Home » کالم » پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی لمحہ فکرےہ

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی لمحہ فکرےہ

اقوام عالم نے 11جولائی کو سات ارب سے زائد انسانوں کے طور پر ےوم آبادی کا سال مناےا ۔ دنےا مےں آدم اور حوا دو انسان آئے ۔ دو انسانوں سے بڑھ کر ےہ آبادی سات ارب سے زائد انسانوں تک پہنچ چکی ہے ۔ اس آبادی کی افزائش مےں ہمار ے ملک نے خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے اور ےہی وہ واحد شعبہ ہے جس مےں ہم تےزی سے خود کفالت کی منزلےں طے کر رہے ہےں ۔ قےام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی سوا تےن کروڑ تھی جو اب 21کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ آبادی مےں اضافے کے اعتبار سے بھارت دنےا مےں سب سے آگے ہے اور ہر سال اس کی آبادی مےں اےک کروڑ ستر لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان اب آبادی کے اعتبار سے دنےا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے جبکہ انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے 182ممالک مےں پاکستان کا نمبر 141ہے اسی وجہ سے 40ملےن لوگ غربت کی سطح سے نےچے زندگی بسر کر رہے ہےں ۔ معزز قارئےن وطن عزےز خدا داد پاکستان مےں آبادی مےں خطرناک اضافے کو پسند کر کے ہم نے اپنے کو پرےشانےوں کی لامحدود دلدل مےں دھکےل دےا ہے ۔ ےہ پرےشانےاں دن بدن خود رو بےل کی طرح اگ اور پھل پھول رہی ہےں ۔ کوئی بھوک کے ہاتھوں شکستہ و بے جان ہے تو کوئی مالی تنگی سے دلبرداشتہ ،کوئی چھت کی فکر مےں ہے تو کوئی مردم گزےدہ مصائب سے نجات کا آسان اور ارزاں راستہ موت کی پناہ مےں ڈھونڈ رہا ہے کےونکہ کٹھن حالات انسانوں سے قوت عمل چھےن لےتے ہےں اور ہر سو چھائے ماےوسی کے بادلوں مےں بدقسمت افراد موت کو گلے لگانے مےں ہی عافےت سمجھتے ہےں ۔ زندگی جےسی قےمتی متاع سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے کوئی مےنار پاکستان کا انتخاب کرتا ہے تو کوئی نہر مےں چھلانگ لگا کر ،کوئی خود سوزی کر کے تو کوئی چھت سے جھول کر ۔ ذہنی کرب ،نفسےاتی ہےجان ،انتہا پسندی اور دہشت گردی جےسی بےمارےوں کا اےک بڑا سبب شرح آبادی مےں روز افزوں اور بے لگام اضافہ بھی ہے ۔ ےہ مجبورےاں ہی ہوتی ہےں جو انسان کو ناگفتنی حرکات و اعمال پر مجبور کرتی ہےں ۔ افراط زر کی شرح سے بھی کئی گنا آبادی کے تےزی سے بڑھنے کے باعث خوشحالی بھی بدقسمت انسانوں سے اسی تےز رفتاری کے ساتھ دور،دور اور بہت دور بھاگ رہی ہے ۔ آبادی مےں خطرناک شرح سے اضافہ غرےب ،محروم اور مظلوم انسانوں کی تعداد مےں بھی مسلسل اضافہ کا سبب ہے ۔ ےہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کے باعث اخلاقی ،معاشی اور سماجی بحرانوں کے اندھے طوفانوں نے ہمےں چارسو گھےر لےا ہے اور دنےا مسائل کا گھر اور انسانی زندگی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے ۔ آج نادار افراد معصوم بچوں کی گردنوں مےں برائے فروخت کی تختےاں لگا کر سر بازار نظر آتے ہےں ۔ شاہ محمود غزنی نے اسی کو موضوع سخن بناےا ۔ ان کی نظم کا ےہ شعر کتنا کرب اور المناکی لئے ہوئے ہے ۔

بےچ دےا ہے بھوکی ماں نے اپنا بھولا بھالا بچہ

سارے گھر کی خوشےوں کی بنےا اسی بکنے پر ہے

ماضی مےں کثرت اولاد فوبےا کا اکثرےت شکار تھی لےکن آج کے دور مےں بچے امےر نہےں غرےب ہی پےدا کرتے ہےں ۔ امراء کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ بچے زےادہ پےدا ہوں گے تو ان کے اثاثے بندر بانٹ سے کم ہو جائےں گے جبکہ غرےب اپنے بچوں کو ہی اپنا اثاثہ سمجھتا ہے اور اس اثاثے مےں اضافہ سے اس کی آمدنی مےں اضافہ کی حکمت پنہاں ہوتی ہے ۔ اسی طرح آج دنےا کے امےر ترےن ملک تو آبادی پر کنٹرول کر رہے ہےں لےکن تےسری دنےا کے غرےب ممالک آبادی مےں تےز رفتاری سے اضافہ پر ہی کمربستہ ہےں ۔ غرےب والدےن کو خط غربت سے نےچے جانے والی اکانومی کو مستحکم کرنے کےلئے لےبر فورس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ غرےب کا بال ابھی صحےح بال و پر بھی نہےں نکالتا کہ والدےن اسے کسی جگہ چھوٹے کی حےثےت سے بھرتی کروا دےتے ہےں ۔ والدےن کے معاشی حالات اےسے ہوتے ہےں کہ بچوں سے حاصل ہونےوالی پانچ سات سو روپے کی کشش انہےں اپنے ہی لخت جگروں کو مشکل کاموں مےں لگائے رکھنے پر اکساتی رہتی ہے ۔ معزز قارئےن ذرا غور کرےں وہ کےسے سنگےن حالات ہوں گے جن کے زےر اثر والدےن اپنے معصوم بچوں کو چند ہزار کے عوض دےنے پر مجبور ہوتے ہےں اور بعض گردش حالات کے ستم رسےدہ اپنے جسمانی اعضاء گردے تک فروخت کرنے پر رضا مند ہو جاتے ہےں ۔ ماضی مےں ےورپی ممالک کو لےبر فورس کی کمی پوری کرنے کےلئے تےسری دنےا کے غرےب ممالک پر ہی انحصار کرنا پڑتا تھا لےکن 9-11کے بعد حالات بدل گئے اب ےہ ممالک غےر اسلامی ممالک پر ہی بھروسہ کر رہے ہےں ۔ وطن عزےز کو اس وقت مختلف قسم کے سےلابی رےلوں کا سامنا ہے جن مےں مہنگائی کا سےلاب ،بھےک منگوں کا سےلاب ،غربت کا سےلاب ،بے روزگاری کا سےلاب ،الغرض کس کس کا ذکر کےا جائے فہرست طوےل ہے لےکن ان تمام سےلابوں کی وجہ آبادی کے سےلاب کی طغےانی ہی ہے ۔ ہم حکومت کو تو تمام معاشی بےمارےوں ،بے روزگاری ،مہنگائی ،گےس اور بجلی کی ناےابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہےں لےکن کبھی اس پہلو پر غور کرنے کی کوشش ہی نہےں کرتے کہ ہم سب ان تمام بحرانوں کے کسی حد تک خود ذمہ دار ہےں ۔ ہم نے آبادی مےں ہوش ربا اضافہ مےں ہی ترقی کو اپنا مطمع نظر ٹھہرا لےا ہے ۔ ہم اپنی لغزشوں اور ذاتی حماقتوں کے ساتھ جب سنگےن مسائل کا شکار ہوتے ہےں تو پھر نا انصافی اور محرومی کا نام لےکر ماتم شروع کر دےتے ہےں ۔ ےہ اےک حقےقت ہے کہ آبادی کے بڑھنے سے معےشت پر منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہےں ۔ آبادی مےں اضافہ سے اشےاء و خوراک کی رسد پر برا اثر پڑتا ہے ۔ بچتےں ، زرمبادلہ اور انسانی ذراءع کی ترقی متاثر ہوتی ہے ۔ سرماےہ کاری مےں کمی اور ادائےگےوں کے توازن پر دباءو پڑتا ہے ۔ زر مبادلہ مےں قلت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ وسائل کی کمی سے بدحالی ،بے روزگاری ، ناخواندگی ،ماحولےاتی آلودگی اور بےمارےاں ہی مقدر بنتی ہےں ۔ کوئی بھی ملک ترقی صرف اسی صورت کر سکتا ہے جب اس کے وسائل کے بڑھنے کی رفتار آبادی مےں اضافہ کی رفتار سے زےادہ ہو ۔ مسلم دنےا مےں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے دو مختلف نقطہ نظر ہےں ۔ اےک طبقہ فکر کے مطابق بچوں کی پےدائش کے قدرتی عمل کو روکنا جرم ہے اور ےہ بہبود آبادی کو خدائی امور اور اس کے فےصلوں مےں مداخلت قرار دےتے ہےں اور مسائل غربت کو ا;203; تعالیٰ کی رضا کے کے ساتھ منسلک کر دےتے ہےں ۔ دوسرے مکتبہ فکر کا کہنا ہے بہبود آبادی جائز ہے عوام کی اکثرےت نے اسے تسلےم کر لےا ہے اور اس کے مختلف دلائل کو کوئی اہمےت نہےں دےتی اور چھوٹے کنبے کی افادےت سمجھتی ہے ۔ اےران ،ملائےشےاء اور بنگلہ دےش نے اورعوام نے عوامی طور پر اسی فکر کو قبول کر کے آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کو نہ صرف روک لےا ہے بلکہ اس مےں کمی بھی واقع ہوئی ہے ۔ دنےا مےں چےن اےسا ملک تھا جس کی آبادی دنےا مےں سب سے زےادہ تھی تاہم انہوں نے اس پر بڑی حد تک قابو پا لےا ہے جس کے باعث ان کی اقتصادےات کےلئے مستقبل مےں کوئی خطرہ نہےں رہا ۔ وطن عزےز مےں 66ملےن لوگوں کو پےنے کا صاف پانی مےسر نہےں ،88ملےن لوگوں کو صحت اور صفائی کی سہولت مےسر نہےں ،68ملےن لوگ اےک گھر کے کمرے مےں زندگی گزارنے پر مجبور ہےں ۔ ہمارے پاس دنےا کے 70فےصد قدرتی وسائل ہےں ان کے باوجود ہمارا ترقی نہ کر سکنا ہماری آبادی کا تےز رفتاری کے ساتھ بڑھنا ہی ہے ۔ وطن عزےز مےں خاندانی منصوبہ بندی کی افادےت اور تشہےر کا کام ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوا تھا ۔ اس وقت ےونےسیف کے صحت کی ےونٹ کی جانب سے خواتےن اور بچوں کی صحت کےلئے خشک دودھ ،دلےہ،صابن ، گھی اور مقوی ادوےات مہےا کی جاتی تھےں ۔ بھٹو دور مےں ےہ سلسلہ چلتا رہا لےکن ضےاء الحق کے دور حکومت اور بعد کے ادوار مےں ےہ محکمہ بے توجہگی کا شکار رہا ۔ ہمارے ہاں فےملی پلاننگ کا محکمہ بھی صحےح نہج پر پلاننگ کرنے سے محروم اور اپنے اہداف حاصل کرنے مےں سخت ناکام رہا ۔ اگر ہم نے وطن عزےز مےں شرح آبادی مےں اضافہ پر قابو پانے کےلئے موثر پالےسےاں نافذ نہ کےں تو نہ صرف معاشی زندگی کی رفتار مزےد سست ہو جائے گی بلکہ معےار زندگی بھی مزےد انحطاط کا شکار ہو جائے گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative