پاکستان کی یرغمال سیاست و نظام اور اس کا حل

7

پاکستان کی سیاسی، معاشی، انتظامی و معاشرتی صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے مخفی نہیں ، ایک طرف تو پاک بھارت سفارتی لڑائی اور جنگی ماحول اپنے عروج پر ہے دوسری طرف نائن الیون کے بعد عالمی سطح پر پھیلنے والے اسلاموفوبیا کے تناور درخت کے سائے نے پاکستان کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کے تحت اسلامیت و مغربیت کے مابین جاری کشمکش نے یہاں بھی اپنے پنجے گاڑھ لیے ہیں ایک طبقہ چاہتا ہے کہ مغربیت کا فروغ ہو لیکن اس راہ میں مزاحم اسلامی تہذیب کے پاسبان ہیں ، اس سے زیادہ نازک حالات مسائل کے انبار نے پیدا کر رکھے ہیں جن میں ;34;قانون اپنا اپنا;34; سب سے منہ زور ہے بظاہر تو سیاسی جماعتوں کے ;200;پسی اختلافات کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کے اداروں سے اختلافات نظر ;200;تے ہیں لیکن حقیقتاً اس وقت دو طبقات کی زبردست کشمکش چل رہی ہے جن میں ایک طبقہ عام عوام ہے دوسرا طبقہ اشرافیہ پہ مشتمل ہے یوں اس گھن چکر نے عوام کو ;200;دھا تیتر ;200;دھا بٹیر بناکے چھوڑا ہے، جس طرح ہمارے وزیراعظم ;200;دھے مہاجر ;200;دھے قائداعظم ;200;دھے پٹھان ہیں اسی طرح عوام بھی ہر لحاظ سے ;200;دھی ہوکر رہ گئی ہے، اکثریت کو سمجھ ہی نہیں ;200;رہی کہ ہو کیا رہا ہے بس عام ;200;دمی کی سوچ بجلی گیس کے بل سے شروع ہوکر ;200;ٹا چینی کے ریٹ پر جاکر ٹھہر جاتی ہے، ہر چند کہ یہی کہا جاتا ;200;رہا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ملک تباہ کردیا، نواز لیگ لوٹ گئی، متحدہ نے معاشی حق کا بیڑہ غرق کردیا، کپتان نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا لیکن اصل حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ساری سیاسی جماعتیں یرغمال ہیں خواہ سابق حکومتیں ہوں یا موجودہ سب کے سب کے ;200;شیانے شاخ نازک پہ قائم ہیں ، 2001کے بعد جہاں تمام عالم اسلام میں امریکی استعماریت اور سرمایہ دارانہ پالیسی پروان چڑھی ہے وہیں پاکستان بھی استعماری طاقتوں کی سرمایہ داروں کے زریعے اس کی کالونی بن کر رہ گیا ہے جس طرح مشرف دور حکومت میں اور سکے بعد امریکی دھونس دھمکی، مراعات اور پرکشش پیکیجز کے ذریعے پاکستانی سیاست کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے وہ سب کے سامنے ہے، اس گھناءونے کھیل کے اہداف بھی اب کسی سے مخفی نہیں ، اصل ہدف افواج پاکستان کو کمزور کرکے نہ صرف ایٹمی اثاثے ختم کروانا تھا بلکہ پاکستان کے حصے بکھرے کرنا اصل ہدف تھا جسے افواج پاکستان جس بہادری، حوصلہ، صبر اور دانشمندی سے ناکام بنایا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی،لیکن اس کھیل میں ریاست اور عوام کا کچومر نکل گیا ہے جو اب موجودہ حکومت سے بھی نا امید ہوکر غیبی مدد کی دعا گو ہے، عمران خان نے اپنی سیاست کا ;200;غاز کیا تو شاید ان کی شہرت ;200;ج کے مقابلے میں زیادہ تھی لیکن انتخابی سیاست میں کوئی خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی لیکن جب 2008کے بعد کپتان نے اصل عوامی مسائل پہ بات کرنا شروع کی تو عوام میں بھی بہت پسند کیا جانے لگے کپتان کو ملنے والی سپورٹ و عوامی حمایت دراصل عمران خان کی ذات کو دیکھ کر نہیں تھی اگر ایسا ہوتا تو بائیس سال پہلے ہی کپتان صاحب وزیراعظم ہوتے بلکہ یہ تو ان کے بدعنوانی، بدانتظامی اور لاقانونیت کیخلاف بیانیے کو دیکھ کر ان کی نیک نیتی کو محسوس کرکے لوگوں نے ان کے قافلے کو جوائن کیا لیکن افسوس کہ اس قافلے کو بھی سرمایہ داروں اور وڈیروں جاگیرداروں نے ہائی جیک کرلیا، المیہ دیکھیں دنیائے تاریخ میں یہ نظیر نہیں ملتی کہ کبھی مشکل وقت کے ساتھیوں کو کسی نے چھوڑ دیا ہو لیکن یہ غلطی کپتان سے ہوئی کہ اپنے پرانے ساتھیوں پہ نئے ;200;نےوالے سرمایہ داروں کو ترجیح دی گئی اور روایت کے مطابق اس بار بھی بجائے نظریہ و منشور کو اہمیت دیتے ایک بار پھر کپتان کو بڑا بت بناکر پیش کیا جانے لگا ہے جس طرح ;778177; میں نظریہ و منشور ختم ہوا اور الطاف حسین کو حرف ;200;خر بنالیا گیا،اسی طرح ن لیگ میں نوازشریف جبکہ ;808080; میں بھٹو خاندان کو خدائی حیثیت حاصل ہے حالانکہ یہ حقیقت سب پہ ;200;شکار ہے کہ جب ;808080;بنی تو لوگوں نے بھٹو کو نہیں ان کے بیانیے کو چنا تھا، دوسری سطح پر کپتان کی تحریک انصاف بھی اب سرمایہ دارانہ جماعت بن کر رہ گئی ہے اور کپتان بھی بے بس نظر ;200;تے ہیں ، ن لیگ تو شروع سے ہی سرمایہ داروں کی جماعت تھی جبکہ ;808080; محترمہ بینظیر کی شہادت کے بعد زرداری صاحب خود بھی سرمایہ دار بن بیٹھے تو پارٹی بھی سرمایہ داروں کی مرضی و منشا سے چلتی ہے لیکن بینظیر صاحبہ کا یہ کردار رہا ہے کہ وہ کبھی سرمایہ دار نہیں بنیں اور دیکھا جائے تو ہر بار ان کی حکومت سرمایہ داروں سے ٹکرانے کی وجہ سے ہی گئی اس کے علاوہ ایک اور بڑی طاقت بیورو کریسی ہے جس کا ہر فرد زمینی خدا ہے جو قانون کو اپنی مرضی سے چلاتا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی عوامی مسلسل عذاب میں مبتلا ہے، پاکستان میں اشرافیہ سیاستدانوں ، سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، بیوروکریسی پہ مشتمل ہے اور سب کا ;200;پس میں اتحاد و اتفاق ہے کہ قانون ان کی مرضی و منشا سے ہی چلنا ہے، کپتان نے ملکی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو موجودہ حکومت کو زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے سامنے مجبورا حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور روایتی سسٹم کا حصہ بننا پڑا، کپتان صاحب ;200;ج بھی کہتے ہیں کہ وہ نظام ٹھیک کرینگے ان کی ٹیم نے انہیں اصلاحات کے نام پہ ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا ہے اگرچہ بہت سے قوانین میں ترمیم کی ضرورت ضرور ہے لیکن مجموعی طور پر قانون خراب نہیں بلکہ قانون پہ عمل کروانے اور کرنےوالے خراب ہیں اگر انیل کپور کی فلم کی طرح مجھے ایک دن کےلئے سربراہ ریاست بنایا جاتا تو میں میں اصلاحات کو ثانوی درجے میں رکھتا اور اس ایک دن میں عدالت جاکر بیٹھ جاتا جو سول کیسز ہوتے ان کو صرف حل نہ کرواتا بلکہ سرکاری ;200;فیشلز کو کوتاہی و غفلت برتنے پر سخت سزا بھی دیتا، اگر یہ روایت پڑجائے عدلیہ سچی ہوجائے تو یقینا چند دنوں میں ملکی نظام درست ہوجائے، اگر سرکاری ;200;فیشلز کو قانون میں غفلت برتنے اور دہرے معیار پر سخت سزائیں دی جائیں ، عدلیہ سول کیسز کو بجائے تاریخ پہ تاریخ دینے کے دنوں میں نمٹائے، محض دس کیسز کی بنیاد پہ نہ صرف لاکھوں کیسز عدالتوں سے ختم ہوجائیں گے بلکہ پورے ملک کا نظام ٹھیک ہوجائےگا، لیکن بات وہی ہے کہ کرے گا کون;238; یہاں تو ای سی ایل لسٹ میں شامل ملزم کو جس کمشنر نے رشوت لیکر ملک سے باہر بھجوایا اسے انعام کے طور پر چیف سیکرٹری بلوچستان لگایا جاتا ہے، وزیراعظم، چیف جسٹس، ;200;رمی چیف صاحب اگر چاہتے ہیں کہ ملک ٹھیک ہو، عوام کو سکھ کا سانس ملے تو صرف تجزیاتی طور پر ہی ایک مہینے کےلئے سول کیسز میں یہ عمل اپنائیں تو پورا نظام ٹھیک ہو جائیگا، کوئی سرکاری افسر کسی بڑے کے کہنے پہ غلط کام نہیں کریگا کیونکہ اسے پتہ ہوگا کہ اسے سزا ملے گی، جب سرکاری اہلکار غلط کام نہیں کرینگے تو نظام ازخود درست ہوجائیگا ۔