Naghma habib 3

پاکستا ن عالمی عدالت کے فیصلے کا پابند نہیں

ماضی قریب میں بھارت کے دو فوجی افسر پاکستان میں پکڑے گئے ایک کو چائے کا کپ پلا کر اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ وہ جنگی قیدی تھا اُسے پوری عزت دی گئی پاک فضائیہ کے میس میں رکھا گیا وغیرہ وغیرہ جو دوسرا افسر پکڑا گیا وہ ایک تاجر کے روپ میں مبارک حسین پٹیل کے نام سے آیاجبکہ اُس کا نام کلبھوشن جادیو تھا اور وہ تاجر نہیں بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر تھا اور پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کرنے آیا تھالہٰذا اُس کو جاسوس ہی کا درجہ دیا گیا یہ اور بات ہے کہ پاکستان نے اپنی اعلیٰ روایات کی پاسداری کی اور اُسے افسر کی ہی درجہ بندی کے مطابق رکھا گیا جب تک کہ اُس کا جُرم ثابت نہ ہوا ۔ پاکستانی اداروں نے پکڑا تو اُس کو مبارک حسین پٹیل کے نام سے تھاباقی کی کہانی اُس نے خود سنائی، اُس نے خود بتایا کہ وہ کون ہے کیسے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پر ایک تاجر کے روپ میں کام کرنا شروع کیا اور بلوچستان اور وہاں سے کراچی آنے جانے لگاجہاں اُس نے متعدد تخریبی کاروائیوں کا اعتراف کیا ۔ اُس نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور شرپسندوں سے رابطے استوار کیے اور اعترافی بیانات میں اُن کے نام بھی بتائے اور اُس کے انہی اعترافی بیانات اور ثبوتوں کی بنیاد پر اُسے پھانسی کی سزا سنائی گئی اور چونکہ وہ ایک فوجی افسر تھا لہٰذا اُس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور اس عدالت نے ہی اُسے پھانسی کی سزا سنائی ۔ اس سارے عمل میں کوئی نکتہ کوئی مرحلہ ایسا نہ تھاجسے مروجہ بین الاقوامی اصولوں کے خلاف کہا جاسکے ۔ ایک طرف تو یہ ساری کہانی چلتی رہی دوسری طرف بھارت اس بات کا ہی انکاری تھا کہ کلبھوشن اس کی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جس کی خدمات ’’را‘‘ نے حاصل کی ہوئی ہیں لیکن جب اُسے سزا سنائی گئی تو اُس کے ملک نے اس پر احتجاج کیا اور عالمی عدالت انصاف کی طرف دوڑ پڑا ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک میں جاسوسی، تخریب کاری، دہشت گردی اور بغاوتوں میں ملوث ہو اور پھر جھوٹ اور فریب کے ذریعے ان پر پردہ نہ ڈالے ۔ اسی بھارت کے سر بجیت سنگھ، سر جیت سنگھ ، کشمیر سنگھ اور روندرا کاوشک پاکستان سے پکڑے گئے ۔ اسی بھارت نے تیس سال تک سری لنکا کے تامل ٹائیگرز کو اسلحہ،تربیت اور ہر قسم کا تعاون بہم پہنچاکر اُن کے ذریعے سری لنکا کے امن کو داءو پر لگائے رکھا اور اس بہت چھوٹے سے ملک میں علحدگی کی تحریک چلاتا رہا ۔ پاکستان میں کبھی بلوچستان اور کبھی سندھ میں قوم پرست بناتا رہا اور کبھی شمال مغربی سرحد پر افغانستان کے راستے دہشت گردوں کو ہر قسم کی مدد پہنچاتا رہا بلکہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں سرگرم عمل ہے لیکن پھر بھی وہ پاکستان پر ہی دہشت گردی کے الزامات لگاتا ہے اور خود کو دہشت گردی کا شکارکہہ کر اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے ۔ اس بار بھی اس نے یہی کیا ہے اور کلبھوشن کا کیس لے کر عالمی عدالت انصاف پہنچا اور ایک جاسوس کے لیے کونسلر رسائی کی درخواست دائر کر دی اور یہ بھی یاد رہے کہ کلبھوشن صرف جاسوس ہی نہیں دہشت گرد بلکہ دہشت گردی کے کئی واقعات کا ماسٹر مائنڈ بھی ہے اور بھارت عالمی عدالت انصاف کی ساٹھ سالہ تاریخ میں پہلا ملک ہے جو ایک ایسے شخص کے لیے کونسلر رسائی چاہ رہا ہے جبکہ پاکستانی وکیل اس کے خلاف تمام ثبوت مہیا کر چکے ہیں لیکن پھر بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت کو یہ رسائی دے دی جائے گی اور اگر ایسا کیا گیا تو گویا کسی بھی ملک کو یہ اجازت دے دی جائے گی کہ وہ دوسرے ملک میں جو چاہے کرے اسے یہ تسلی رہے گی کہ اُس کے جاسوس بلکہ دہشت گرد کو بھی آئندہ یہ سہولت فراہم کی جایا کرے گی جبکہ اس اجازت سے دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی بھی نفی ہو جائے گی ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1982 اور2008 کو ہونے والے معاہدوں کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ ایک دوسرے کے شہری قیدیوں کو کونسلر رسائی جُرم کی نوعیت دیکھ کر دی جائے گی تو اگر بالفرض ویانا کنونشن جس کی رو سے کسی بھی ملک کو دوسرے ملک میں اپنے شہریوں تک رسائی کا حق دیا گیا ہے یہ ممکن بھی ہو تو کیا دونوں فریق ممالک کے درمیان معاہدے کی حیثیت ختم کردی جائے گی اورکیا ایسا پھر دنیا کے کسی بھی ملک کے بارے میں کیا جائے گا یا یہ صرف پاکستان کے بارے میں ہو گا کیونکہ عالمی عدالت انصاف پر بھارتی دباءو ہے اور اس عدالت کے پندرہ رکنی بینچ میں ایک بھارتی جج کی موجودگی اس کی وجہ ہو سکتی ہے ۔ عالمی عدالت انصاف مقدمے کی سماعت مکمل کر چکی ہے اور 17جولائی2019کو اس انوکھے مقدمے کا فیصلہ سنایا جانا ہے اور اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ فیصلہ بھارت کی مرضی کے کافی حد تک مطابق ہو گا اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی وکیل خاور قریشی کے دلائل وزن دار نہیں تھے بلکہ بھارت کی مکرو فریب میں مہارت ہے ۔ بھارت نے پہلے پہل تو اس جاسوس کو اپنا نیوی افسر ماننے سے انکار کیا جبکہ وہ اس کا اقرار کر چکا تھا لیکن جب دنیا کے سامنے یہ حقیقت آگئی اور پورے ثبوتوں کے ساتھ آگئی تو پھر وہ متحرک ہو گیا اور شسما سوراج نے اُسے بھارت کا بیٹا قرار دے کر عالمی عدالت انساف کا رُخ کیا ۔ اب 17جولائی کو اس مقدمے کا جو بھی فیصلہ آئے اور اگرمتوقع طور پر بھارت کے حق میں بھی ہو تو بھی یہ یاد رہے کہ پاکستان اس فیصلے پر عملدرآمد کا پابند نہیں اور وہ بھی خاص کر دونوں ملکوں کے درمیان موجود معاہدے کی صورت میں ،جس کی رو سے گرفتار کرنے والا ملک جُرم کی نوعیت کے مطابق خود یہ طے کرے گا کہ کونسلر تک رسائی دی جائے یا نہیں اگرچہ ویانا کنونشن اس کی اجازت دے بھی دے ۔ بھارت نے اس کنونشن کے آرٹیکل 36کے مطابق رسائی مانگی جس میں کہا گیا ہے کہ بھیجنے والی ریاست کا کونسلر اُس کے گرفتار شدہ شہریوں کو مل سکتا ہے تو کیا جادیو کے تمام اقبالی بیانات کے بعد بھاریہ ایک حیرت انگیز خواہش ہے جس پر عالمی عدالت انصاف کو غور کرنا ہو گا ۔ ایک توقع یہ بھی ہے کہ عالمی عدالت انصاف یہ فیصلہ دے کہ کلبھوشن کا مقدمہ سول عدالت میں لڑا جائے اگرچہ یہ بھی پاکستان کی ہی عدالت ہو گی تاہم اس طرح بھارت مزید وقت حاصل کر لے گا اور دوسرا اعتراض اس فیصلے پر یہ ہے کہ فوجی عدالت کا فیصلہ بھی مکمل ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے لہٰذا اس پر کسی شک کی نہ وجہ ہے نہ گنجائش ۔ اب دیکھئے عالمی عدالت انصاف واقعی انصاف پر مبنی فیصلہ کرتی ہے یا بھارت کے دباءو میں آجاتی ہے ۔ بہر حال پاکستان کو کسی بھی صورتِ حال کے لیے مکمل طور پر تیار ی کر لینی چاہیے تاکہ حالات کو اپنے مطابق قابو کیا جاسکے ۔ ت یہ مان رہا ہے کہ اس کو بھارت نے بھیجا تھا اور جبکہ وہ اعتراف کر چکا ہے کہ اُس نے دہشت گردی اور سبوتاژ کی کاروائیاں کیں ہیں ، کروائی ہیں ، یا اُن میں حصہ لیا ہے تو کیا یوں پورے بھارت کو ہی دہشت گرد ملک قرار نہیں دیا جانا چاہیے اور کیا عالمی عدالت انصاف ایسا کرنے کی ہمت رکھتی ہے جبکہ دوسرا نکتہ اس میں یہ ہے کہ یہ آرٹیکل جاسوس اور خاص کر دہشت گرد کے لیے نہیں اور آج کل جس طرح دہشت گردی نے دنیا کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے کیا میڈیا پر پوری دنیا کے سامنے اعترافِ جُرم کرنے والے دہشت گرد کو ایک پُرامن شہری سمجھ کر اُسے وہ سہولیات دی جائیں جو ایک عام شہری کو دی جاتی ہیں اور کیا پاکستان نے کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کو اُس سے ملاقات کی اجازت دے کر کچھ زیادہ ہی انسانی ہمدردی اور شرافت کا ثبوت نہیں دیا اور کیابھارت نے کبھی ایسا کیا یا اس سے ایسی توقع کی جا سکتی ہے ۔ اُس کا رویہ پاکستانی قیدیوں کے ساتھ ہمیشہ انسانیت سے گرا ہو اہی رہا ہے چاہے وہ جنگی قیدی ہی کیوں نہیں تھے بلکہ 1971 کے جنگی قیدیوں کو تو فرار کی کوشش میں چند انچ کے فاصلے سے بھی گولی ماری گئی ۔ یہاں میں ایک بار پھر سپاہی مقبو ل حسین کا حوالہ دونگی جو 1965کی جنگ کا قیدی تھا اور چالیس سال تک قید رکھا گیا جہاں اس کی زبان کا ٹی گئی ۔ ابھی نندن کی رہائی کے بعد پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی لاش پاکستان بھیجی گئی تو یہ ہے بھارت کا رویہ جنگی قیدی اور عام قیدیوں کے ساتھ لیکن وہ اپنے جاسوس ہی نہیں دہشت گرد قیدی کے لیے کونسلر رسائی اور معافی چاہ رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں