پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ کابیان نہایت خوش آئند

22

دنیا بھر کے سامنے اب بھارت کا نام نہاد جمہوریت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر جبکہ وہ بذات خود دہلی میں موجودتھے تو اس موقع پر مودی نے جو شہریت کے حوالے سے غیر قانونی بل نافذ کیا ہے اس کیخلاف وسیع پیمانے پر بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے، ان ہنگاموں میں چار لوگ ہلاک ہوگئے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، پولیس اہلکار آر ایس ایس کے دہشت گردوں کو پتھراءو کیلئے اکساتے رہے، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی میں مسلم املاک کو نذر آتش کیا گیا ۔ مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا یہ سب کچھ پوری دنیا نے اس وقت دیکھا جب امریکہ کے صدر وہاں پر موجود تھے ۔ پھر سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ من موہن سنگھ سمیت تمام کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں دئیے گئے اعشائیے میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ۔ سونیا گاندھی نے اپنی پارٹی کے تمام ارکان کو پابند کردیا کہ وہ مودی کی جانب سے دئیے گئے عشائیے میں شرکت نہیں کریں گے ۔ یہ ہے بھارت کا مکروہ چہرہ جس ملک کے اندر کسی بھی شہری کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ۔ گوکہ ٹرمپ نے تقریر کے دوران پاکستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اچھا دوست ہے اور اس سے ہمارے شاندار تعلقات ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پہنچتے ہی احمد آباد گجرات میں سب سے بڑے کرکٹ اسٹیڈیم میں نریندر مودی کے سامنے نمستے ٹرمپ ریلی سے خطاب کرکے بھارتیوں کو حیران کردیا ، سامعین میں بے چینی پھیل گئی جبکہ پرجوش نعرے لگانے والے چپ ہوگئے اور سناٹا چھا گیا ۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اچھا دوست ہے جس کا دہشت گردی کیخلاف کردار مثبت ہے ، تعلقات میں بڑی پیشرفت کے آثار دیکھتا ہوں ، امید ہے خطے میں کشیدگی کم ہوگی، پاکستان کے ساتھ بہت مثبت انداز میں کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہمارے دلوں میں ایک خصوصی جگہ رکھتا ہے، امریکا ہمیشہ بھارتیوں کا مخلص اور وفا دار دوست رہے گا، سرحدوں کا تحفظ ہر ملک کا حق ہے ۔ دوسری جانب ٹرمپ کی بھارت آمد کے موقع پر مودی کے حامی آپے سے باہرہوگئے، نئی دلی میں شہریت کے متنازع قانون کےخلاف پرامن احتجاج کرنے والوں پر مودی کے حامیوں نے چڑھائی کردی جس کے ساتھ ہی جھڑپیں شروع ہوگئیں ،اس دوران 2عام مسلمان شہری محمد سلیمان اور شاہد علوی جاں بحق اور ایک پولیس ہیڈ کانسٹیبل کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں ، محمد سلیمان کا دہلی کے ظفر آباد علاقے سے تعلق جبکہ شاہد علوی کا تعلق اترپردیش کے بلند شہر سے ہے ۔ ظفر آباد، سلیم پور اور چاند باغ میں حالات کشیدہ ہوگئے ، بی جے پی رہنما نے کہاکہ تشدد سے گریز کیا جائے جس پر اسدالدین اویسی نے کہاکہ ہنگامے بی جے پی کے انہی رہنما کی وجہ سے ہو ئے،انہیں گرفتار کیا جائے ۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق شمال مشرق دہلی کے 10علاقوں میں پولیس نے دفعہ 144نافذ کر دی ہے ۔ بھارت کے منہ پر کتنا بڑا تھپر ہے کہ ایک ملک کے سربراہ کے دورے کے موقع پر اتنے بڑے ہنگامے ہوئے اور موردالزام مسلمانوں کو ٹھہرا رہا ہے جبکہ اسد الدین اویسی نے واضح طورپر کہاکہ یہ تمام تر ہنگامے بی جے پی کی وجہ سے ہوئے ہیں لیکن مودی ان پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہے کیونکہ بھارتی وزیراعظم کی پالیسی ہٹلر کی پالیسی ہے ۔ دیگر ہندو قومیتوں کیخلاف بھی بھارت میں کھلے عام تشدد روا رکھا جاتا ہے، مسلمانوں کو کبھی گاءو ماتا کے نام پر قتل کیا جاتا ہے تو کبھی مسلم علاقوں پر دھاوا بول دیا جاتا ہے پھر کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان بھارت سے نکل جائیں اگر اب بھی بین الاقوامی برادری بھارت کیخلاف ایکشن نہیں لیتی تو اس سے بڑا انہیں کیا ثبوت چاہیے ۔ ٹرمپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ کتنا ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ ایسے میں بھارت کی حد بندی انتہائی ضروری ہے ، مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکے ہیں ۔ پورے بھارت میں ہنگاموں کی آگ بھڑک رہی ہے ۔ لیکن مودی اپنے ظلم و ستم سے کسی طرح بھی باز نہیں آرہا ہے ۔ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے پورے خطے کا امن و امان تہہ و بالا ہے اب جبکہ امریکہ نے کہہ دیا ہے پاکستان ہمارا ایک اچھا دوست ہے پھر بھارت کو سمجھ جانا چاہیے کہ پاکستان خطے میں کتنی اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ بھارتی سرزمین پر ٹرمپ کا اتنا بڑا بیان بہت بڑی حیثیت رکھتا ہے اور یہ بھارت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے ۔

مہنگائی کے خلاف وزیراعظم کادوٹوک موقف

متعلقہ خبریں

لاہور:جعلی صحافی ساتھیوں سمیت گرفتار

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سے سخت اقدامات کے احکامات دئیے ہیں اور انہوں نے کہاکہ مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کو سزا ملنے تک میں کسی صورت چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔ اب یہ مخصوص ہورہا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ ہے اور وہ گراں فروشوں کیخلاف باقاعدہ کارروائی کرے گی ۔ نیزوزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ حکومتی توجہ کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے ، مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کی نشاندہی اور ان کو سزا دلانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔ عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے اور حکومت کی یہ کوشش ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے ۔ دریں اثنا بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ کمی لانے کے حوالے سے اپنی زیر صدارت اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ توانائی کا شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ علاوہ ازیں عمران خان نے معاونِ خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کے حقیقی تشخص کو ملکی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کی جائیں ۔ مزیدبرآں وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ملک میں سیاحت کے فروغ کےلئے آئندہ چھ ہفتوں میں وژن ماسٹر پلان ترتیب دینے کا عمل مکمل کیا جائے اور آئندہ مہینوں میں شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کی آمد کے پیش نظر ان کی سہولیات کےلئے پیشگی منصوبہ بندی اور انتظامات کیے جائیں ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئر مین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہامریکی صدر کا بھارت میں پاکستان بارے بیان بڑا خوش آئند ہے ، صدر ٹرمپ گفتار کے غازی تو بن گئے کردار کے غازی بننے تک انتظار کرنا چاہیے،وزیراعظم کی کسی جنگ کا حصہ نہ بننے کی بات کے اچھے نتاءج آرہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان کی فارن پالیسی بالکل ٹھیک ہے ،وزیراعظم کے اردگرد موجود لوگوں نے اچھے مشورے نہیں دئیے،مہاتیر محمدنے ملائیشیا کی ترقی کیلئے بہت کام کیا ہے ،ائیر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ ٹرمپ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت ہے ،بہت محتاط رویے سے خارجہ پالیسی چلانے کی ضرورت ہے،بھارتیوں کو ٹرمپ کے بیان سے بہت تکلیف ہوئی ہوگی،ملک میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ،دنیا کو بتا دیا ہے کہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ سینئرتجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی نے اپنی گفتگو میں کہاکہ امریکہ کو فیس سیونگ کی ضرورت تھی کہ طالبان سے بات چیت ہوجائے ،پاکستان نے بارہا مرتبہ کہا ہے افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے ،مسئلہ کشمیر ،ٹرمپ نے تین بار ثالثی کا کہا،بھارت نے اسے مسترد کردیا ،ڈونلڈ ٹرمپ چالاک امریکی صدر ہے ،لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی کمپین چلا رہا ہے ۔