کالم

پاک بحرین تعلقات، ابھرتی سٹریٹجک شراکت

وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ بحرین نے دونوں ممالک کے درمیان رشتے کو ایک بار پھر سفارتی اور سٹریٹجک توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ دورہ محض رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ نہیں تھا بلکہ اس نے خلیجی خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی و سیکیورٹی ماحول میں پاک بحرین تعلقات کو نئے وژن، اعتماد اور نئی حکمتِ عملی سے جوڑ دیا ہے۔ بحرینی قیادت کی جانب سے دیا گیا پرتپاک استقبال، اعلی سطحی مذاکرات اور وزیراعظم پاکستان کوآرڈرآف بحرین فرسٹ کلاس کا اعزاز یہ سب اس بدلتے ہوئے رجحان کا واضح اظہار ہیں کہ اب پاکستان کو خلیج میں فعال اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ پاکستان اور بحرین کے تعلقات کی بنیاد 1971 میں رکھی گئی، مگر اس رشتے کا اصل سرمایہ وہ لاکھوں پاکستانی ہیں جنہوں نے بحرین کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور یوں معاشرتی، تہذیبی اور معاشی روابط کو ایسے مضبوط پل میں بدل دیا جس پر سفارتی تعلقات کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ اسی اعتماد نے 1985 میںجوائنٹ پروگرام ریویو گروپ کی بنیاد رکھی، جس کے ذریعے دفاعی تعاون، فوجی تربیت اور میری ٹائم سیکیورٹی جیسے حساس شعبے مضبوط فریم ورک کے تحت آگے بڑھے۔حالیہ مذاکرات میں دفاعی تعاون کو نہ صرف مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا بلکہ اسے زیادہ مربوط، تکنیکی اور مستقبل بنیاد سمت میں لے جانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں، سمندری حدود کی حفاظت، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور دفاعی پیداوار میں تعاون یہ سب اس بدلتی ہوئی خطی حقیقت کا تقاضا ہیں جس میں خلیجی ریاستیں پاکستان کو ناگزیر سٹریٹجک پارٹنر سمجھنے لگیں ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تناظر میں یہ پیش رفت مزید معنی خیز ہو جاتی ہے۔اقتصادی میدان میں دونوں ممالک کا تجارتی حجم اس وقت تقریبا 550 ملین ڈالر ہے جسے اگلے چند برسوں میں بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ یہ ہدف محض اعداد کا کھیل نہیں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے فوڈ سکیورٹی، آئی ٹی، توانائی، تعمیرات، صحت اور تجدیدی توانائی جیسے شعبوں پر کھلنے کی دستک ہے۔ ویزا پالیسی میں نرمی، کاروباری سہولتوں میں اضافہ، اور بندرگاہی و لاجسٹکس تعاون خصوصا کراچی اور گوادر کو بحرینی بندرگاہوں سے جوڑنے کے منصوبے، دونوں ملکوں کے درمیان معاشی انضمام کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔عوامی روابط کا شعبہ ہمیشہ پاک بحرین تعلقات کا دل رہا ہے۔ بحرین میں پاکستانی کمیونٹی نہ صرف محنت کش اور معیاری افرادی قوت فراہم کرتی ہے بلکہ دونوں ملکوں کی سماجی شناختوں کے درمیان مضبوط پل بھی ہے۔ پاکستان میںکنگ حمد یونیورسٹی آف نرسنگ اینڈ ایسوسی ایٹڈ میڈیکل سائنسزکا قیام اسی بے لوث دوستی اور باہمی احترام کی علامت ہے،۔خطے کی جیوپولیٹیکل حقیقت اس وقت تیزی سے بدل رہی ہے۔ خلیجی ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں کو متنوع بنا رہے ہیں؛ علاقائی سکیورٹی کو صرف بڑی طاقتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہتے؛ اور مشرقِ وسطی کے تنازعات کے باوجود مستقبل کی پالیسیوں کو معاشی استحکام اور سٹریٹجک خودمختاری کی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کا مضبوط ہونا خاص طور پر دفاعی اور اقتصادی دونوں محاذوں پر نہ صرف منطقی ہے بلکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دونوں حکومتیں طے پانے والے سمجھوتوں، MoUs اور وعدوں کو عملی اقدامات میں ڈھال دیں، تو مستقبل میں کئی ٹھوس نتائج سامنے آ سکتے ہیں: سیکیورٹی تعاون کی نئی جہتیں۔ دوطرفہ تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر سے متجاوز ہو کر نئے صنعتی و تکنیکی منصوبوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اگر سیاسی عزم، شفافیت اور اعتماد برقرار رہے، تو پاکستان اور بحرین کے تعلقات نہ صرف ماضی کی برادری کی جھلک دیں گے بلکہ مستقبل کے علاقائی توازن میں ایک اساسی ستون کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاک بحرین تعلقات کا سفر اب دوستی سے بڑھ کر شراکت، اور شراکت سے آگے بڑھ کر ایک ہمہ جہتی سٹریٹجک حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے