Home » کالم » پرا نے دہلی کے علاقے ۔ ہندومسلم فسادات کے دہانے پر

پرا نے دہلی کے علاقے ۔ ہندومسلم فسادات کے دہانے پر

اپریل مئی رواں برس 2019 میں بھارت میں ہونے والے لوک سبھا چناءو میں نریندرامودی ایک بار پھر پانچ برس کےلئے دیش کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے دنیا کو یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اْنہوں یعنی مسٹر مودی;39;بی جے پی اورآرایس ایس سمیت بھارت کی تمام ہندوفرقہ ورانہ علبردار شدت پسند تنطیموں نے ;39;بھارت کو ایک ہندو دیش;39; بنانے کے کیسے کیسے جنونی نعرے نہیں لگائے مسلمانوں کے خلاف انتخابی ریلیوں میں بھارتی نڑاد مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان دشمنی میں کیا کیا بڑکیں نہیں ماری گئیں جس کی ابتدا مودی اور اْن کے حواریوں نے عین انتخابات کے آغاز پر بھارتی خفیہ ادارے ;39;را;39; کو استعمال کرکے پلوامہ خود کش حملے کا الزام میں پاکستان کو کیسے ملوث کیا گیا;238; پلوامہ خود کش حملہ کی اب تک شفاف اورغیر جانبدار تحقیقات صرف اس وجہ سے نہیں کرائی جارہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں اس حملہ کی مشکوک کڑیاں بھارتی انتظامیہ کے اندر کے یقینا جاملتی ہیں آج یہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ اگلے پانچ برس کے لئے دوبارہ منتخب ہونے والے وزیراعظم مودی نے اب تک ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں آج بھی دنیا کے غیر متعصب اور غیر جانبدار میڈیا کے ذراءع یہی کہہ رہے ہیں کہ آر ایس ایس ایک کثیر المذاہب;39;کثیر الثقافتی;39;کثیر النسلی اور ذات پات کے غیر انسانی ماحول کے شکجنے میں دبے ہوئے ملک کو;39;ایک ہندو راشٹریہ دیش;39;بنانے کے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کی دوبارہ سے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر کوششیں شروع کردی گئی ہیں ہم پاکستانی اور دنیا کے پْرامن طبقات آج تک نہیں بھولے کہ آرایس ایس کے ایک جنونی قاتل ;39;گوڈسے;39; نے دیش کے سب سے پہلے عدم تشدد کی علامات سمجھنے والے گاندھی جی کو کس بیدردی سے گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا حس ہوگئی جناب، گزرے ان انتخابات میں بی جے پی نے بھارت میں بدنام ترین جنونی اور عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہونے والی ایک ساگھویہ پرگیہ دیوی کو کو بھی لوک سبھا کا ٹکٹ دیدیا اور جو چناو جیت چکی ہیں جن کا نعرہ یہی ہے کہ بھارت صرف ہندووں کا دیش ہے غیر ہندووں کو بھارت کی سرزمین فورا چھوری دینی چاہیئے یوں تو اس منافرانہ زہریلی سوچ رکھنے والے سبھی جنونی کارسیوک برصغیر کی آزادی سے پہلے ہی اس دیش کو ;39;ہندوراشٹریہ دیش;39;بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے لیکن اْن کا یہ خواب آج تک خواب ہی رہا یہ بڑا المیہ ہے کہ دنیا میں مذاہب کی تفریق کے نام پر ابھرنے والے ہر جنونی تشدد کو غیر انسانی رویہ کہہ کر اس کی کھلی مذمت کی جارہی ہے دنیا کے پْرامن طبقات جو عالمی سطح کی سیاسی وسفارتی چوکیداری کرنے میں ہمہ وقت اپنے آپ کو نمایاں رکھتے ہیں وہ نریندرامودی جیسے انتہا پسند جنونی مذہبی منافرت رکھنے والی سوچ کے حامل شخص کے بھارت میں دوبارہ انتخاب جیتنے پر جہاں اْس کی ہلہ شیری کررہے ہیں یا اْسے ;39;مبارک باد;39; دے رہے ہیں اْس سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ وہ پاکستان کے مشرقی بارڈر پار اپنے ملک میں مذہبی عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو مزید بڑھاوادے گا یہ ایسے غیر انسانی سانحات اور المیوں سے بھارت کو آئندہ کےلئے محفوظ بنانے کی کوئی اپنی انسانی ذمہ داری نبھائے گا یا نہیں ;238; دنیا کوشش کرلے مگر ہم پاکستانیوں کو اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا بھارت میں صدیوں سے رہنے والے کروڑوں مسلمان اگلے پانچ برس کے لئے ہونے والے لوک سبھا کے چناو کے بعد مودی کو دوبارہ وزیراعظم بننے پر شدید خوف وہراس کی کیفیت میں مبتلا ہیں اْس کی کچھ بنیادی وجوہات ہم پاکستانیوں سے زیادہ بھارت میں آباد مسلمان برابر محسوس کررہے ہیں اگلے پانچ برس مودی صاحب کیا اقدامات کریں گے یہ تو وقت بتائے گا کیونکہ اْنہوں نے اپنے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارتی مسلمان جو ایک واضح اکثریتی ;39;اقلیت;39; ہے اْن کے ساتھ امتیازی برتاو کتنا برتا جارہا ہے ایک اندازے کے مطابق مودی کی حکومت نے اپنے گزشتہ پانچ برس سب سے پہلے آر ایس ایس سے ہمدردی رکھنے والوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا مودی کابینہ میں سادھو اور سادھوی شامل ہوئے;39; بی جے پی نے انڈین کونسل آف ہسٹو ریکل ریسرچ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا، فلم اینڈٹیلی ویڑن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا، جیسے اہم اداروں کے اہم عہدوں کے علاوہ مختلف ریاستوں کے گورنروں کے عہدوں پر سو یم سیوکوں کو فائز کیا گزشتہ پانچ برس کے دوران وزیراعظم کے علاوہ ان کی کابینہ کے سات ارکان ایسے تھے جن کی پوری جوانی آر ایس ایس کے سرگرم سیوک کی حیثیت سے گزری ہے مودی حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آر ایس ایس کو خوش کرنے کےلئے دریائے سرسوتی کی محکمہ آثار قدیمہ کی مدد سے تلاش کروا رہی ہے جس کا اب تو نام و نشان تک مٹ گیا ہے اس دریا کا ذکرصرف ہندووَں کی کتابوں میں موجود ہے مودی حکومت اپنے گزرے اقتدار کے برسوں میں سب سے پہلے ملک کی 31اسمبلیوں کے منجملہ کم سے کم 20پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں رہی اْس وقت 11پر اسکا قبضہ تھا اس کام کو پوراکرنے کیلئے آر ایس ایس کی تمام ذیلی تنظیموں نے اپنے کیڈر کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر دیا تھا گزشتہ70برسوں کے دوران پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک میں مسلم ووٹوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے کوئی جماعت اگر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو اسطرح ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اقلیتوں کو خوش کر رہی ہے نتیجہ میں اس پارٹی کو اکثریتی ووٹوں سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے دو مرحلوں کی حکمت عملی بھی تیار کی ایک تو قومی سطح پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا(جو حاصل کی جاچکی ہے) اور دوسرے یہ کہ ریاستوں کی اسمبلیوں پر قبضہ کر کے ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی اکثر یت حاصل کرنا ضروری ہوگا ملک میں سیاسی، سماجی، تہذیبی تبدیلی لانے کے لئے صرف مرکز پر اقتدار کافی نہیں ہے اس کے لئے ریاستوں میں بھی اقتدار پر ہونا ضروری ہے آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری نے راءٹر کو بتایا کہ 2014کی فتح صرف ایک شروعات ہے اور ہمارے طویل مدتی مشن کا نقطہ آغاز بھی ہے جیسے اْوپر بیان ہوا کہ چاہے بھارت کی مرکزی حکومت ہو یا ریاستیں حکومتیں یہ جگہ یہ پوائنٹ بہت سختی سے نوٹ کیا جاتا ہے کہ پولیس کے محکمہ میں کسی مسلمان تو درکنار کسی بھی غیر ہندو اور جو آرایس ایس کی سفارش لائے صرف اْسی کو پولیس اور نیم پیرا ملٹری فورسنز میں بھرتی کیا جائے یہ ہے آرایس ایس کا نیابھارت جہاں اب نئی دہلی سے لیکر واہگہ تک اور واہگہ سے لیکر;39;سیون سسٹر ریاستوں اور بنگال تک اور لداخ سے ممبئی کے ساحلوں تک ایک فرقہ ورانہ ہندو دیش کے قیام کو ممکن بنانے کی مذموم کوشش;238;جس کی ایک تازہ جھلکیاں بطور نمونہ اب آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوچکی ہیں نئی دہلی سے منسلک پرانی دہلی کے علاقے لال کنواں محلہ،جامع مسجد محلہ، چاندنی چوک اور ان سے جڑے ہوئے دیگر علاقوں میں گزشتہ ہفتہ سے تادم تحریر ایک بہت ہی معمولی سے اختلاف کو بہانہ بناکر ;39;ہندومسلم کشیدگی;39; پیدا کی گئی جہاں ایک مسلم نوجوان نے 30 جون کی رات اپنی موٹر سائیکل غلط پارک کی جسے وجہ بناکر بجرنگ دل کے غنڈے جو رات گئے تک گلیوں اور چوراہوں پر بیٹھے رہتے ہیں ہر آنے جانے والے مسلمانوں پر جملے کستے ہیں آج ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے مقامی پولیس نے اب تک کئی شکایات اْن تک پہنچائی جانے کے باوجود بجرنگ دل کے ہندو غنڈوں کی غنڈہ گردی اور مسلمان نوجوانوں کو تشدد کرنے کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورلال کنواں سمیت پرانی دہلی کے ان علاقوں کے مسلمان عوام خوف وہراس کے عدم تحفظ کا شکار ہیں اگر دہلی حکام نے یونہی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور علاقہ میں کشیدگی اور خوفزدگی کا یہی مہیب ماحول برقرار رہا چونکہ یہاں کا کاروبار ایک ہفتے سے بند ہے اور تنازعہ بڑھا تو علاقہ میں فسادات کی آگ بھڑک سکتی ہے چونکہ اب دوسرے علاقوں سے بھی مسلمان اس علاقہ میں آنا شروع ہوگئے ہیں دونوں اطراف سے پْرجوش مذہبی نعرے بازیاں ہورہی ہیں اور دہلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی جسے وہ بھنگ پئے ہوئے ہو اور;39;مودی زندہ باد ۔ ہندوایکتا زندہ باد;39; کے نعروں کی تپش کے جواب میں کبھی بھی مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑے گا لہٰذا نئی دہلی کی حکومت فوراً ہوش کے ناخن لے کیونکہ پرا نے دہلی میں ایک ;39;فرقہ ورانہ فسادات کے شروع ہونے کےلئے ماحول پوری طرح پک چکا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative