Site icon Daily Pakistan

پاکستان کی عالمی ساکھ میںمزید اضافہ

یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ 19 فروری 2026 کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والے غزہ امن بورڈ کے پہلے باضابطہ اجلاس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں نہ صرف غزہ کی صورتحال پر گفتگو کی بلکہ پاکستان کے حوالے سے بھی اہم بیانات دیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو پسند کرتے ہیں اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایک عظیم جنرل اور مضبوط شخصیت ہیں۔ ٹرمپ نے انہیں”ٹف فائٹر”قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے مضبوط رہنما پسند ہیں۔اپنے خطاب میں امریکی صدر نے پاک بھارت جنگ سے متعلق ایک انکشاف بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ اس دوران 11 طیارے مار گرائے گئے۔ ان کا یہ بیان علاقائی سکیورٹی اور دفاعی معاملات کے تناظر میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی قیادت کی تعریف ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان غزہ امن بورڈ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔مبصرین کے مطابق غزہ امن بورڈ کا قیام ایک ایسے مرحلے پر عمل میں آیا ہے جب غزہ دو سالہ شدید جنگ کے بعد بدترین انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ جنگ کے دوران وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی، بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن گیا اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ نوے ہزار ٹن اسلحہ استعمال ہونے اور ساٹھ ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہونے کی اطلاعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید پیچیدہ کیا۔ ایسے میں ایک مربوط، منظم اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ پلیٹ فارم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔واضح رہے کہ پاکستان کی اس اجلاس میں شرکت کئی پہلوؤں سے اہم ہے۔ یہ شرکت اسلامی ممالک کے اجتماعی فیصلے کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ اور ایک منصفانہ و پائیدار امن عمل کی حمایت ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سب سے زیادہ فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان کی موجودگی کو ایک ذمہ دار اور تجربہ کار شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں اس کی شمولیت اس کے اصولی مؤقف سے انحراف نہیں۔پاکستان کا دیرینہ مؤقف یہ ہے کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہے۔ایسے میں امن بورڈ میں شرکت کا مقصد فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو کر مؤثر کردار ادا کرنا اور فلسطینی عوام کے مفادات کا بہتر تحفظ یقینی بنانا ہے۔کسے معلوم نہیں کہ عالمی اقتصادی فورم 2026 کے موقع پر پاکستان نے سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکہ سمیت متعدد ممالک کے ساتھ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کیے تھے۔ اس اقدام کو وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل ہوئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی برادری غزہ میں پائیدار امن کے لیے اجتماعی حکمت عملی کی ضرورت کو تسلیم کر چکی ہے۔سنجیدہ حلقوں کے مطابق امن بورڈ کے بنیادی مقاصد میں مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت جامع امن فریم ورک پر عمل درآمد شامل ہے۔ تعمیرِ نو کے مرحلے میں عارضی رہائش کے بعد مستقل آبادکاری کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس کے تحت نئے رفح میں ایک لاکھ سے زائد رہائشی یونٹس، دو سو تعلیمی ادارے، ایک سو اسی ثقافتی و فنی مراکز اور پچہتر طبی مراکز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ توانائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آزاد تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے ذریعے غزہ کی معیشت کو بحال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ آئندہ دس برسوں میں غزہ کی معیشت دس ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے اور پانچ لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ 17 فروری 2026 کو اسلام آباد میں پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو نام نہاد”ریاستی اراضی”قرار دینے کے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کی۔ مشترکہ بیان میں اسے بین الاقوامی قانون، چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اسلامی ممالک نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقوں کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے اور دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شرکت کسی فوجی کارروائی میں خودکار شمولیت نہیں۔ کسی بھی ممکنہ سلامتی کردار کا فیصلہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ، قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔ پاکستان بلاک سیاست سے اجتناب کرتے ہوئے متوازن اور اصولی سفارت کاری کو ترجیح دیتا رہے گا۔اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر، واشنگٹن میں ہونے والا یہ اجلاس نہ صرف غزہ کے مستقبل کے لیے اہم ہے بلکہ پاکستان کی سفارتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے اور امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی قیادت کی تعریف اور امن عمل میں پاکستان کی فعال شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں استحکام اور عالمی امن کے قیام میں پاکستان کا کردار تسلیم کیا جا رہا ہے۔ایسے میں بجا طور پر یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس تمام پس منظر میں موثر عالمی قوتیں اپنا انسانی فریضہ بنھائیں گی۔

Exit mobile version