصال کررہی ہے۔
اگرچہ سازش کے ذریعے ثابت ہوگیا کہ شیخ مجیب الرحمن علیحدگی کی راہ پر چل نکلے تھے۔ وہ اب مشرقی پاکستان کو علیحدہ مملکت بناکر وہاں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اور آنے والے وقت نے بھی دیکھا کہ حکومت پاکر شیخ مجیب الرحمن آمر بن بیٹھے جبکہ ان کے رشتے دار کرپشن کے ذریعے راتوں رات کروڑ پتی ہوگئے۔لیکن اس وقت عام بنگالیوں کی نظر میں شیخ مجیب الرحمن نجات دہندہ تھے۔ انہیں یقین تھا کہ خود مختاری پاکر غریب بنگالیوں کی حالت سدھر جائے گی۔
سقوط ڈھاکہ سے قبل بیرون ممالک میں جاسوسی اور دہشت گردی کرانے کے لیے را کا قیام عمل میں آچکا تھا۔ لہٰذا مشرقی پاکستان میں پاک افواج کے خلاف کارروائیاں کرنے اور باغیوں کو مدد دینے کا منصوبہ را کے حوالے کردیا گیا۔را کا سربراہ، اراین کاو¿ تھا۔ اس نے را کے سیکڑوں ایجنٹ مشرقی پاکستان بھجوا ئے تھے جو علیحدگی پسند تحریک کو کامیاب کرنے کی سعی کرنے لگے۔ ان سے مسلسل رابطہ رکھنے کی خاطر پاک بھارت سرحد پر را کے کئی مراکز تعمیر کیے گئے۔ انہی ایجنٹوں کے ذریعے عوامی لیگ کے غنڈوں کو اسلحہ بھی ملا جو بہاریوں وغیرہ پر استعمال ہوا۔یوں مغربی اور مشرقی پاکستان کے لوگ آپس میں لڑ لڑ کر کٹ مرتے، جبکہ بھارتی یہ تماشا دیکھ کر خوشی سے بغلیں بجاتے۔
درحقیقت را کے ایجنٹ ہی نے شیخ مجیب الرحمن کو اطلاع دی تھی کہ پاک فوج انہیں گرفتار کرنے آرہی ہے۔ شیخ صاحب نے خود تو گرفتاری دے دی، مگر بقیہ قیادت کو بھارت فرار کرادیا تاکہ وہاں سے مسلح بغاوت کا آغازہوسکے۔عوامی لیگ کے سبھی بڑے لیڈر مثلاً سید نذر اسلام، تاج الدین احمد، خوندکر مشتاق احمد، قمرالزماں، منصور علی وغیرہ کلکتہ جاپہنچے۔ وہاں را چیف، آر این کاو¿ نے انہیں اپنی آغوش سمیٹ لیا۔ کاو کے مشورے سے ان لیڈروں نے 17 اپریل 1971ء کو بنگلہ دیش کی عبوری حکومت قائم کردی۔ نیز ”آزاد بنگلہ دیش“ کے نام سے ریڈیو اسٹیشن کا آغاز ہوا۔ مقصد یہ تھا کہ مشرقی پاکستان علیحدگی پسند دستوں کے مابین رابطہ ہوسکے۔
بھارتی فوج اور را نے مل کر بنگالی باغیوں کو عسکری تربیت اور اسلحہ دینے کے لیے ایک منظم آپریشن(Operation Jackpot )شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں مشرقی پاکستان کے تین اطراف آٹھ سیکٹروں میں تربیتی مراکز قائم کیے گئے۔ مراکز میں خصوصی فوج ”سپیشل فرنٹیئر فورس“ کے کمانڈوز بطور انسٹرکٹر متعین ہوئے۔ یہ کمانڈوز مکتی باہنی کے گوریلوں کو عسکری تربیت دینے لگے۔ مکتی باہنی میں ”ایک لاکھ گوریلے“ شامل ہوچکے تھے۔ سبھی کو بھارتیوں نے عسکری تربیت دی اور یوں متحدہ پاکستان توڑنے کا خواب عملی تعبیر کے قریب لے آئے۔
اگست 1971ء میں مشرقی پاکستان میں صرف تین ڈویڑن باقاعدہ فوج موجود تھی یعنی تقریباً پچاس ہزار فوجی۔ دوسری طرف مکتی باہنی کے گوریلوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ انہیں بھارتی فوجیوں اور مقامی لوگوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ یہ پاک افواج کی زبردست پیشہ وارانہ صلاحیت اور جذبہ حب الوطنی ہی ہے جس کے بل بوتے پر جوان مسلسل نو ماہ تک مخالفین کا مقابلہ کرتے رہے۔لیکن نو ماہ کی طویل اور انتہائی دشوار لڑائی نے پاک افواج کی بیشتر توانائی چوس لی اور اس کے وسائل بھی سکڑ گئے۔ چناں چہ دسمبر 1971ئ میں بھارتی فوج کے 12 ڈویڑن حملہ آور ہوئے، تو انہیں پیش قدمی میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔ اس کے باوجود کئی مقامات پر پاکستانی فوجیوں نے غیر معمولی دلیری و بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا۔ ان مقابلوں میں ”معرکہ ہلّی“ یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ اسی معرکے کے ایک شہید، میجر محمد اکرم کو نشان حیدر کا عظیم عسکری اعزاز ملا۔
حقیقت یہ ہے، اگر کسی سپرپاور کی افواج بھی مشرقی پاکستان میں ہوتی، تو وہاں کے حالات میں جنگ ہار جاتی۔ یہ جنگ بھارتی فوج نے ہرگز نہیں جیتی بلکہ فتح کی ذمے دار سیکڑوں منفی وجوہ ہیں جو ایک جگہ جمع ہو گئیں۔بہرحال مشرقی پاکستان میں بھارت کی کھلم کھلا مداخلت اس امر کا بین ثبوت ہے کہ وہ اب بھی مملکت پاکستان کے خلاف خفیہ کارروائیوں میں مصروف ہے۔ہمیں اس پوشیدہ و ازلی دشمن سے ہمیشہ چوکنا رہنا ہو گا۔

About Admin

Google Analytics Alternative