Home » کالم » پاکستان کے خلاف ایک اور بین الاقوامی سازش
adaria

پاکستان کے خلاف ایک اور بین الاقوامی سازش

adaria

پاکستان کے خلاف ایک اور بین الاقومی سازش ایشیا پیسفک مشترکہ گروپ میں بھارت کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپی جانے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔جس سے نمٹنے کیلئے وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانشنل ایکش ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر کو ایک خصوصی مراسلہ لکھا ہے۔ایشیا پیسفک گروپ میں بھارت کی شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسد عمر نے ایف اے ٹی ایف کے صدر مارشل بیلنگزیا کو خط میں واضح کیا کہ ایف اے ٹی ایف کا جائزہ صاف، غیر جانبدار اور معروضیت پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ اقتصادی مفادات کو زک پہنچانے کے بھارتی عزائم کے بعد مشترکہ گروپ میں جائزہ کار کی حیثیت سے بھارتی موجودگی شفافیت پر مبنی جائزہ عمل کو ختم کر دے گی، پاکستان ایف اے ٹی ایف،آئی سی آر جی و مشترکہ گروپ کیساتھ کام کرنے اور ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے پر عزم ہے، تکنیکی بنیادوں پر اسیسمنٹ چاہتے ہیں۔ایک ایسے ماحول میں جب پاکستان اور بھارت جنگ کی سی صورتحال سے دوچار ہیں اور دنیا کودونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تصادم کا خطرہ ہے ،جبکہ دوسری طرف پاکستان کا کیس ایف اے ٹی ایف کے سامنے چل رہا ہے اس میں پاکستان کے ازلی دشمن کو اہم ذمہ داری تفویض کرنا جہاں غیرجانبدارانہ تقاضوں کے منافی ہے وہاں اس ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے بھی مترادف ہے۔وزیر خزانہ نے اپنے خط میں واضح کیاکہ بھارت، پاکستان کے بارے میں جانبدرانہ رائے اور عزائم رکھتا ہے جبکہ نئی دہلی کی جانب سے پاکستان کی حالیہ فضائی حدود کی خلاف ورزی اور دراندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور پاکستانی حدود میں بم گرانے کا جارحانہ اقدام اس دشمنی کا ایک اورمنہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے بھارتی تعصب سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارتی وزیر خزانہ کی جانب سے 18 فروری 2019 کو آئی سی آر جی کی عالمی کانفرنس میں پاکستان کو عالمی سطح پر بلیک لسٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس سے پاکستان کے معاشی مفاد کے خلاف نئی دہلی کے ارادوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاکستان کے معاشی مفاد کو نقصان پہنچانا بھارت کے ارادوں میں شامل ہے اور مشترکہ گروپ میں بھارت کی بطور نگراں موجودگی سے تمام مراحل جانبدار ہوجائیں گے۔وزیر خزانہ مراسلے میں ایف اے ٹی ایف کے صدر کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا مگر ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف اس امر کو یقینی بنائے کہ آئی سی آر جی کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور غیر متعصب ہو۔پاکستان کا یہ مطالبہ سوفیصد درست ہے کہ پاکستان اگر ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو یقینی بنانے کو عملی کوششیں کر رہا ہے تو دوسری طرف ادارہ بھی اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنائے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر پاکستان کو یہ حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ تعصب پر مبنی کسی بھی فیصلے کو یکسر مسترد کردے۔پاکستان نے گزشتہ برس جون میں بھی ایشیا پیسفک گروپ سے مذکورہ خدشہ کا اظہار کیا تھا مگر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔اس لیے گروپ میں بھارت کے بجائے کسی اور ملک کوچیئرمین شپ دی جائے کیونکہ بھارت پاکستان سے متعلق کھلم کھلاجانبدارانہ رائے اور مخاصمانہ عزائم رکھتا ہے۔FATF کا اگلا جائزہ اجلاس مئی یا جون میں ممکنہ طور پر کولمبو میں ہونے والا ہے۔ بھارتی مخالفت کے باوجود پاکستان پیرس میں ہوئے گزشتہ جائزے میں کامیاب رہا ہے۔جہاں تک ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر عمل درآمد کا تعلق ہے تو حکومت نے کالعدم تنظیموں کی درجہ بندی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے انہیں شدید خطرہ قرار دینے اور فنانشنل ٹاسک فورس کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے سخت سیکیورٹی کے قانونی، انتظامی، مالی اور تفتیشی پہلوؤں کے تحت تمام افراد اور ان کی حرکات و سکنات کی از سرِ نو جانچ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان بین الاقومی اداروں کی پابندیوں پر دل جان سے کاربند رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس سلسلے میں شکایات پیدا نہ ہوں۔ایف اے ٹی ایف ایک فورم ہے کے فیصلوں کی پابندی لازم نہیں مگر اس باوجود پاکستان کوشش کررہا ہے کہ مہذب قوموں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہے،تاہم دوسری طرف ناانصافی اور اعلامیہ جانبداری کی کسی بھی کوشش پر احتجاج اس کا بنیادی حق ہے۔ہمیں امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے صدر مارشل بیلنگزیا پاکستان کے اعتراض اور اس کے ٹھوس حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کو یہ اہم ذمہ داری سونپنے سے اجتناب کریں گے ۔

ہسپتالوں میں شیلٹر ہومزبنانے کا لائق تحسین فیصلہ
وفاقی حکومت نے فلاحی ریاست کی جانب ایک اور بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں شیلٹر ہومزبنانے کی منظوری دیدی ہے۔وزیراعظم اپنے دو روزہ دورے کے دوران لاہور میں ایوان وزیراعلیٰ کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ون آن ون ملاقات کی، اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم عمران خان کوصوبے کے امور پر بریفنگ دی، ذرائع کے مطابق عثمان بزدار نے عمران خان کو مختلف صوبائی وزرا کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا تحریک انصاف حکومت کی اولین ترجیح ہے، انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت جاری کی کہ ایسے تمام اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں جن میں عوامی مفادشامل ہو۔اس سلسلے میں انہوں نے پنجاب کے بڑے اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنانے کی منظوری بھی دی جو لائق تحسین اقدام ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور کے پانچ بڑے اسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنائے جائیں گے۔ شیلٹر ہومز بنانے کیلئے اپٹما کے گروپ لیڈر گوہر اعجاز کی سربراہی میں پانچ ممبر پر مشتمل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے، وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقوں کی دیکھ بھال ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست احساس کا نام ہے جو کمزور طبقوں کا سہارا بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بے گھر اور مستحق افراد کا سہارا بننے کی مہم میں مخیر حضرات کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا حوصلہ افزا ہے۔قبل ازیں بھی حکومت نے بڑے شہروں میں شیلٹر ہوم بنا رکھے ہیں جہاں روزانہ سیکڑوں لاواراث اور بے سہارا لوگوں کو چھت میسر ہوتی ہے۔جہاں تک ہسپتالوں میں شیلٹر ہومز بنانے کا فیصلہ ہے یہ بھی نہایت اہم اور خوش آئند اقدام ہے۔ہمارے ہاں ہسپتالوں میں مریضوں کیساتھ آئے ہوئے تیماردار مریض سے زیادہ مصیبت سے دوچار رہتے ہیں جہاں انہیں کئی کئی دن اورراتیں کھلے آسمان کے نیچے گزارنا پڑتیں ہیں،خصوصاً موسم کی شدت اور خرابی کی صورت میں تیمار دار کے مسائل دوگنا ہو جاتے ہیں۔حکومت کوان شیلٹرہومز کا دائرہ کار مزید بڑے شہروں کی ہسپتالوں تک بڑھانا چاہئے۔

About Admin

Google Analytics Alternative